settings icon
share icon
سوال

حقیقی پرستش کیا ہے؟

جواب


پولس رسول نے رومیوں 12باب 1-2آیات میں حقیقی پرستش و عبادت کو مکمل طور پر بیان کیا ہے :" پس اَے بھائِیو۔ مَیں خُدا کی رحمتیں یاد دِلا کر تم سے اِلتماس کرتا ہوں کہ اپنے بدن اَیسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زِندہ اور پاک اور خُدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔ اور اِس جہان کے ہم شکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہو جانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خُدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے رہو۔ "

اِن آیات میں حقیقی عبادت کے تمام عناصر شامل ہیں ۔ پہلایہ کہ اِس میں عبادت کے لیے تحریک ہے : " خدا کی رحمتیں"۔ خدا کی رحمتوں میں وہ ہر چیز شامل ہے جس کے ہم مستحق نہیں مگر اُس نے وہ ہمیں بخشی ہے: مثلاً ابدی محبت ، ابدی فضل ، رُوح القدس، ابدی اطمینان، ابدی خوشی ، نجات بخش ایمان ، تسلی، قوت ، حکمت، اُمید، صبر، مہربانی ، عزت، جلال، راستبازی ، سلامتی ، ہمیشہ کی زندگی ، معافی ، بحالی ، راستباز ٹھہرایا جانا ، تقدیس ، آزادی ، شفاعت اور بہت کچھ اور بھی۔ ان حیرت انگیز نعمتوں کا علم اور فہم ہمیں تعریف اور شکرگزاری یعنی "عبادت" کرنے کی تحریک دیتے ہیں ۔

اس حوالہ میں ہمارے عبادت کے طریقہ کار کی بھی وضاحت پائی جاتی ہے :" کہ اپنے بدن اَیسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زِندہ اور پاک اور خُدا کو پسندیدہ ہو " اپنے بدنوں کو پیش کرنے کا مطلب خدا کے حضور وہ سب کچھ پیش کرنا ہے جو ہم میں موجود ہے ۔ یہاں ہمارے بدنوں سے متعلق ذکر سے مراد ہماری تمام انسانی صلاحیتیں، ہماری ساری بشریت – ہمارے دل ، ذہن ، ہاتھ ، خیالات ، رویوں – کو خدا کے حضور پیش کرنا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں ہم نے اُن چیزوں پر اپنے اختیار کو ترک کرنا اور انہیں خدا کے سپرد کرنا ہے جیسے قربان گاہ پر موجود اصل قربانی مکمل طور پر خدا کو پیش کر دی جاتی تھی۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے ؟ یہ حوالہ اس بارے میں بھی واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ :" عقل نئی ہو جانے سے "۔ ہم ہر روز اپنے ذہنوں کو دنیا کی " حکمت " سے پاک کرنے اور اُس کی جگہ خدا کی طرح سے ملنے والی حکمت کو قبول کرنے کے وسیلہ سے اپنی عقل کو نیا بناتے ہیں ۔ ہم اپنے جذبات کی بجائے اپنی نئی اور پاک عقل کے ساتھ خدا کی عبادت کرتے ہیں ۔ جذبات حیرت انگیز چیز ہیں جب تک یہ ایسی عقل سے ترکیب نہیں پاتے جو سچائی سے لبریز ہو کیونکہ یہ بے قابو طاقتیں تباہ کُن ہو سکتی ہیں ۔مرضی بھی اُسی راستے کو اختیار کرتی ہے جس پر عقل جاتی ہے اور جذبات بھی اُسی طرح کرتے ہیں۔ 1کرنتھیوں 2باب 16آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہم میں مسیح کے جذبات نہیں بلکہ " مسیح کی عقل" ہے ۔

ہماری عقلوں کو نیا بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ خدا کے کلام کے وسیلہ سے ممکن ہے ۔ یہ سچائی یعنی خدا کے کلام کا علم ہی ہے جو خدا کی رحمتوں کا علم کہلاتا اور اس طرح ہم نے جہاں سے آغاز کیا تھا ہم واپس اُسی نقطہ پر پہنچ جاتے ہیں ۔ سچائی کو جاننے، سچائی کو ماننے، سچائی کے بارے میں اعتقاد رکھنے، سچائی سے محبت رکھنے کا فطری نتیجہ حقیقی رُوحانی عبادت ہو گا ۔ موسیقی سمیت کوئی بھی اور بیرونی محرک نہیں ہے بلکہ یہ سچائی کےلیے ردعمل کاایک ایسا رجحان ہے جو اعتقاد کا نتیجہ ہے ۔ موسیقی کا عبادت کے ساتھ ایسا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ موسیقی عبادت کو پیدا نہیں کر سکتی ، ہاں اگرچہ یہ یقینی طور پر جذبات پیدا کرسکتی ہے ۔ موسیقی عبادت کا جوہر نہیں ہے بلکہ یہ اُس کا اظہار ہو سکتی ہیں ۔ اپنی عبادت کی ترغیب کے لیے موسیقی کی طرف مت دیکھیں بلکہ موسیقی کو محض اس بات کے اظہار کے طور پر دیکھیں

حقیقی عبادت خدا مرکوز عبادت ہوتی ہے ۔ لوگ کئی بار اس بات کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اُنہیں کہاں عبادت کرنی چاہیے ، عبادت میں اُنہیں کس طرح کا سنگیت گانا چاہیے اور اُن کی عبادت دوسرے لوگوں کو کیسی لگتی ہے ۔ ان چیزوں پر توجہ دینے والے اصل نکتے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یسوع ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقی عبادت گزار رُوح اور سچائی سے خدا کی عبادت کریں گے ( یوحنا 4باب 24آیت)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دل سے اور اُس طور پر خدا کی عبادت کرتےہیں جس طرح اُس نے ہمیں بنایا ہے ۔ عبادت میں دُعا مانگنا، بُلند آواز کے ساتھ خدا کےکلام کو پڑھنا، گانا ، پاک شراکت میں شریک ہونا اور دوسرے لوگوں کی خدمت کرنا شامل ہو سکتا ہے ۔ یہ محض ایک عمل تک محدود نہیں ہے لیکن یہ سب اُسی وقت صحیح طور پر انجام پاتا ہے جب کسی شخص کا دل اور رویہ دونوں درست جگہ پر ہوتا ہے ۔

اس بات کو جاننا بھی ضروری ہے کہ عبادت صرف اور صرف خدا کے لیے مختص ہے ۔ صرف وہی عبادت کے لائق ہے اور اُس کا کوئی بھی خادم اِس قابل نہیں کہ اُس کی عبادت کیا جائے ۔ ہمیں مقدسین ، نبیوں ، مجسموں ، فرشتوں ، کسی جھوٹے معبود یا یسوع کی ماں مریم کی عبادت نہیں کرنی چاہیے ۔ ہمیں ایسی عبادت نہیں کرنی چاہیے جس کے بد لے میں ہم معجزاتی شفا جیسی کسی چیز کی توقع لگائے بیٹھے ہوں ۔ کیونکہ وہ اس کا حق دار ہے لہذا عبادت خدا کے لیے ہے اور یہ صرف اُسی کی خوشنودی کی خاطر کی جاتی ہے ۔ اجتماعی صورت حال میں عبادت خدا کی کھلے عام تعریف کی شکل اختیار کر سکتی ہے (22زبور 22آیت؛ 35زبور 18آیت)جہاں ہم دُعا اور حمد و ستایش کے ساتھ اُس کی اُن کاموں کے لیے تعظیم اور شکر گزاری کا اظہا کر سکتے ہیں جو اُس نے ہمارے لیے کئے ہیں ۔ حقیقی عبادت باطنی طور پر محسوس ہوتی ہے اور پھر اُس کا اظہار ہمارے اعمال کے ذریعے ہوتا ہے ۔ ذمہ داری کے احساس کے بغیر عبادت کرنا خدا کے لیے بیزار اور پوری طرح بے فائدہ ہے ۔ وہ تمام طرح کی ریاکاری کو دیکھ اور پہچان سکتا ہے اور وہ اُس سے نفر ت کرتا ہے ۔ وہ عاموس 5باب 21-24آیات میں جب آنے والی عدالت کے بارےمیں بیان کرتا ہےتو اِس کی تصدیق کرتا ہے ۔ آدم اور حوا کے پہلے بیٹے قائن اور ہابل کی کہانی اِس کی ایک اور مثال ہے ۔ یہ دونوں خداوند کے حضور سوختنی قربانی لائےلیکن خدا صرف ہابل کی قربانی سے خوش ہوا ۔ قائن محض فرض کے طور پر قربانی لایا جبکہ ہابل اپنے غلہ میں سب سے عمدہ بھیڑوں کو لایا ۔ ہابل ایمان اور خدا کی تعظیم کے پیشِ نظر قربانی لایا تھا ۔

ہم گرجا گھر یا کلیسیائی اجتماع میں جو کچھ کرتے ہیں حقیقی عبادت صرف اُن سرگرمیوں تک محدود نہیں ( اگرچہ یہ دونوں اچھی چیزیں ہیں اور بائبل میں ہمیں ایسا کرنے کےلیے کہا جاتا ہے )۔ حقیقی عبادت نہ صرف خدا کابلکہ ہم جو کچھ کرتےہیں اس میں اُس کی تمام قدرت اور جلال کا اقرار ہے۔ حمدوستایش اور عبادت کی سب سے اعلیٰ ترین شکل خدا کی اور اُس کے کلام کی تابعداری ہے ۔ ایسا کرنے کےلیے ہمیں خدا کو جاننا ہو گا ؛ ہم اُس سے لاعلم نہیں ہو سکتے ( اعمال 17باب 23آیت)۔ عبادت در اصل خدا کو عزت و جلال اور عظمت دینا – یعنی اپنے آسمانی باپ کے لیے ہمارے وفاداری اور تعریف کا اظہار کرنا ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

حقیقی پرستش کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries