settings icon
share icon
سوال

مکاشفہ کی کتاب میں مذکور دو گواہ کون ہیں ؟

جواب


مکاشفہ 11باب 3-12آیات اُن دو لوگوں کی تفصیل پیش کرتی ہیں جو آخری مصیبت کے دوران خدا کے کام کو پورا کرنے میں مددگار ہوں گے: " مَیں اپنے دو گواہوں کو اِختیار دُوں گا اور وہ ٹاٹ اوڑھے ہُوئے ایک ہزار دو سو ساٹھ دِن نبُوت کریں گے"(3آیت)۔ حالانکہ لوگ سالوں سے قیاس آرائیاں کرتے آ رہے ہیں مگر بائبل اِن دونوں گواہوں کی شناخت اُن کے نام کے ساتھ کہیں پر بھی نہیں کرتی۔

مکاشفہ میں مذکور دونوں گواہوں کے پاس اُن کے پیغام کے ساتھ معجزانہ اختیارات بھی ہوں گے (مکاشفہ 11باب 6آیت) اور کوئی بھی اُنہیں اُن کے کام سے روک نہ سکے گا (5آیت)۔ اپنی خدمت کے اختتام پر جب وہ اُن تمام باتوں کا اعلان کر چکے ہوں گے جن کا اُنہیں اعلان کرنا تھا تو حیوان انہیں مار ڈالے گا اور شریر دنیا اُن کی موت پر خوشی منائے گی اور اُن کی لاشیں گلیوں میں پڑی رہیں گی (7-10آیات)۔ تاہم ساڑھے تین دن بعد خُدا کے دونوں گواہوں کو زندہ کیا جائے گا اور اُن کے دشمنوں کی آنکھوں کے سامنے وہ آسمان پر بُلا لیے جائیں گے (11-12آیات)۔

مکاشفہ کی کتاب میں مذکور دونوں گواہوں کی شناخت کے بارے میں تین بنیادی نظریات پائے جاتے ہیں: (1) موسیٰ اور ایلیاہ (2) حنوک اور ایلیاہ اور (3) دو نامعلوم ایماندار جنہیں خُدا اخیر ایام میں اپنے نام کی گواہی کے لیے کھڑا کرے گا۔

1. جو مخصوص معجزات یوحنا کےبیان کے مطابق یہ دو گواہ کریں اُن کے سبب سے اکثر اُنکی ممکنہ شناخت موسیٰ اور ایلیاہ کے طور پر کی جاتی ہے۔ گواہوں کے پاس پانی کو خون میں تبدیل کرنے کی قدرت ہوگی (مکاشفہ 11باب 6آیت)جو موسیٰ کے ایک مشہور معجزے کی دہرائی معلوم ہوتی ہے (خروج 7باب )۔ اور گواہوں کے پاس اپنے دشمنوں کو آگ سے تباہ کرنے کا اختیار ہوگا (مکاشفہ 11باب 5آیت )جو ایلیاہ کی زندگی کے ایک واقعے سے مطابقت رکھتا ہے (2سلاطین 1باب )۔ اس نظریے کو تقویت دینے والی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دونوں موسیٰ اور ایلیاہ یسوع کی صورت تبدیل ہونے کے وقت پہاڑ پرظاہر ہوئے تھے ( متی 17باب 3-4آیات)۔ مزید یہ کہ ملاکی 4باب 5 آیت میں ایلیاہ کے آنے کی پیشین گوئی اور موسیٰ جیسے نبی کو برپا کرنے کے خدا کے وعدے (استثنا18باب 15، 18آیات) کی بدولت یہودی روایت موسیٰ اور ایلیا ہ کے واپس آنے کی منتظر ہے، یہودیوں کا خیال ہے کہ مندرجہ بالا حوالہ جات موسیٰ اور ایلیاہ کے آنے کا تقاضا کرتے ہے۔

2. حنوک اور ایلیاہ کے دنیا سے اُٹھائے جانے سے متعلق غیر معمولی واقعات کے باعث اِن دونوں کو مذکور دوگواہوں کے امکانات کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے ۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں صرف حنوک اور ایلیاہ ہی وہ دو لوگ ہیں جنہیں خدا موت دئیے بغیر براہ راست آسمان پر لے گیا ہے (پیدایش 5باب 23آیت؛ 2سلاطین 2باب 11آیت)۔ اس نظریے کے حامی عبرانیوں 9باب 27آیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو فرماتی ہے کہ تمام آدمیوں کے لیے ایک بار مرنا مقرر ہے ۔ یہ حقیقت کہ نہ تو حنوک اور نہ ہی ایلیا ہ نے ابھی تک موت کا تجربہ کیا ہے اُنہیں اُن دو گواہوں کے کام کے لیے اہل بناتی معلوم ہوتی ہے جو اپنے اُس کام کے مکمل ہونے پر قتل کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ حنوک اور ایلیاہ دونوں وہ نبی تھے جنہوں نے خدا کی عدالت کا اعلان کیا تھا (1سلاطین 17باب 1آیت؛ قضاۃ 1باب 14-15آیات)۔

3. مکاشفہ 11باب میں کسی طرح کےشناختی تعین کی کمی کی وجہ سے دو نامعلوم افراد کو مذکور دو گواہوں کے امکانات کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کلامِ مقدس اُن دو گواہوں کی ناموں کے ساتھ شناخت نہیں کرتا اور کوئی جانی پہچانی شخصیت اُن کے اخیرزمانے میں آنے سے تعلق نہیں رکھتی۔ خدا مکمل طور پر اس قابل ہے کہ وہ دو "عام" ایمانداروں کو لے اور انہیں وہی نشانات اور عجائب کرنے کے قابل بنائے جو موسیٰ اور ایلیا ہ نے کئے تھے۔ مکاشفہ 11باب میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ہم سےاُن دو گواہوں کے لیے کسی "مشہور" شخصیت کو فرض کرنے کا تقاضا کرتی ہو۔

زکریا ہ 4باب میں ایک دلچسپ حوالہ ہے جو ہمیں مکاشفہ کے دو گواہوں کا نمونہ فراہم کرتا ہے۔ زکریا ہ پر ایک رویا ظاہر ہوتی ہے جس میں وہ سونے کا ایک ٹھوس چراغدان دیکھتا ہے۔ سب سے اوپر تیل کا کٹورا ہے اور اُس کے دائیں اور بائیں طرف زیتون کے درخت کھڑے ہیں (3-4آیات)۔ شمعدان انسانی دیکھ بھال کے بغیر اپنی روشنی دیتا ہے جس کو درختوں سے کٹورے میں بہنے والے زیتون کے تیل کی مسلسل فراہمی حاصل ہے۔ زکریا ہ کے لیے خُدا کا پیغام یہ تھا کہ خُدا کا کام (ہیکل کی تعمیر ِنو) " نہ تو زور سے اور نہ توانائی سے بلکہ میری رُوح "(6آیت) کے وسیلہ سے تکمیل پائے گا ۔

زکریاہ زیتون کے درختوں اور تیل فراہم کرنے والی نلیوں کے معنی کے بارے میں دریافت کرتا ہے اور اُس سے مخاطب فرشتہ اُسے بتاتا ہے کہ "یہ وہ دو ممسُوح ہیں جو ربُّ اُلعالمین کے حضور کھڑے رہتے ہیں۔" دوسرے الفاظ میں اپنے کام کو قائم رکھنے کے لیے خُدا کی قوت کام کی ادائیگی کے لیے دو الگ الگ افراد کی طرف سے آ رہی ہے۔ زکریاہ کے سیاق و سباق میں یہ دو افراد یشوع (اُن کا موجودہ سردار کاہن) اور زربابل (یہوداہ کا موجودہ حاکم) ہیں۔ ہم یہاں یسوع مسیح کی پیشین گوئی بھی دیکھ سکتے ہیں کیونکہ مسیحا سردار کاہن اور بادشاہ کے عہد وں کو متحد کر دے گا۔ اس کے بعد ہم مکاشفہ 11باب 4آیت کی طرف آتے ہیں۔ دو گواہوں کی تفصیل میں یوحنا بیان کرتا ہے کہ "یہ وُہی زَیتُون کے دو درخت اور دو چراغ دان ہیں جو زمین کے خُداوند کے سامنے کھڑے ہیں۔"یوحنا یہاں زکریا ہ 4باب کا حوالہ دیتا ہے۔ یشوع اور زربابل کی طر ح مکاشفہ میں مذکور دو گواہوں کے پاس خداکے کام کی تکمیل کے لیے اُس کی قوت ہو گی جو اُن کے وسیلہ سے کام کرے گی ۔

پس مکاشفہ کی کتاب میں مذکور دو گواہ کون ہیں؟ بائبل اس بارے میں کچھ نہیں بتاتی ۔ اوپر پیش کیے گئے تینوں نظریات درست اور قابل فہم تشریحات ہیں جن کو مسیحی اختیار کر سکتے ہیں۔ دو گواہوں کی شناخت کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کے بارے میں مسیحیوں کو کٹر پن کا مظاہر کرنا چاہیے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مکاشفہ کی کتاب میں مذکور دو گواہ کون ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries