settings icon
share icon
سوال

مَیں مکاشفہ کی کتاب کو کیسے سمجھ سکتا/سکتی ہوں؟

جواب


بائبل مُقدس اور بالخصوص مکاشفہ کی کتاب کی تفسیر کرنے کی کُلید علم التفسیر کے اصولوں سے واقف ہونا ہے۔ علم التفسیر تفسیر کے اصولوں کا مطالعہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بائبل کی تفسیر کرنے کا طریقہ کار ہے۔ باقاعدہ علم التفسیر یا بائبل کی باقاعدہ تفسیر کا مطلب ہے کہ جب تک آیت یا پیراگراف واضح طور پر اشارہ نہ دے کہ مصنف علامتی زُبان استعمال کررہا ہے، ہمیں اُسے عام مفہوم یعنی لغوی معنی میں ہی سمجھنا چاہیے۔ اگر جملے کے قدرتی /لفظی و لغوی معنی میں مفہوم واضح ہو رہے ہوں تو ہمیں دوسرے معنی کی تلاش نہیں کرنی چاہیے۔ اِس کے علاوہ، جب یہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ مصنف نے رُوح القدس کی رہنمائی سے وہی کچھ لکھا ہے جو وہ سمجھانا چاہتا ہےتوہمیں الفاظ یا فقروں کے ساتھ معنی منسوب کر کے ہر آیت کو رُوحانی بنانے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔

ایک مثال مکاشفہ 20باب ہے۔ بہت سے لوگ ایک ہزار سالہ دور کے ساتھ کئی ایک معنی منسوب کرتے ہیں۔جبکہ اِس حوالے کی زُبان و بیان کسی بھی طرح دلیل نہیں دے رہے کہ ایک ہزار سالہ دور کا حوالہ ایک ہزار سال کی لفظی مُدت کے علاوہ کسی بھی اور معنی کے ساتھ دیا جائے۔

مکاشفہ کی کتاب کا سادہ سا خاکہ مکاشفہ1باب 19 آیت میں ہی ملتا ہے۔ پہلے باب میں زندہ اور جلالی مسیح یوحنا کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے۔ مسیح یوحنا کو ہدایت دیتا ہے کہ "پس جو باتیں تُو نے دیکھیں اور جو ہیں اور جو اِن کے بعد ہونے والی ہیں اُن سب کو لکھ لے"۔ جو باتیں یوحنا نے پہلے ہی دیکھی تھیں وہ پہلے باب میں درج ہیں۔ وہ باتیں "جو ہیں" یوحنا کے موجودہ دور کی باتیں تھیں اور 2-3 ابواب میں درج ہیں۔ اور جو باتیں "اِن کے بعد ہونے والی ہیں" مستقبل کی باتیں تھیں جن کا ذکر 4-22ابواب میں ملتا ہے۔

عام طور پر بات کی جائے تو ، مکاشفہ کے 4-18 ابواب کا تعلق دُنیا کے لوگوں پر نازل ہونے والی خُدا کی عدالت کے ساتھ ہے۔ یہ عدالت کلیسیا کے لئے نہیں ہے (1 تھسلنیکیوں 5 باب 2، 9 آیات)۔ عدالت کے آغاز سے پہلے کلیسیا کو ایک واقعے میں اُٹھا لیا جائے گا جسے ہم "کلیسیا کے اُٹھائے جانے " کے واقعے کے طور پر جانتے ہیں اور جس کے لیے انگریزی اصطلاح Rapture استعمال کی جاتی ہے۔ (1 تھسلنیکیوں 4 باب 13-18 آیات؛ 1 کرنتھیوں 15 باب 51-52 آیات)۔ 4-18 ابواب "یعقوب کی مصیبت کے وقت" یعنی اسرائیل کی مصیبت کا ذکر کرتے ہیں (یرمیاہ 30 باب 7 آیت؛ دانی ایل 9 باب 12آیت، 12 باب 1آیت)۔ یہ غیر ایمانداروں کی خُدا کے خلاف بغاوت کی وجہ سے عدالت کا وقت ہو گا ۔

مکاشفہ 19باب مسیح کی دُلہن یعنی کلیسیا کے ساتھ مسیح کی آمد کا ذکر کرتاہے۔ مسیح حیوان اور جھوٹے نبی کو شکست دے کر اُنہیں آگ کی جھیل میں ڈال دیتا ہے۔ 20باب میں مسیح شیطان کو باندھ کر اتھاہ گڑھے میں ڈال دیتا ہے۔ پھر مسیح زمین پر اپنی ایک ہزار سالہ بادشاہت قائم کرتا ہے۔ ایک ہزار سال کے آخر پر ، ابلیس کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ خُدا کے خلاف ایک بغاوت کی قیادت کرتا ہے۔ جلد ہی اُسے شکست دی جاتی ہے اور اُسے ہمیشہ کے لئے آگ کی جھیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پھر حتمی عدالت کا وقت آتا ہےیعنی غیر ایمانداروں کی عدالت جب اُنہیں آگ کی جھیل میں ہمیشہ کے لئے ڈال دیا جاتا ہے۔

21اور 22ابواب ابدیت کا ذکر کرتے ہیں۔ اِن ابواب میں خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ ہم ہمیشہ کے لئے اُس کے ساتھ رہیں گے۔ مکاشفہ کی کتاب قابلِ سمجھ ہے۔ اگر اِس کتاب کے معنی مکمل طور پر معمہ ہوتے تو خُدا ہمیں ایسی کتاب کبھی نہ دیتا۔ مکاشفہ کی کتاب کو سمجھنے کی کُلید ممکنہ طور پر اِس کی لفظی/لغوی تفسیر کرنا ہے ، کیونکہ یہ وہی کچھ کہتی ہے جو اِس کا مطلب ہے اور اِس کا وہی مطلب ہے جو یہ کہتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں مکاشفہ کی کتاب کو کیسے سمجھ سکتا/سکتی ہوں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries