settings icon
share icon
سوال

تین نوعیتی انسانی ذات بمقابلہ دو نوعیتی انسانی ذات –درست نظریہ کونسا ہے ؟

جواب


بائبل سکھاتی ہے کہ بنی نوع انسان ایک بدن ، ایک جان اور ایک رُوح کے حامل ہیں ۔ انسانی فطرت کے یہ پہلو ایک دوسرے سے کس طرح منسلک اور جڑے ہوئے ہیں اس حوالے سے چار بنیادی نظریات پائے جاتے ہیں۔ دو نظریات اینتھروپولوجیکل مون ازم( بشری واحدنیت-انسان کے واحد بنیادی جز پر مشتمل ہونے کا نظریہ ) اور اینتھروپولوجیکل حیلومورف ازم(یہ نظریہ کے تمام اجسام مادے اور شکل پر مبنی ہوتے ہیں) بنیادی طور پر اس حوالے سے بات کرتے ہیں کہ بنی نو ع انسان کے تین پہلو مل کر کس طرح انسانی ذات کی تشکیل کرتے ہیں۔ دیگر دو مثالیں دونوعیتی/ ڈائی کوٹومی (بشری دوہریت) اورتین نوعیتی/ ٹرائی کوٹومی انسانی جان اور انسانی رُوح کے درمیان فرق کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ انسانی فطرت کے مادی (جسمانی) اور غیر مادی (رُوحانی) پہلوؤں کے درمیان فرق پوری طرح واضح ہے۔ انسانی فطرت کے دو غیر مادی پہلوؤں کے درمیان فرق کرنا زیادہ مشکل ہے۔

بائبل میں ایسی آیات موجود ہیں جو جان اور رُوح کی اصطلاحات کو ادل بدل کر استعمال کرتی ہیں (متی 10باب 28آیت ؛ لوقا 1باب 46-47آیات؛ 1 کرنتھیوں 5باب 3آیت؛ 7باب 34آیت)جبکہ بائبل کے دیگر حوالہ جات جان اور رُوح کو بالکل یکساں طور پر پیش نہیں کرتے ۔ایسے حوالے بھی ہیں جو جان اور رُوح کے درمیان علیحدگی کا اشارہ دیتے ہیں (رومیوں 8باب 16آیت؛ 1تھسلنیکیوں 5باب 23آیت؛ عبرانیوں 4باب 12آیت )۔ عبرانیوں 4باب 12 بیان کرتی ہے، "کیونکہ خُدا کا کلام زِندہ اور مُوثِر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زِیادہ تیز ہے اور جان اور رُوح اور بند بند اور گُودے کو جدا کر کے گذر جاتا ہے ۔" یہ آیت ہمیں دو باتیں بتاتی ہے: (1) جان اور رُوح کے درمیان ایک امتیازی نقطہ ہے اور (2) یہ امتیازی نقطہ صرف خدا ہی کے نزدیک قابلِ شناخت ہے۔ ان تمام آیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے نہ تو دو نو عیتی اور نہ ہی تین نوعیتی تشریحات کو واضح طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے۔ کیا انسانی فطرت کے غیر مادی پہلو میں جان اور رُوح شامل ہے؟ ہاں۔ کیا جان اور رُوح بالکل متحد اور مربوط ہیں (دونوعیتی) یا نہایت قریب تر مگر الگ الگ (تین نوعیتی ) ہیں ؟ یہ بات غیر واضح ہے ۔

جو لوگ انسانی فطرت کے تین نوعیتی ہونے پر یقین رکھتے ہیں عام طور پر درج ذیل باتوں پر یقین رکھتے ہیں: مادی بدن وہ چیز ہے جو ہمیں اپنے اردگرد کی ظاہری دنیا سے جوڑتا ہے، جان ہماری شخصیت کا جوہر ہے اور رُوح وہ چیزہے جو ہمیں خدا سے جوڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر نجات یافتہ افراد کو رُوحانی طور پر مردہ کہا جا سکتا ہے (افسیوں 2باب 1آیت ؛ کلسیوں 2باب 13آیت) جبکہ وہ جسمانی اور "رُوحانی طور پر پوری طرح " زندہ ہوتے ہیں۔ جو لوگ یہ مانتے ہیں کہ انسانی فطرت دو نوعیتی ہے وہ بدن کے بارے میں ویسی ہی سمجھ رکھیں گے لیکن وہ جان کو رُوح کے ایک ایسے حصے کے طور پر دیکھیں گے جو ہمیں خدا سے جوڑتا ہے۔ لہذا انسانی فطرت کا تین نو عیتی بمقابلہ دو نوعیتی ہونے کا سوال بنیادی طور پر یہ ہے کہ آیا جان اور رُوح غیر مادی انسانی فطرت کے الگ الگ پہلو ہیں یا پھر جان کے انسانی فطرت کے مکمل طور پر غیر مادی حصہ ہونے کے باعث رُوح محض جان کا ایک حصہ ہے ۔

انسان فطرت کے دو نوعیتی بمقابلہ تین نوعیتی ہونے کا نظریہ - ان میں سے کون سا نظریہ درست ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ اس بارے میں کٹر رویہ رکھنا بیوقوفی ہے۔ بائبل کے اعتبار سے دونوں نظریات قابل فہم ہیں۔ اِن میں سے کوئی بھی تشریح بدعتی نہیں ہے۔ غالباً یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے ہم اپنے محدود انسانی ذہنوں کے ساتھ پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہم جس چیز کے بارے میں پُر یقین ہو سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ انسانی فطرت ایک بدن، ایک جان اور ایک رُوح پر مشتمل ہے۔ چاہے جان اور رُوح ایک ہیں یا کسی طرح سے الگ الگ ہیں، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے خُدا نے اپنے کلام میں کثرت سے واضح کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ۔ چاہے آپ دونوعیتی نظریے پر یقین رکھتے ہوں یا تین نوعیتی پر، اپنے بدن کو خُدا کے حضور زندہ قربانی کے طور پر پیش کریں (رومیوں 12باب 1آیت) اپنی جان کی نجات کے لیے خدا کا شکر ادا کریں (1پطرس 1باب 9آیت) اور رُوح اور سچائی کے ساتھ خدا کی پرستش کریں (یوحنا 4 باب 23-24آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

تین نوعیتی انسانی ذات بمقابلہ دو نوعیتی انسانی ذات –درست نظریہ کونسا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries