settings icon
share icon
سوال

مجھے غیر بائبلی طریقے سے بپتسمہ دیا گیا تھا، کیا مجھے دوبارہ بپتسمہ لینے کی ضرورت ہے؟

جواب


بائبل بپتسمے کے بارےمیں پوری طرح واضح ہے۔ بپتسمے کے بارے میں دو نکات بہت اہم ہیں جن کو سمجھنا ہم سب کےلیے ضروری ہے ۔ (1) بپتسمہ کسی شخص کے یسوع مسیح کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنے اور اپنی نجات کے لیے صرف اور صرف اُس پر بھروسہ کرنے کے بعد لیا جاتا ہے ۔ (2) بپتسمہ ڈبکی کے ذریعے لینا چاہیے۔لفظ بپتسمہ کے لغوی معنی " پانی میں ڈبکی /غوطہ لگانا" ہے ۔ ڈبکی کے ذریعےبپتسمہ لینا بپتسمے کا واحد طریقہ ہے جو بپتسمے کے مفہوم کو درستگی سے واضح کرتا ہے یعنی ایماندار کا مرنا ، مسیح کے ساتھ دفن ہونا اور نئی زندگی میں جی اُٹھنا ( رومیوں 6باب 3-4 آیات)۔

ان دو اہم نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اُن لوگوں کے بارےمیں کیا خیال ہے جن کا بپتسمہ بائبل کے مطابق نہیں ہوا ؟بہتر وضاحت کے لیے آئیے اس سوال کو دو حصوں میں بانٹ لیتے ہیں ۔ پہلی حصے میں ایسے لوگ شامل ہیں جنہوں نے مسیحی ہونے سے پہلے بپتسمہ لیا تھا ۔ وہ لوگ جنہیں بچپن میں بپتسمہ دیا گیا تھا یا جن کو بعد میں بپتسمہ دیا گیا تھا مگر بپتسمے کے وقت وہ یسوع کو نجات دہندہ کی حیثیت سے حقیقی طور پر نہیں جانتے تھے ۔ اِس طرح کی صورتحال میں یقیناً ایسے لوگوں کو دوبارہ بپتسمہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ایک بار پھر ، بائبل بیان کرتی ہے کہ بپتسمہ نجات کے بعد لیا جاتا ہے ۔ اگر کسی شخص نے یسوع مسیح پر ایمان کے وسیلہ سے حقیقی نجات کا تجربہ نہیں کیا تھا تو بپتسمے کا علامتی مفہوم اپنی اہمیت کھو دیتا ہے ۔

دوسرے حصے میں وہ لوگ آتے ہیں جنہوں نے مسیح پر ایمان لانے کے بعد بپتسمہ لیا تھا لیکن اُن کا بپتسمہ غوطہ لینے یا ڈبکی لگانے کے ذریعے سے نہیں ہوا تھا۔ یہاں پر معاملہ تھوڑا زیادہ مشکل ہے۔ اِس بات سے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایسے شخص نے واقعی سچے طور پر بپتسمہ نہیں لیا تھا۔ اگر بپتسمہ دینے کا طریقہ پانی کا چھڑکاؤ یا پھر پانی کا انڈیلا جانا تھا تو یہ چیز بپتسمے کے اصل مفہوم کے مطابق درست نہیں ہے۔ ایک بار پھر لفظ بپتسمہ کے معنی ہیں "پانی میں ڈبکی /غوطہ" لگاناہے ۔ بہرحال بائبل میں کہیں پر بھی خصوصی طور پر اُن لوگوں کے بارے میں بات نہیں کی گئی جنہوں نے بپتسمہ لیا تھا لیکن غوطے یا ڈبکی کے ذریعے سے نہیں لیا تھا۔ پس یہ معاملہ کسی ایماندار کے خُدا کے ساتھ شخصی تعلق سے منسلک ہے۔ ایسے ایماندار کو جسے غیر بائبلی طریقے سے بپتسمہ دیا گیا تھا اِس معاملے میں حکمت کے لیے خُدا سے دُعا کرنی چاہیے (یعقوب 1باب 5آیت)۔ اگر ایماندار کا ضمیر مطمئن نہیں ہے تو پھر اُس کے لیے بہتر یہ ہوگا کہ وہ آگے بڑھے اور بائبلی طریقے سے دوبارہ بپتسمہ لے تاکہ وہ اطمینان پا سکے (رومیوں 14باب 23آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مجھے غیر بائبلی طریقے سے بپتسمہ دیا گیا تھا، کیا مجھے دوبارہ بپتسمہ لینے کی ضرورت ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries