settings icon
share icon
سوال

یسوع کی صورت تبدیل ہونے کا کیا مطلب تھااور اِس کی کیا اہمیت تھی؟

جواب


یسوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ وہ دُکھ اُٹھائے گا، قتل کیا جائے گا اور دوبارہ جی اُٹھے گا (لوقا 9 باب 22آیت) اور پھر اُس کے ایک ہفتے کے بعد وہ پطرس، یعقوب اور یوحنا کو لیکر ایک پہاڑ پر دُعا کرنے کے لیے گیا۔ جس وقت وہ دُعا کر رہا تھا تو اُس کی صورت تبدیل ہو کر مکمل جلالی ہو گئی، اُس کی پوشاک سفید برّاق ہو گئی۔ موسیٰ اور ایلیاہ اُس کے ساتھ ظاہر ہوئے جو اُس کی جلد واقع ہونے والی موت کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔ پطرس یہ نہ جانتے ہوئے کہ وہ کیا کہہ رہا تھا اور وہ غالباً کسی حد تک خوفزدہ بھی تھا، اُس نے وہاں پر تین ڈیرے بنانے کا مشورہ دیا۔ ڈیروں سے اُس کا اشارہ خیموں کی طرف تھا جو اسرائیلی عیدِ خیام کے موقع پر بناتے اور سات دن اُن میں گزارتے تھے (احبار 23 باب 34-42آیات)۔ پطرس اُسی مقام پر رہ جانے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ اُس وقت ایک بادل نے آکر اُن پر سایہ کر دیا اور وہ اُس بادل سے پوری طرح گھِر گئے ، اُس وقت اُنہیں ایک آواز آئی کہ " یہ میرا برگزِیدہ بیٹاہے ۔ اِس کی سُنو۔ " اُس کے بعد بادل چھَٹ گیا، تک تک موسیٰ اور ایلیاہ وہاں سے غائب ہو چکے تھے، یسوع اب اکیلا ہی اپنے شاگردوں کے ساتھ موجود تھا جو ابھی تک سارے ماجرے سے کسی حد تک خوفزدہ تھے۔ یسوع نے اُنہیں خبردار کیا کہ اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے پہلے وہ اِس سب کے بارے میں کسی کو نہ بتائیں۔ اِس واقعے کے بارے میں تینوں بیانات متی 17 باب 1-8آیات؛ مرقس 9 باب 2-8آیات اور لوقا 9 باب 28-36آیات میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

بلاشک یسوع کی صورت کے تبدیل ہونے کا واقعے کا مقصد یہ تھا کہ اُس کے بہت ہی قریبی شاگردوں پر اُس کے آسمانی جلال کو ظاہر کیا جائے تاکہ وہ یہ بہتر طور پر جان لیں کہ یسوع اصل میں ہے کون ۔ یسوع کی ذات کے ظاہری پن میں ایک ڈرامائی تبدیلی آئی تاکہ اُس کے شاگرد اُس کے جلال کو دیکھ سکیں۔ وہ شاگرد جنہوں نے ہمیشہ اُسے انسانی جسم میں ہی دیکھا تھا ، اِس واقعے کے بعد اُنہیں مسیح کی الوہیت کے بارے میں اور گہرے طور پر معلوم ہوا، حالانکہ وہ اُس واقعے کو پوری طرح سے سمجھ نہیں سکے تھے۔ اِس بات نے اُنہیں وہ تسلی اور اطمینان دیا جس کی اُنہیں یسوع کی نزدیک آتی موت کی خبر سُننے کے بعد ضرورت تھی۔

علامتی طور پر دیکھا جائے تو موسیٰ اور ایلیاہ کی وہاں پر موجودگی دراصل شریعت اور انبیاء کی نمائندگی کرتی ہے۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ آسمان سے خُدا باپ کی یہ آواز کہ "اِسکی سنو" یہ بتاتی ہے کہ یسوع مسیح کی بات کو شریعت اور انبیاء سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ یسوع زندگی کا نیا راستہ ہے جو پرانے راستے کی جگہ لے رہا تھا – وہ شریعت اور پرانے عہد نامے کی بے شمار نبوتوں کی تکمیل ہے۔مزید برآں اُس کے جلالی روپ میں اُنہوں نے اُس ک آمدِثانی کی جلالی جھلک کو بھی دیکھا جو اپنے جلال میں بادشاہوں کے بادشاہ اور خُداوندوں کے خُدا کے طور پر تخت نشین ہوگا۔

شاگرد کبھی بھی نہ بھلا سکے کہ اُس دن پہاڑ پر کیا ہوا تھا، اور یقینی طور پر اِس بات کا مقصد بھی یہی تھا۔ یوحنا اپنی انجیل میں لکھتا ہے کہ " ہم نے اُس کا اَیسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اِکلوتے کا جلال " (یوحنا 1 باب 14آیت)۔ پطرس نے بھی اِس کے بارے میں لکھا ہے، " کیونکہ جب ہم نے تمہیں اپنے خُداوند یسو ع مسیح کی قدرت اور آمد سے واقف کِیا تھا تو دغا بازی کی گھڑی ہُوئی کہانیوں کی پیروی نہیں کی تھی بلکہ خُود اُس کی عظمت کو دیکھا تھا۔کہ اُس نے خُدا باپ سے اُس وقت عزت اور جلال پایا جب اُس افضل جلال میں سے اُسے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خُوش ہوں۔ اور جب ہم اُس کے ساتھ مُقدّس پہاڑ پر تھے تو آسمان سے یہی آواز آتی سنی " (2 پطرس 1 باب 16-18 آیات)۔ وہ لوگ جنہوں نے یسوع کی صورت کے تبدیل ہونے کے اِس واقعے کو دیکھا تھا اُنہوں نے اِسکی گواہی دوسرے شاگردوں کے سامنے اور گزشتہ تمام صدیوں کے دوران کروڑوں لوگوں کے سامنے دی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یسوع کی صورت تبدیل ہونے کا کیا مطلب تھااور اِس کی کیا اہمیت تھی؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries