settings icon
share icon
سوال

کیا خدا کی محبت مشروط ہے یا غیر مشروط ؟

جواب


جیسا کہ بائبل میں بیان کیا گیا ہےکہ بنی نوع انسان کے لیے خُدا کی محبت اس لحاظ سے واضح طور پر غیر مشروط ہے کہ خدا کے لیے انسانوں کے جیسے بھی رجحانات کیوں نہ ہوں اُس کے باوجود انسان کے لیے اُس کی محبت کا اظہار اُس کے محبت بھرے کاموں سے ہوتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں خدا اپنے پیاروں سے کسی بھی شرط کے بغیر محبت کرتا ہے۔ وہ محبت کرتا ہے کیونکہ محبت کرنا اس کی فطرت کا حصہ ہے (1یوحنا 4باب 8آیت)۔ یہی محبت اُسے شفقت آمیز عمل کی طرف لے جاتی ہے: " وہ اپنے سُورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے اور راست بازوں اور ناراستوں دونوں پر مینہ برساتا ہے۔"(متی 5باب 45آیت)۔

خُدا کی محبت کی غیر مشروط نوعیت انجیل میں نہایت واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انجیل کا پیغام بنیادی طور پر بنی نوع انسان کوالٰہی طور پر بچانے کی کہانی ہے۔ جب خُدا نے اپنے باغی لوگوں کی حالتِ زار پر غور کیاتو اُس نے اُنہیں اُن کے گناہ سے بچانے کا عزم کیااور یہ عزم اُس کی محبت پر مبنی تھا (افسیوں 1باب 4-5آیات)۔ رومیوں کی کلیسیا کے نام پولس رسول کے خط میں سے اُس کے الفاظ سنیں:

" کیونکہ جب ہم کمزور ہی تھے تو عَین وقت پر مسیح بے دِینوں کی خاطِر مُؤا۔ کسی راست باز کی خاطر بھی مُشکل سے کوئی اپنی جان دے گا مگر شاید کسی نیک آدمی کے لئے کوئی اپنی جان تک دے دینے کی جُرأت کرے۔ لیکن خُدا اپنی مُحبّت کی خُوبی ہم پر یُوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطِر مُؤا"(رومیوں 5باب 6-8آیات)۔

رومیوں کی کلیسیا کے نام خط کے مطالعہ سے ہم سیکھتے ہیں کہ ہم اپنے گناہ کی وجہ سے خُدا سے جُدا ہو گئے ہیں۔ ہم خُدا کے ساتھ عداوت کی حالت میں ہیں اور اُس کا غضب بے دینوں پر اُن کی ناراستی کے سبب سے ظاہر ہو رہا ہے (رومیوں 1باب 18-20آیات)۔ ہم خُدا کو مسترد کرتے ہیں اور خُدا ہمیں ہمارے گناہ کے حوالے کر دیتا ہے۔ ہم یہ بھی سیکھتے ہیں کہ ہم سب نے گناہ کیا ہے اور خدا کے جلال سے محروم ہو گئے ہیں (رومیوں 3باب 23آیت) اور یہ کہ ہم میں سے کوئی بھی خدا کو تلاش نہیں کرتا ؛ہم میں سے کوئی بھی وہ کام نہیں کرتا جو اُس کی نظر میں بھلا ہے (رومیوں 3باب 10-18 آیات)۔

خُدا کے ساتھ ہماری عداوت اور دشمنی کے باوجود (جس کے لیے خُدا ہمیں مکمل طور پر تباہ کرنے پر بالکل راست ہے) خُدا نے اپنے بیٹے یسوع مسیح کو ہمارے گناہوں کے کفارہ ( خدا کے راست غضب کو ٹھنڈا کرنے کے تقاضے )کے طور پر دینے کے وسیلہ سے ہم پر اپنی محبت کو ظاہر کیا۔ خُدا نے ہمارے گناہ کے کفارے کی شرط کے طور پر ہمارے بہتر ہونے کا انتظار نہیں کیا۔ بلکہ خدا ایک انسان بننے اور اپنے لوگوں کے درمیان رہنے کے لیے تیار ہوا (یوحنا 1باب 14آیت))۔ خُدا نے ہماری بشریت-جس کا مطلب پوری طرح انسان ہونا ہے - کا تجربہ کیا اور پھر خود کو اپنی مرضی سے ہمارے گناہ کے عوضی کفارہ کے طور پر پیش کیا۔

غیر مشروط محبت پر مبنی چھٹکارے کا یہ الٰہی منصوبہ خود کو قربان کرنے کے ایک مہربان عمل کا سبب بنا۔ جیسا کہ یسوع نے فرمایا ہے کہ "اِس سے زِیادہ مُحبّت کوئی شخص نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لئے دے دے"(یوحنا 15باب 13آیت )۔ بالکل یہی وہ عمل ہے جو خدا نے مسیح میں سرانجام دیا ہے۔ خدا کی محبت کی غیر مشروط نوعیت کو کلام کے دیگر اقتباسات میں واضح کیا گیا ہے:

" مگر خُدا نے اپنے رَحم کی دَولت سے اُس بڑی مُحبّت کے سبب سے جو اُس نے ہم سے کی۔ جب قصوروں کے سبب سے مُردہ ہی تھے تو ہم کو مسیح کے ساتھ زِندہ کِیا۔ (تم کو فضل ہی سے نجات مِلی ہے)"(افسیوں 2باب 4-5آیات)۔

" جو مُحبّت خُدا کو ہم سے ہے وہ اِس سے ظاہر ہُوئی کہ خُدا نے اپنے اِکلَوتے بیٹے کو دُنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اُس کے سبب سے زِندہ رہیں۔ مُحبّت اِس میں نہیں کہ ہم نے خُدا سے مُحبّت کی بلکہ اِس میں ہے کہ اُس نے ہم سے مُحبّت کی اور ہمارے گُناہوں کے کفّارہ کے لئے اپنے بیٹے کو بھیجا "(1یوحنا 4باب 9-10آیات)

اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ خدا کی محبت ایک ایسی محبت ہے جس نےپہل کی ہے۔ یہ کبھی بھی کسی عمل کا ردِ عمل نہیں ہے۔ یہی بات اِسے غیر مشروط محبت بناتی ہے ۔ اگر خدا کی محبت مشروط ہوتی تو ہمیں اُسے کمانےیا اس کا مستحق بننے کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا۔ اس سے پہلے کہ خُدا ہم سے محبت کرنے کے قابل ہوتا ہمیں کسی طرح اُس کے غضب کو ٹھنڈا کرنا یا اپنے آپ کو گناہ سے پاک کرنا تھا ۔ لیکن بائبل کا پیغام یہ نہیں ہے۔ بائبل کا پیغام - خوشخبری یہ ہے کہ محبت سے بھرپورخُدا اپنے لوگوں کو اُن کے گناہ سے بچانے کے لیے غیر مشروط طور پر سرگرم عمل ہوا۔

یہ حقیقت بھی اہمیت کی حامل ہے کہ خُدا کی غیر مشروط محبت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر انسان نجات پائے گا (دیکھیں، متی 25باب 46آیت)۔ اور نہ ہی اِس سے یہ مراد ہے کہ خُدا اپنے بچّوں کی کبھی تنبیہ نہیں کرے گا۔ خُدا کی مہربان محبت کو نظر انداز کرنے، ہمیں اپنے خون سے خریدنے والے نجات دہندہ (2پطرس 2 باب 1آیت)کو رَد کرنےکا مطلب خود کوخدا کی محبت کے لیے پیش کرنا نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے اُس کے غضب کے تابع کرنا ہے (رومیوں1باب 18آیت)۔ خُدا کے فرزند کے لیے جان بوجھ کر خُدا کی نافرمانی کرنا دراصل باپ کی سرزنش کو دعوت دینا ہے (عبرانیوں 12باب 5-11آیات)۔

کیا خدا سب سے محبت کرتا ہے؟ ہاں، وہ سب پر رحم اور مہربانی کرتا ہے۔ اس لحاظ سے اُس کی محبت غیر مشروط ہے۔ کیا خدا غیر مسیحیوں کی نسبت مسیحیوں سے مختلف طرح سے محبت رکھتا ہے؟ جی ہاں۔کیونکہ ایماندار وں نے خُدا کے بیٹے پر ایمان کا اظہار کیا ہے اِس لیے وہ نجات یافتہ ہیں۔ خُدا کی جو رحم سے بھرپور غیر مشروط محبت ہے اُس کا ہماری زندگیوں پر یہ اثر ہونا چاہیے کہ یہ ہمیں خُدا پر ایمان لانے میں رہنمائی کرے۔ اور پھر ہمیں چاہیے کہ مسیح کے وسیلے خاص عہد اور ایمان کی بناء پر جو محبت وہ ہمیں عطا کرتا ہے ہم اُسے بڑی شکرگزاری کے ساتھ قبول کریں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا خدا کی محبت مشروط ہے یا غیر مشروط ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries