settings icon
share icon
سوال

مَیں خُدا پر توکل کرنا کیسے سیکھ سکتا ہوں ؟

جواب


ہم کسی ایسے شخص پر توکل نہیں کر سکتےجسے ہم نہیں جانتے اورخُدا پر توکل کرنا سیکھنے کا راز بھی یہی اصول ہے۔ جب کوئی کہتا ہے کہ " مجھ پر بھروسہ رکھو " تو ہمارے دو طرح کے ردّ عمل ہوتے ہیں ۔ ہم یا تو کہہ سکتے ہیں " ہاں مَیں آپ پر بھروسہ /توکل کروں گا " یا ہم کہہ سکتے ہیں " مجھے آپ پر کیوں بھروسہ/ توکل کرنا چاہیے ؟" خدا کے معاملے میں جب ہم اس بات کو سمجھ جاتے ہیں کہ ہمیں اُس پر توکل کیوں کرنا چاہیے تو توکل خود بخود پیدا ہو جاتا ہے ۔

ہمیں خدا پر توکل کرنا چاہیے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمارے توکل کے قابل ہے ۔ انسانوں کے برعکس وہ نہ تو کبھی جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کبھی ناکام ہوتا ہے۔ "خُدا اِنسان نہیں کہ جھوٹ بولے اور نہ وہ آدمؔ زاد ہے کہ اپنا اِرادہ بدلے۔ کیا جوکچھ اُس نے کہا اُسے نہ کرے؟ یا جو فرمایا ہے اُسے پُورا نہ کرے؟" ( گنتی 23باب 19آیت؛ 89زبور 34آیت)۔ انسانوں کے برعکس خُدا جو بھی منصوبے اور مقاصد طے کرتا ہے اُنہیں سر انجام دینے کی قدرت رکھتا ہے ۔یسعیاہ 14باب 24آیت ہمیں بتاتی ہے "ربُّ الافواج قَسم کھا کر فرماتا ہے کہ یقیناً جیسا مَیں نے چاہا وَیسا ہی ہو جائے گا اور جَیسا مَیں نے اِرادہ کِیا ہے وَیسا ہی وقُوع میں آئے گا۔" مزید برآں اُس کے منصوبے کامل، مقدس اور نیک ہیں اور وہ سب چیزوں کو اُن لوگوں کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے جو اُس سے محبت کرتے ہیں اور اُس کے پاک ارادے کےمطابق بُلائے گئے ہیں ( رومیوں8باب 28آیت)۔ اگر ہم خدا کو اُس کے کلام کے وسیلہ سے جاننے کی کوشش کریں تو ہم دیکھیں گے کہ وہ ہمارے توکل کے قابل ہے اور اُس پر ہمارا توکل روز بروز بڑھتا چلا جا تا ہے ۔ اُسے جاننا اُس پر توکل کرنا ہے ۔

ہم خدا پر توکل کرنا سیکھ سکتے ہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اُس نے نہ صر ف ہماری زندگی میں بلکہ دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں بھی خود کو قابل ِ اعتماد/ قابلِ توکل ثابت کیا ہے 1سلاطین 8باب 56آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ "خُداوند جس نے اپنے سب وعدوں کے موافق اپنی قوم اِسرائیل کو آرام بخشا مبارک ہو کیونکہ جو سارا اچھا وعدہ اُس نے اپنے بندہ مُوسیٰ کی معرفت کِیا اُس میں سے ایک بات بھی خالی نہ گئی ۔" خدا کے وعدوں کا اندراج اُسکے کلام میں موجود ہےتاکہ سب لوگ اُن کامشاہدہ کریں ۔ اُس کا کلام اُن وعدوں کی تکمیل کا اندراج بھی ہے ۔ تاریخی دستاویزات اِن واقعات کی تصدیق کرتی اور اپنے لوگوں کے ساتھ خدا کی وفاداری کا ذکر کرتی ہیں ۔ جب ہم اپنی زندگیوں میں اُس کے عجیب کاموں، ہماری جانوں کی حفاظت کرنے اور اپنے مقاصد کی خاطر ہمیں استعمال کرنے کے اُس کے وعدوں کی تکمیل ( افسیوں 2باب 8-10آیات) کو دیکھتے ہیں اور اُس اطمینان کا تجربہ کرتے ہیں جو وہ ہمیں اُس وقت بخشتا ہے جب ہم اُس دوڑ میں دوڑتے ہیں جو اُس نے ہمارے لیے مقرر کی ہے( فلپیوں 4باب 6-7آیات؛عبرانیوں 12باب 1آیت) تو ہم میں سے ہر ایک مسیحی خُدا پر توکل کرنے کی اپنی شخصی گواہی دے سکتا ہے۔ ہم جس قدر زیادہ اُس کے فضل ، وفاداری اور بھلائی کا تجربہ کرتے جاتے ہیں اُسی قدر ہمارا توکل اُس پرمضبوط ہوتا جاتا ہے ( 100زبور 5آیت؛ یسعیاہ 25باب 1آیت)۔

خدا پر توکل کرنے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اصل میں کوئی معقول متبادل نہیں ہے ۔ کیا ہمیں اپنے آپ پر یا دوسرے لوگوں پر توکل کرنا چاہیے جو گنہگار، توقع پر پورے نہ اترنے والے اور ناقابل اعتبار ہیں اور جن کی عقل محدو دہے اور جو اکثر جذبات پر مبنی غلط فیصلے اورانتخاب کرتے ہیں؟یا کیا ہمیں تمام حکمت کے مالک ، علیم ِ کُل،قادرِ مطلق ، رحمدل ، مہربان اور محبت کرنے والے خدا پر توکل کرنا چاہیے جو ہمارے لیے نیک ارادے رکھتا ہے ؟انتخاب واضح ہونا چاہیے لیکن ہم خدا پر توکل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں کیونکہ ہم اُسے جانتے نہیں ۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہم کسی ایسے شخص پر توکل کرنے کی اُمید نہیں کر سکتے جو بنیاد ی طور پر ہمارے لیے اجنبی ہے لیکن اس کا علاج بڑا آسان ہے ۔ خدا کو ڈھونڈنا یا جاننا مشکل نہیں ہے ۔ ہمیں خدا کے بارے میں جو کچھ جاننے کی ضرورت ہے اُسے اُس نے فضل کے ساتھ بائبل کے اندر جو اُس کے لوگوں کے لیے اُس کا مُقدس کلام ہے مہیا کر دیا ہے۔ خدا کو جاننا دراصل اُس پر توکل کرنا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں خُدا پر توکل کرنا کیسے سیکھ سکتا ہوں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries