settings icon
share icon
سوال

اِس کا کیا مطلب ہے کہ یسوع کی آمدِ ثانی رات میں چور کی مانند ہوگی؟

جواب


یسوع مسیح کی آمدِ ثانی کو رات کے وقت آنے والے چور سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ دوحوالہ جات ان الفاظ " رات کو چور کی مانند"آنے کا استعمال کرتے ہیں : متی 24باب 43آیت"لیکن یہ جان رکھّو کہ اگر گھر کے مالک کو معلوم ہوتا کہ چور رات کے کون سے پہر آئے گا تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب نہ لگانے دیتا" اور 1تھسلنیکیوں 5باب 2آیت"اِس واسطے کہ تم آپ خوب جانتے ہو کہ خُداوند کا دِن اِس طرح آنے والا ہے جس طرح رات کو چور آتا ہے ۔"

یسوع متی 24 باب میں بیان کرتا ہے اُس کی دوسری آمد آخری مصیبت کے اختتام پر ہو گی ۔ پولس اُسے1تھسلنیکیوں 5 باب میں " خداوند کا دن" قرار دیتا ہے ۔ یہ الٰہی عدالت یا سزا و جزاکا دن ہے جس میں آسمانی قوتوں کو ہلایا جائے گا اور آسمان پر " ابن ِ آدم کانشان"ظاہر ہوگا ( متی 24باب 29-30 آیات)۔ یسوع بیان کرتا ہے کہ ایسا " اُن دِنوں کی مصیبت کے بعد " رونما ہوگا ( 29آیت) یہ ایک ایسا بیان ہے جو اس واقعے کو کلیسیا کے اُٹھائے جانے کے عمل یعنی ریپچر سے الگ کرتا ہے جو آخری مصیبت سے پہلے واقع ہوگا ۔

یسوع کی دوسری آمد رات کو آنے والے چور کی مانند کیسے ہو گی ؟ یسوع مسیح کی طرف سے اپنی آمدِ ثانی کو چور کی مانند آنے کیساتھ تشبیہ دینے میں بنیادی عنصر یہ ہے کہ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کب واپس آئے گا ۔جس طرح چور گھر والوں کو اچانک آ پکڑتا ہے بالکل اسی طرح سے یسوع جب عدالت کے لیے آئےگا تو وہ غیر ایماندار دنیا کو اچانک آپکڑے گا ۔ لوگ" کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے ہونگے " یہ سوچتے ہوئے کہ جیسے کہ اُنہوں نے ہمیشہ زمین پر ہی رہنا ہے ۔ لیکن اس کے بعد جب اُن کو گمان بھی نہ ہو گا عدالت کا دن اُن پر آپڑے گا ( 40-41آیات)۔ پولس رسول اس بات کو یوں بیان کرتا ہے : "جس وقت لوگ کہتے ہوں گے کہ سلامتی اور اَمن ہے اُس وقت اُن پر اِس طرح ناگہاں ہلاکت آئے گی جس طرح حاملہ کو درد لگتے ہیں اور وہ ہرگز نہ بچیں گے " ( 1تھسلنیکیوں 5باب 3آیت)۔

ایماندار اس اچانک ظاہر ہونے والی عدالت سے خوفزدہ نہیں ہوتے ؛"یسوع کی چور کی مانند آمد " ہم پر ناگہاں ظاہر نہیں ہوگی ۔ کیوں مسیحی دوسرے لوگوں کی مانند نہیں ہیں :" لیکن تم اَے بھائیو ! تارِیکی میں نہیں ہو کہ وہ دِن چور کی طرح تم پر آ پڑے " ( 1تھسلنیکیوں 5باب 4آیت)۔ لیکن صرف وہ لوگ جو اندھیرےمیں ہیں بے خبر رہیں گے اور ہم " سب نُور کے فرزند اور دِن کے فرزند " ہیں ( 5آیت)۔ خداوند کی حمد ہو" کیونکہ خُدا نے ہمیں غضب کے لئے نہیں بلکہ اِس لئے مقرر کِیا کہ ہم اپنے خُداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے نجات حاصل کریں "( 9آیت)۔

غیر نجات یافتہ لوگوں کو یسوع کی طرف سے ملنے والے انتباہ پر دھیان دینا چاہیے : "اِس لئے تم بھی تیّار رہو کیونکہ جس گھڑی تم کو گمان بھی نہ ہو گا اِبنِ آدم آ جائے گا" ( متی 24باب 44آیت)۔ آپ کیسے تیار ہو سکتے ہیں ؟خدا نے آپ کو عدالت سے بچنے کا راستہ فراہم کیا ہے ۔ اور وہ راستہ یسوع مسیح ہے ( یوحنا 14باب 6آیت)۔ یسوع مسیح کو اپنا خداوند اور نجات دہندہ قبول کرنے کے وسیلہ سے آپ کو ہمیشہ کی زندگی کے وعدے کے ساتھ گناہوں کی معافی ،خُدا کافضل و رحم اور نجات بخشی جاتی ہے (یوحنا 3باب 16آیت؛ افسیوں 2باب 8-9آیات)۔ "چور" آ رہا ہے مگر آپ دن کے فرزند بن سکتے ہیں ۔ دیر مت کریں؛ یہی "خُداوند کے سالِ مقبول " کا وقت ہے ( لوقا 4باب 19آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اِس کا کیا مطلب ہے کہ یسوع کی آمدِ ثانی رات میں چور کی مانند ہوگی؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries