الہیاتی ارتقاء کا نظریہ کیا ہے؟


سوال: الہیاتی ارتقاء کا نظریہ کیا ہے؟

جواب:
الہیاتی ارتقاء کا نظریہ زندگی کی ابتدا کے بارے میں تین بڑے عالمی نظریاتِ حیات میں سے ایک ہے۔اِس کے علاوہ دوسرے دو نظریات میں سے پہلا ملحدانہ نظریہ ارتقاء ہے (اِسے عام طور پر ڈاروّن کے نظریہ ارتقاء اور منکرین کے نظریہ ارتقاء کے طور پر بھی جانا جاتا ہے) اور دوسرا اہم نظریہ خصوصی تخلیق ہے ۔الہیاتی ارتقاء کی کچھ اور تشریحات بھی ہیں جودو انتہاؤں میں سے کسی ایک کے قریب نظر آتی ہیں۔اِس کا ایک نظریہ الحاد پرستی کے کافی قریب ہے جو یہ کہتا ہے کہ خُدا زندگی کی پیدایش اور بڑھوتری پر صرف اور صرف فطری سلسلوں کو ہی اثر انداز ہونے دیتا ہے۔ دوسرا نظریہ یہ مفروضہ پیش کرتا ہے کہ خُدا مسلسل طور پر مختلف معجزات کا استعمال کرتا ہے تاکہ وہ ارتقائی عمل کی رہنمائی کر سکے۔

الہیاتی ارتقاء اپنے پہلے مرحلے میں یہ بیان کرتا ہے کہ خُدا موجود ہے لیکن وہ زندگی کی ابتدا کے حوالے سے اِس عمل میں براہِ راست شامل نہیں تھا۔ اِس نظریے کے مطابق خُدا نے زندگی اور سب چیزوں کی پیدایش کے لیے ضروری مواد کو پیدا کر کے فطری اصولوں کو تشکیل دیا اور جس وقت وہ یہ سب کچھ کر رہا تھا اُس کے ذہن میں زندگی کو جنم دینے کا خیال موجود تھا۔ بہرحال ابتدائی طور پر اُس نے اپنے آپ کو کچھ بھی کرنے سے روکے رکھا اور یوں اُس نے اپنی تخلیق کو اپنے طور پر کام کرنے دیا۔ اُس نے اُن ابتدائی طور پر تخلیق کردہ چیزوں یعنی مواد اور فطری اصولوں کو وہ سب کچھ کرنے دیا جو کرنے کے لیے اُن کو تخلیق کیا گیا تھا، اور پھر بالآخر بے جان مواد میں سے زندگی وجود میں آئی۔ یہ نظریہ ملحدانہ ارتقاء کے نظریے کی ہی مانند ہےالبتہ یہ نظریہ اِس تصور کو پیش کرتا ہے کہ زندگی کا تصور خُدا کے ذہن میں آیا تھا اور اُسی نے زندگی کو پیدا کرنے کے لیے ابتدائی مواد تخلیق کیا۔ ملحدانہ ارتقاء کا نظریہ بھی یہی مفروضہ پیش کرتا ہے کہ زندگی پہلے سے موجود بے جان مواد میں سے بہت سارے فطری عوامل کے رونما ہونے کے بعد وجود میں آئی تھی۔ بہرحال ملحدانہ ارتقاء میں یہ مانا جاتا ہے کہ خُدا سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور نہ ہی یہ نظریہ فطرت کے اصولوں کے وجود میں آنے کے حوالے سے کچھ بھی بیان کرتا ہے۔

ملحدانہ ارتقاء کے مخالف الہیاتی ارتقاء کا نظریہ بیان کرتا ہے کہ خُدا نے اُس زندگی کو وجود میں لانے کے لیے جسے ہم دیکھتے اور جانتے ہیں مسلسل طور پر بہت سارے معجزات کئے۔ اِس نظریے کے مطابق خُدا نے زندگی کے عمل کی بہت ہی بنیادی اور سادہ سطح سے درجہ بدرجہ پیچیدگی کی طرف رہنمائی کی۔ یہ نظریہ ڈاروّن کے حیات کے درخت سے بہت زیادہ مماثلت رکھتا ہے ، جبکہ اِس میں ڈاروّن کی طرف سے تجویز کردہ ڈی این اے کی کیمیائی ترکیب میں تبدیلی اور فطری چناؤ کی جگہ خُدا کی ذات کی مداخلت لے لیتی ہے۔ اِس نظریے کے مطابق فطری عوامل میں جہاں کہیں پر زندگی فطری طریقوں سے جنم نہیں لے سکتی تھی وہاں وہاں خُدا نے خصوصی مداخلت کی۔ یہ نظریہ ایک طرح سے خصوصی تخلیق کے نظریے سے بھی مماثلت رکھتا ہے کیونکہ یہ بیان کرتا ہے کہ یہ زندگی جس کو ہم دیکھتے اور جانتے ہیں اِس کو وجود میں لانے کے لیے خُدا نے خصوصی اقدامات کئے۔ خصوصی تخلیق کا نظریہ یہ بیان کرتا ہے کہ خُدا نے زندگی کو براہِ راست طور پر تخلیق کیا، اور اُس کا ایسا کرنا نیست سے ہست کی تخلیق کے طور پر بھی ہو سکتا ہے اور پہلے سے اپنے ہی تخلیق کردہ مواد کو استعمال کرتے ہوئے بھی۔

خصوصی تخلیق اور الہیاتی ارتقاء کے نظریے کے بہت سارے پہلوؤں میں کئی ایک جگہوں پر بہت زیادہ اور نمایاں فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ اِن دونوں نظریات کے اندر ایک نمایاں ترین فرق موت کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔ الہیاتی ارتقاء کے حامی یہ مانتے ہیں کہ ارضیاتی کالموں کے اندر بہت زیادہ فوسلوں کا ریکارڈ موجود ہے اور یہ فوسل بہت لمبے ادوار (کئی ملین یا بلین سالوں کے دورانیے) کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اب چونکہ فوسلوں کے اِس ریکارڈ میں انسان کہیں پر نظر نہیں آتا تو اِس لیے الہیاتی ارتقاء کے حامی یہ مانتے ہیں کہ انسان کے اِس زمین پر آنے سے پہلے بہت سی دیگر مخلوقات یہاں پر رہتی ، جیتی اور مرتی رہی ہیں اور بہت ساری تو ایسی ہیں جو انسان کے وجود میں آنے سے بہت پہلے ہی معدوم ہو گئی تھیں۔ اُن کی اِس بات کا مطلب ہے کہ اُن سب جانداروں یا جانوروں کی موت آدم سے پہلے ہی ہو چکی ہے اور موت اصل میں آدم کے گناہ کے نتیجے کے طور پر اِس دُنیا میں نہیں آئی تھی۔

خصوصی تخلیق کے ماننے والے یہ یقین رکھتے ہیں کہ زمین کئی ملین یا بلین سال پرانی نہیں بلکہ بہت کم عمر ہے اور یہ جو فوسلوں کا ریکارڈ ہمیں ملتا ہے یہ انسان کی پیدایش سے بہت بعد نوح کے طوفان کے دوران یا اُس کے بعد کے عوامل کی وجہ سے وجود میں آیا تھا۔ رسوبی چٹانوں کی تہیں پانی اور مائعات کے بہاؤ اور اِن کے مختلف عوامل کی وجہ سے وجود میں آئیں، اور یہ دونوں عوامل آج کے دور میں بھی وقوع پذیر ہوتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ پس یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ جتنے بھی فوسلوں کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ موت اور اجسام کی باقیات کا تعلق آدم کے سینکڑوں سال بعد کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔

خصوصی تخلیق اور الہیاتی ارتقاء کے درمیان ایک اور بہت ہی واضح فرق اِن دونوں نظریات کی طرف سے زمین کی عمر کے تعین کے حوالے سے مختلف تشریحات کی بناء پر سامنے آتا ہے۔ الہیاتی ارتقاء کے پیروکار پیدایش کی کتاب کے پہلے باب میں بیان کردہ تخلیق کے دِنوں کو یا تو "تخلیق کے دن بطورِ لمبے ادوار" کے نظریے یا پھر "فریم ورک تھیوری" کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ اور یہ دونوں ہی نظریات پیدایش کے پہلے ابواب کی مجازی تفسیر کرتے ہیں۔ زمین کو کم عمر ماننے والے لوگ اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پیدایش 1 باب میں بیان کردہ تخلیق کے دن 24 گھنٹوں پر مشتمل عام دن ہی تھے۔ الہیاتی ارتقاء حقیقت میں پیدایش کے پہلے دو ابواب کی لغوی تفسیر یا تشریح بالکل بھی نہیں کر سکتی۔

الہیاتی ارتقاء کے حامی بھی ڈاروّن ازم کے ہی ایک پہلو پر یقین رکھتے ہیں ۔ اُن کا ماننا ہے کہ پہلے ستارے ارتقاء پذیر ہوئے، پھر اُن ستاروں میں سے ہمار نظامِ شمسی پیدا ہوا، پھر یہ زمین وجو دمیں آئی۔ اِس کے بعد زمین پر مختلف پودے اور نباتات ارتقاء پذیر ہوئے، جانور ارتقاء کے وسیلے وجود میں آئے اور پھر آخر میں انسان بھی ارتقاء ہی کے وسیلے وجود میں آیا۔ الہیاتی ارتقاء کے حامی اگرچہ ڈاروّن کے نظریے کے برعکس یہ مانتے ہیں کہ اِن ارتقائی عوامل کو تحریک دینے والا خُدا ہی تھا لیکن اِس کے ساتھ ساتھ وہ ڈاروّن ازم کے ساتھ اُس سارے وقت، لمبے ادوار، کئی ملین یا بلین سالوں کے ارتقائی دورانیے پربھی اتفاق کرتے ہیں۔ جس طرح کے لمبے ادوار کے بارے میں ارتقاء کے حامی بات کرتے ہیں وہ پیدایش 1 باب کی لغوی تفسیر اور تشریح سے متصادم ہے۔ مثال کے طور پر پیدایش کی کتاب 1 باب بیان کرتا ہے کہ یہ زمین تخلیقی ہفتے کے پہلے دن تخلیق کی گئی اور سورج، چاند اور ستارے تخلیقی ہفتے کے چوتھے روز تخلیق کئے گئے تھے۔ ابھی الہیاتی ارتقاء کے ماننے والوں کا کہنا یا اِس حوالے کی تفسیر کرنا یہ تصویر پیش کرتا ہے کہ سورج ، چاند اور ستارے پہلے ہی دن تخلیق ہو گئے تھے لیکن زمین کی فضا میں سے اُن کو دیکھنا ممکن نہیں تھا اور وہ چوتھے روز ہی نظر آئے، پس اِس لیے اِس حوالے کے اندر یہ لکھا ہوا ہے کہ وہ چوتھے دن تخلیق کئے گئے تھے۔

پیدایش 1 باب کی لغوی تشریح یا تفسیر اور اُس کا سادہ مطالعہ واضح طور پر یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ پرندے پانچویں دن سمندری مخلوقات کے ساتھ تخلیق کئے گئے تھے جبکہ خشکی کے جاندار چھٹے دن سے پہلے تک تخلیق نہیں ہوئے تھے۔ یہ بات ڈاروّن ازم کے اِس تصورکے بالکل مخالف ہے کہ پرندے اصل میں خشکی کے جانداروں میں سے ارتقاء پذیر ہوئے تھے۔ لغوی اور سادہ تعلیم اور تفسیر بیان کرتی ہے کہ پرندے خشکی کے جانداروں سے پہلے وجو د میں آئے تھے۔ لیکن الہیاتی ارتقاء کے حامیوں کا نظریہ اِس چیز کو بائبل کے بیان کے بالکل متضاد پیش کرتا ہے۔

اِس بات سے قطع نظر کہ کوئی شخص بائبل یا سائنسی شواہد کی تشریح و تفسیر کیسے کرتا ہے انسانی تجربے نے اِس بات کو ثابت کیا ہے کہ بائبل مُقدس بالکل قابلِ اعتماد کتاب ہے۔ کئی صدیوں کے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے بائبل نے اِس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ یہ نہ صرف سائنس کے ساتھ ہم آہنگ ہے بلکہ اِس کے ساتھ ساتھ جتنے بھی مصدقہ حقائق ہیں اُن میں سے کسی ایک نے بھی کبھی بائبل کے کسی ایک لفظ کو بھی غلط ثابت نہیں کیا۔ کلامِ مُقدس کی تفسیر یا تشریح کرنے میں کئی لوگوں کی اپنی کمزوری سامنے آ سکتی ہے اور اُس تفسیر میں وہ کمزوری ظاہر ہو سکتی ہے لیکن خُدا کا کلام بذاتِ خود کبھی بھی غلط نہیں ہے۔ بائبل خُدا کا زندہ کلام ہے جو ہمیں اِس کائنات کے خالق کی طرف سے دیا گیا ہے۔ اِس کلام میں خُدا نے خود بیان کیا ہے کہ اُس نے اِس کائنات کو خود کیسے تخلیق کیا ہے اور جو بیان خُدا نے خود دیا ہے اُس کو سائنس کی کسی ملحدانہ تفسیر یا تشریح سے کسی طرح کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
الہیاتی ارتقاء کا نظریہ کیا ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں