خُدا نے باغِ عدن کے اندر نیک و بد کی پہچان کا درخت کیوں لگایا؟


سوال: خُدا نے باغِ عدن کے اندر نیک و بد کی پہچان کا درخت کیوں لگایا؟

جواب:
خدا نے باغِ عدن میں نیک و بد کی پہچان کا درخت اِس لیے لگایا تاکہ آدم اور حوّا کےپاس خدا کی فرمانبرداری یا نافرمانی کرنے کا انتخاب ہو۔ نیک و بد کی پہچان کے درخت کا پھل کھانے کےعلاوہ آدم اور حوّا اپنی مرضی کے مطابق سب کچھ کرنے کےلیے آزاد تھے ۔ پیدایش 2باب 16-17آیات بیان کرتی ہیں " اور خداوند خدا نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ تُو باغ کےہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے ۔ لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا" ۔ اگر خدا نے آدم اور حوّا کو انتخاب کرنے کی آزادی نہ دی ہوتی تو وہ بنیادی طور پر روبوٹ ہوتے جوصرف وہی کام کرتے جن کےلیے اِن میں پروگرامنگ کی گئی ہوتی۔ خدانے آدم اور حوّا کو آزاد پیدا کیا تھا وہ فیصلے لینے اور اچھائی اور بُرائی میں سے انتخاب کرنے کے قابل تھے ۔ آدم اور حوّا کے حقیقی طور پر آزاد ہونے کےلیے ضروری تھا کہ اُن کے پاس ایسا کچھ ہو جس میں سے وہ کسی چیز کا انتخاب کر سکیں۔

نیک بد کی پہچان کے درخت یا اُس کے پھل میں خاص طور پر کوئی بُرائی نہیں تھی۔ یہ غالباً ناممکن ہے کہ بذاتِ خود اُس پھل نے آدم اور حوّا کے علم میں کوئی اضافہ کیا ہو ۔ ممکن ہے کہ ظاہر ی طور پر اُس پھل میں کچھ وٹا من سی اور فائدہ مند فائبر ہوں مگر رُوحانی لحاظ سے اُس میں کوئی قوت نہیں تھی۔ تاہم رُوحانی طور پر جو چیز نقصان دہ تھی وہ آدم اور حوا کی نا فرمانی کا عمل تھا۔ اور اِسی نافرمانی کے گناہ نے بُرائی کےلیے آدم اور حوّا کی آنکھیں کھولیں ۔ یہ پہلی بار تھا جب اُنہوں نے جانا کہ گنہگار ہونا، شرمندہ ہو نا اور خدا سے خود کو چھپانا کیا ہوتا ہے ۔ آدم اور حوا کی نا فرمانی کا گناہ نہ صرف اُن کی زندگیوں میں بلکہ دنیا میں بھی خرابی لایا ۔ خداوند کی نافرمانی کے طور پر اُس پھل میں سے کھانے کے عمل نے آدم اور حوّا کو گناہ اور اُن کے ننگے پن کی پہچان دی( پیدایش 3باب 6-7آیات)۔

خدا نہیں چاہتا تھا کہ آدم اور حوا گناہ کرتے ۔ کیونکہ خدا پہلے ہی جانتا تھا کہ اِس گناہ کے کیا نتائج ہوں گے ۔ جب خدا جانتا تھا کہ آدم اور حوّا گناہ کریں گےاور اِس کی وجہ سے زمین پر بدی ، مصیبت اور موت لائیں گے تو پھر خدا نے شیطان کو اجازت کیوں دی کہ وہ آدم اور حوّا کو ورغلائے ؟ خدا نے آدم اور حوّا کو ورغلانے کےلیے شیطان کو اِس لیے اجازت دی تاکہ وہ انتخاب کرنے کےلیے موقع فراہم کرے ۔ آدم اور حوا نے اپنی آزاد مرضی سے خداوند کی نافرمانی کرنے اور ممنوعہ پھل میں سے کھانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ نتیجتاً اُسی وقت سے بدی، گناہ ، مصیبت ،بیماری اور مو ت دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں ۔ آخر کار آدم اور حوا کے اس فیصلے نے ہماری خاطر یسوع مسیح کے صلیب پر مرنے اور اپنےخون کوبہانے کوبھی لازمی بنا دیا تھا ۔مسیح یسوع پر ایمان لانے کے وسیلے ہم گناہ اور اُس کے نتائج سے آزاد ہو سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہم رومیوں 7باب 24- 25 آیات میں پولس رسول کے الفاظ کو دہرا سکتے ہیں " ہائے مَیں کیسا کمبخت آدمی ہوں !اِس موت کے بدن سے مجھے کون چُھڑائے گا؟ اپنے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے خدا کا شکر کرتا ہوں" ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
خُدا نے باغِ عدن کے اندر نیک و بد کی پہچان کا درخت کیوں لگایا؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں