settings icon
share icon
سوال

کیا ایک مسیحی دو فطرتوں کا حامل ہوتا ہے ؟

جواب


اِس سوال کے ساتھ جو پہلا مسئلہ جُڑا ہوا ہے اُس کاتعلق علم المعنی کے ساتھ ہے۔ مثال کے طورپر بہت سے لوگ اِسے "گناہ کی فطرت" جبکہ دیگر "گناہ آلود فطرت"قرار دینا پسند کرتے ہیں اور مزید کچھ ایسے بھی ہیں جو اِسے مبہم "جسمانی " فطرت قراردینے پر اِسرار کرتے ہیں ۔ اِن دونوں مخالف فریقین (جسمانی اور رُوحانی فطرت) کو چاہے جو بھی نام دئیے جائیں ، یہاں پر جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ ایک مسیحی کے اندر مسلسل طور پر ایک کشمکش /جنگ جاری ہے۔

دوسرا مسئلہ "فطرت " کی اصل تعریف ہے۔ اِس اہم لفظ کی جس طرح سے وضاحت کی جاتی ہے اُس سے اِس بات کا تعین ہوتا ہے کہ کوئی شخص "پرانی انسانیت " اور "نئی انسانیت " کے درمیان فرق اور کسی مسیحی کی زندگی میں اس کے متعلقہ کام کو کیسے دیکھتا ہے۔ "فطرت " کو سمجھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اِسےکسی ایماندار کی "صلاحیت" کے طور پر خیال کیا جائے۔ اس طرح پرانی انسانیت کی ایک ایسے سابقہ طرزِ زندگی کے طور پر تشریح کی جاتی ہے جو ایک غیر ایماندار کا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ایک مسیحی کے اندر مدِ مقابل صلاحیتیں ہوتی ہیں- گناہ کرنے کی پرانی صلاحیت اور گناہ کے خلاف مزاحمت کرنے کی نئی صلاحیت۔ غیر ایماندار شخص کے اندر ایسی کوئی مقابلہ بازی نہیں ہوتی ۔ وہ دینداری کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ اُس کے پاس صرف گناہ کی فطرت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ "اچھے کام" نہیں کر سکتا مگر اِن کاموں کے لیے اُس کی ترغیب ہمیشہ اُس کے گناہ سے آلودہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ گناہ کے خلاف مزاحمت نہیں کر سکتا کیونکہ اُس میں گناہ نہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

دوسری جانب ایماندار دینداری کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ خدا کا رُوح اُس میں بسا ہوتا ہے۔ اُس کے پاس اب بھی گناہ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے لیکن اب اُس کے پاس گناہ کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت بھی ہے اور اِس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اُس میں مزاحمت کرنے اور دیندار زندگی گزارنے کی خواہش ہوتی ہے۔ جب مسیح کو مصلوب کیا گیا تو پرانی انسانیت کو بھی اس کے ساتھ مصلوب کر دیا گیا تھا جس کے باعث مسیحی اب گناہ کا غلام نہیں رہا(رومیوں 6باب 6آیت )۔ ہم " گُناہ سے آزاد ہو کر راست بازی کے غُلام ہو گئے"ہیں (رومیوں 6باب 18آیت )۔

مسیح کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنے کے وقت مسیحی ایک نئی فطرت پاتا ہے۔ یہ فوری طور پر ہوتا ہے۔ دوسری جانب تقدیس وہ عمل ہے جس کے ذریعے خُدا ہمیں وقت کے ساتھ ساتھ پاکیزگی میں مزید بڑھنے کے قابل بناتے ہوئے ہماری نئی فطرت کو ترقی دیتا ہے۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں بہت سی فتوحات اور نا کامیاں شامل ہوتی ہیں کیونکہ نئی فطرت اُس "خیمہ" - پرانی انسانی ، پرانی فطرت/ طبیعت ، بدن کے خلاف مزاحمت کرتی ہے جس میں یہ بستی ہے۔

رومیوں 7باب میں پولس اُس کشمکش کی وضاحت کرتا ہے جو رُوحانی طور پر پختہ ترین لوگوں میں بھی مسلسل جاری رہتی ہے۔ وہ افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ وہ ایسے کام کرتاہے جو وہ کرنا نہیں چاہتا ، درحقیقت وہ بدی کرتا ہے جس سے اُسے نفرت بھی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ اُس گناہ کے باعث ہے "جو مجھ میں بسا ہُوا ہے" (رومیوں 7باب 20آیت)۔ وہ اپنی "باطنی شخصیت" کے مطابق خدا کی شریعت میں خوش ہوتا ہے لیکن اُسے "اپنے اعضا میں ایک اَور طرح کی شرِیعت نظر آتی ہے "جو اُس کی عقل کی شرِیعت سے لڑ کر اُسے اُس گُناہ کی شرِیعت کی قَید میں لے آتی ہے جو اُس کے اعضاء میں مَوجُود ہے (23آیت)۔ یہاں دو فطرتوں یا طبیعتوں کی بہترین مثال نظرآتی ہےچاہے اِن کے جو بھی نام ہوں ۔ اصل نقطہ یہ ہے کہ اس طرح کی کشمکش حقیقی ہے اور مسیحی اس کا اپنی زندگی بھر سامنا کرتے رہیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ ایمانداروں کو جسم کے کاموں کو نیست و نا بود کرنے (رومیوں 8باب 13آیت)، اُن باتوں کو ترک کرنے جو ایک مسیحی کو گناہ کرنے پر محبور کرتی ہیں (کلسیوں 3باب 5آیت) اور غصے ، قہر ، بد خواہی جیسے دیگر گناہوں(کلسیوں 3باب 8آیت) کو چھوڑنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ ان سب کا کہنا ہے کہ مسیحی دو فطرتوں - پرانی اور نئی فطرت کا حامل ہوتا ہے لیکن نئی فطرت کو مسلسل تجدید ِ نوکی ضرورت ہوتی ہے (کلسیوں 3باب 10 آیت)۔ ایک مسیحی کے لیے تجدید نو بلاشبہ زندگی بھر جاری رہنے والا عمل ہے۔ اگرچہ گناہ کے خلاف لڑائی مستقل جاری رہتی ہےلیکن اب ہم گناہ کے قبضہ میں نہیں ہیں (رومیوں 6باب 6 آیت)۔ ایماندار حقیقی معنوں میں مسیح میں ایک "نیا مخلوق " ہے (2 کرنتھیوں 5باب 17آیت ) اور یہ مسیح ہی ہے جو بالآخر "اِس مَوت کے بدن سے ]ہمیں[۔۔۔ چُھڑائے گا؟ ہمیں چاہیے کہ اپنے خُداوند یِسُوع مسیح کے وسیلہ سے خُدا کا شکر ادا کریں( رومیوں 7باب 24-25آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا ایک مسیحی دو فطرتوں کا حامل ہوتا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries