settings icon
share icon
سوال

اگر آپ بہت زیادہ مقروض ہیں تو کیا آپ کچھ عرصے کے لیے دہ یکی دینا بند کر سکتے ہیں ؟

جواب


قرض کی ادائیگی کے دوران دہ یکی دینا بند کرنا قابلِ قبول بات ہے۔ قرض کی ادائیگی فرض ہے جبکہ دہ یکی اس عام وجہ سے "اختیاری" ہے کہ دہ یکی دینے کا حکم موسوی شریعت کا حصہ تھا اور مسیحی شریعت کے ماتحت نہیں ہیں۔ براہ مہربانی اس بات کا غلط مطلب نہ لیں – خدا وند کے کام کے لیے دینا بہت ضروری ہے۔خدا ہر مسیحی سے ایسے مالی ہدیہ جات کی توقع کرتا ہے جن میں قربانی کا عنصر شامل ہو ۔ اگر بیک وقت قرض کی ادائیگی اور دہ یکی دینا واقعی ناممکن ہے تو واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کے پیش نظر عارضی طور پر دہ یکی دینے کو کم کرنا یا بالکل بند کر دینا غلط نہیں ہوگا۔

دوسرے لوگوں کے لیے ہماری ایک ناقابل تبدیل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اُن سے محبت کریں، اُن کے ساتھ ایسےپیش آئیں جیسے ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہمارے ساتھ پیش آئیں ( متی 7باب 12آیت)۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ لوگ اُن قرضوں کو ادا کریں جو وہ ہمیں دینے کے پابند ہیں ۔ پس بحیثیت مسیحی "آپس کی محبّت کے سوا کسی چیز میں کسی کے قرض دار نہ ہو کیونکہ جو دُوسرے سے مُحبّت رکھتا ہے اُس نے شرِیعت پر پُورا عمل کِیا۔ کیونکہ یہ باتیں کہ زِنا نہ کر۔ خُون نہ کر۔ چوری نہ کر۔ لالچ نہ کر اور اِن کے سوا اَور جو کوئی حکم ہو اُن سب کا خلاصہ اِس بات میں پایا جاتا ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبّت رکھ۔ محبّت اپنے پڑوسی سے بدی نہیں کرتی۔ اِس واسطے محبّت شرِیعت کی تعمیل ہے (رومیوں 13باب 8-10آیات)۔

پرانے عہد نامے کا دہ یکی کا قانون لاوی کے قبیلے کے کاہنوں کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خدا کی فراہمی کا نظام تھا ۔ اُنہیں ہیکل میں خدمت کرنے اور غریب لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مدد کی ضرورت تھی ( گنتی 18باب 26آیت؛ استثنا 26باب 12-15آیات)۔ لہذا جب اسرائیلی ہیکل کےلیے دہ یکی دینے میں نا کام رہے تو خدا نے اُنہیں خبردار کیا کہ "کیا کوئی آدمی خُدا کو ٹھگے گا؟ پر تم مجھ کو ٹھگتے ہو اور کہتے ہو ہم نے کس بات میں تجھے ٹھگا؟ دَہ یکی اور ہدیہ میں" ( ملاکی 3باب 8آیت)۔

دہ یکی کسی آدمی کی آمدنی کا دسواں حصہ ہوتا تھا : "اب لاوی کی اَولاد میں سے جو کہانت کا عُہدہ پاتے ہیں اُن کو حکم ہے کہ اُمّت یعنی اپنے بھائیوں سے اگرچہ وہ ابرہامؔ ہی کی صلب سے پیدا ہوئے ہوں شرِیعت کے مُطابِق دَہ یکی لیں" ( عبرانیوں 7باب 5آیت)۔ یسوع کی تمام زمینی زندگی کے دوران ہیکل میں لاویوں کی کہانتی خدمت جاری تھی اور اِس کے لیے دہ یکی درکار تھی ۔ لیکن خداوند یسوع کی موت، مُردوں میں سے جی اُٹھنے اور آسمان پر اُٹھائے جانے کے بعد چیزیں تبدیل ہو گئیں :"جب کہانت بدل گئی تو شرِیعت کا بھی بدلنا ضرور ہے" ( عبرانیوں 7باب 12آیت)۔ اب مسیح ہمار ا سردار کاہن ہے ۔ اب مسیحی خدا کی ہیکل اور اس کی شاہی کہانت ہیں ( عبرانیوں 4باب 14-15آیات؛ 1کرنتھیوں 6باب 19-20آیات؛ 1پطرس 9باب 10 آیات)۔

ہمارا سردار کاہن ہمیں رُوح القدس بخشنے کے وسیلہ سے ہمارے ساتھ نیا عہد (خدا کی شریعت جو ہمارے دلوں پر لکھی ہوئی ہے ) قائم کرتا ہے (عبرانیوں 12باب 24آیت؛ 10باب 16آیت)۔ یہ شریعت بڑی قوت سے کام کرتی ہے جس کےنتیجے میں ہم دوسروں سے ایسی محبت رکھتے ہیں جو رُوح القدس نے ہمارے دلوں میں پیدا کی ہے (گلتیوں 5باب 22-23آیات)۔ اسی لیے یوحنا لکھتا ہےکہ "جس کسی کے پاس دُنیا کا مال ہو اور وہ اپنے بھائی کو محتاج دیکھ کر رَحم کرنے میں دریغ کرے تو اُس میں خُدا کی مُحبّت کیوں کر قائم رہ سکتی ہے؟ اَے بچّو! ہم کلام اور زُبان ہی سے نہیں بلکہ کام اور سچّائی کے ذریعہ سے بھی محبّت کریں " (1یوحنا 3باب 17-18آیات)۔ خدا کی محبت ایک سچے مسیحی کو سخاوت کی ترغیب دیتی ہے لیکن نئے عہد نامے کے خطوط میں سے کوئی بھی خط حکم نہیں دیتا ہے اور نہ ہی یہ تجویز کرتا ہے کہ مسیحی اپنے مال کا دسواں یا کوئی اور حصہ دیں۔ مسیحی سخاوت مسیحی محبت کا نتیجہ ہے۔

مسیحی اگر فیصلہ کرتے ہیں تو وہ اپنی آمدنی میں سے دہ یکی ( دسواں حصہ) دے سکتے ہیں اور اِس ضرورت مند دنیا میں دوسروں کی رُوحانی اور مادی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگ دسویں حصے سے کم دینے کا فیصلہ کریں گےتو کچھ زیادہ دینے کا فیصلہ کریں گے۔ پولس اتوار کے دن کلیسیا کے لیے دینے کی نصیحت کرتا ہے کہ : "ہفتہ کے پہلے دِن تم میں سے ہر شخص اپنی آمدنی کے مُوافق کچھ اپنے پاس رکھ چھوڑا کرے تاکہ میرے آنے پر چندے نہ کرنے پڑیں " (1کرنتھیوں 16باب 2آیت)۔

مسیحیوں کو اپنے لیے مال جمع نہیں کرنا چاہیے بلکہ جس قدر خدا ہدایت کرتا ہے اُتنا زیادہ دینا چاہیے ۔ ہمارے پاس موجود پیسہ خدا ہی کا ہے۔خُدا کی طرف سے ملنے والی برکات اُس قیمت سے کہیں بڑھ کر ہیں جو ہم اُس کی راہ میں دیتے ۔ "لیکن بات یہ ہے کہ جو تھوڑا بوتا ہے وہ تھوڑا کاٹے گا اور جو بہت بوتا ہے وہ بہت کاٹے گا۔ جس قدر ہر ایک نے اپنے دِل میں ٹھہرایا ہے اُسی قدر دے نہ دریغ کر کے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خُدا خُوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔ اور خُدا تم پر ہر طرح کا فضل کثرت سے کر سکتا ہے تاکہ تم کو ہمیشہ ہر چیز کافی طَور پر ملا کرے اور ہر نیک کام کےلیے تمہارے پاس بہت کچھ موجود رہا کرے "(2کرنتھیوں 9باب 6-8آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اگر آپ بہت زیادہ مقروض ہیں تو کیا آپ کچھ عرصے کے لیے دہ یکی دینا بند کر سکتے ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries