حقیقی مذہب کونسا ہے؟



سوال: حقیقی مذہب کونسا ہے؟

جواب:
مذہب کی تعریف اِس طرح کی جا سکتی ہے ’’ایسا ایمان جو خُدا یا خُداؤں کے قابلِ پرستش ہونے کے لیے رکھا جائے اور جس کا اظہار عام طور پر چال چلن اور رسم میں کیا جائے‘‘۔ یا ’’عقائداور پرستش کا مخصوص نظام وغیرہ، جس میں اکثر ضابطِ اخلاقیات پایا جائے‘‘۔ دُنیا کی ۹۰ فیصدسے زیادہ آبادی مذہب کو کسی نہ کسی شکل میں مانتی ہے۔ مسلہ یہ ہے کہ بہت سے مختلف مذاہب ہیں۔ درست مذہب کونسا ہے؟ حقیقی مذہب کونسا ہے؟

مذاہب میں دو عام اجزاء قوانین اوررسومات ہیں۔ بعض مذاہب بنیادی طور پر قوانین کی فہرست سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ کرو اور نہ کرو ، کے اصول پرایک شخص کو مذہب کاوفادار اطاعت گزار سمجھا جاتا ہے۔ اور اِس طرح اُس دین میں خدا کے ساتھ حق کو بھی سمجھنا ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ قوانین پر مبنی مذاہب کی دو مثالیں اسلام اور یہودیت ہیں۔ اسلام کے پانچ ستون ہیں جن کی بجا آوری لازم ہے۔ یہودیت کے سینکڑوں احکامات اور رسومات ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے۔ دونوں مذاہب ایک خاص حد تک دعویٰ کرتے ہیں کہ مذہب کے قوائد و ضوابط کی فرمانبرداری سے ہی ایک شخص خدا کے ساتھ درست سمجھا جائے گا۔

دیگر مذاہب قوانین کے فہرست کی تعمیل کرنے کی بجائے رسومات کی پاسداری کرنے پر زیاد توجہ دیتے ہیں۔ یہ قُربانی پیش کرتے، یہ کام انجام دیتے، اِس خدمت میں حصہ لیتے ، اور یہ کھانا کھاتے ہوئے ہی ایک شخص خدا کے ساتھ درست تصور کیا جاتا ہے۔ رسومات پر مبنی مشہور ترین مذہب رومن کیتھولک کلیسیا ہے۔ رومن کیتھولک کا مانناہے کہ شیر خواری کی حالت میں بپتسمہ لینے، عبادات کا حصہ دار بننے، کاہن کے سامنے گناہ کا اعتراف کرنے، آسمان پر موجود مقدسین سے دُعاکرنے ،موت سے پہلے کاہن سے مسح ہونے وغیرہ وغیرہ، والا شخص ہی اپنی موت کے بعد آسمان پر خدا کے ہاں قبول کیا جائے گا۔ بدھ مت اور ہندو مت بھی بنیادی طور پر رسومات پر مبنی مذاہب ہیں، لیکن یہ کسی حد تک قوائد و ضوابط پر مبنی نظام پربھی یقین رکھتے ہیں۔

حقیقی مذہب قوانین پر اور نہ ہی رسومات پر مبنی ہوتا ہے۔ حقیقی مذہب خُدا کے ساتھ رشتہ ہے۔ دو چیزیں جو تمام مذاہب مانتے ہیں کہ انسانیت کسی طرح خُدا سے جُدا ہو گئی اور اب خُدا کے ساتھ صلح کرنے ضرورت ہے۔ جھوٹے مذاہب اِس مسلہ کے حل کے لیے قوانین اور رسومات کا سہارا لیتے ہیں۔ حقیقی مذہب اِس بات کی شناخت کروا کے مسلہ کو حل کرتا ہے کہ صرف خدا ہی اِس جُدائی کو دُور کر سکتا ہے ۔ اور اُس نے یہ کر دیا ہے۔ حقیقی مذہب مندرجہ ذیل باتوں کی شناخت کرواتا ہے۔

۱۔ ہم سب نے گناہ کیا ہے اور خُدا سے جُدا ہو گئے۔ (رومیوں۲۳:۳)۔

۲۔ اگر اِس خرابی کوٹھیک نہ کیا جائے تو گناہ کی مزدوری صرف موت اور موت کے بعد خدا سے ابدی جُدائی ہے۔ (رومیوں۲۳:۶)۔

۳۔ خُدا یسوع مسیح کی ذات میں ہمارے پاس آیا اور ہماری جگہ مر گیا۔ ہماری سزا کو اپنے اوپر لے لیاجس کے اصل مستحق ہم تھے، اور مُردوں میں سے جی اُٹھا تاکہ ثابت کرے کہ اُس کی موت ایسی قربانی ہے جو کانی ہے۔ (رومیوں۸:۵؛۱۔کرنتھیوں۳:۱۵۔۴؛۲۔کرنتھیوں۲۱:۵)۔

۴۔ اگر ہم یسوع مسیح کو اپنے نجات دہندہ قبول کرتے ہیں ، اُس کی موت پرایمان لاتے ہیں کہ وہ ہمارے گناہوں کی مکمل قیمت ہے، تو ہمارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، ہم نجات پاتے ہیں، ہم چھُڑائے جاتے ہیں، خدا کے ساتھ صلح ہو جاتی ہے، اور خدا ہمیں راستباز ٹھہراتا ہے۔ (یوحنا۱۶:۳،رومیوں۹:۱۰۔۱۰؛افسیوں۸:۲۔۹)۔

حقیقی مذہب میں بھی قوانین اور رسومات ہوتی ہیں ، لیکن یہاں ایک اہم فرق ہے۔ حقیقی مذہب میں قوانین اور رسومات کو شکر گزاری کے طور پر مانا جاتا ہے کہ خُدا نے نجات بخشی ہے۔ نہ کہ نجات حاصل کرنے کی جستجو میں۔ حقیقی مذہب میں جو کہ بائبل کی مسیحیت ہے ، قوانین (خون نہ کرنا، زنا نہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا وغیرہ) اور رسومات (پانی میں ڈبکی کا بپتسمہ اور عشائے ربانی) کو مانا جاتا ہے۔لیکن اِن احکامات اور رسومات پر عمل پیرا ہونا کسی شخص کو خُدا کے سامنے راست نہیں ٹھہراتا بلکہ یہ احکامات اور رسومات خدا کے ساتھ رشتہ کا نتیجہ ہیں جو خُدا کے فضل کی بدولت صرف یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ قبول کرنے سے قائم ہوتا ہے۔ جھوٹے مذاہب خُدا کا ساتھ حاصل کرنے کے لیے یہ سب کچھ(قوانین اور رسومات) کر رہے ہیں۔ حقیقی مذہب یسوع کو اپنا نجات دہندہ قبول کرنا اور اُس کے وسیلہ سے خُدا کے ساتھ درست رشتہ میں قائم رہنا اور پھرخُدا کی محبت میں (قوانین اور رسومات)پر عمل کرنا اور خُداکی قُربت میں بڑھنے کی خواہش رکھنا ہے۔

جو بھی کچھ آپ نے یہاں پڑھا ہے اس کی بنیاد پر کیا آپ نے مسیح کے لئے فیصلہ لیا ہے؟ اگر آپکا جواب ہاں میں ہے تو برائے مہربانی اس جگہ پر کلک کریں جہاں لکھا ہے کہ آج میں نے مسیح کو قبول کر لیا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



حقیقی مذہب کونسا ہے؟