settings icon
share icon
سوال

جسم کیا ہے؟

جواب


جان نوکس (1510ءتا1572ء) ایک سکاٹش پادری، پروٹسٹنٹ اصلاح کا ررہنما اور ایک ایسا شخص تھا جسے سکاٹ لینڈ میں پریسبیٹیرین فرقے کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ نوکس کو اُن کے ہم عصر ماہرینِ الہیات نے ایک ایسے شخص کے طور پر سراہا ہے جو خُدا کے کلام کےلیے اپنے اندر بہت زیادہ جوش و جذبہ رکھتا اور جس نے کلام کی سچائی کو بیان کرنےاور ایک پاک زندگی گزارنے کے لیے خود کو وقف کیا ہوا تھا۔ اِس کے باوجود جیسے جیسے وہ اپنے بڑھاپے کی وجہ سے موت کے قریب تر ہوتا چلا گیا تو اُس نے آدم سے ملنے والی گناہ آلود فطرت (رومیوں 5باب12آیت) کیساتھ اپنی ذاتی جنگ کا اعتراف کیا۔ نوکس نے کہا ہے کہ "مَیں جانتا ہوں کہ مصیبت کی بھاری صلیب کے نیچے جسم اور رُوح کے درمیان جنگ کتنی سخت ہے، اور جب کوئی دُنیاوی دفاع سامنے نہیں ہوتا بلکہ جلد واقع ہونے والی موت ظاہر ہوتی ہے۔ مَیں جسم کی ناگوار اور بڑبڑانے والی شکایات کو جانتا ہوں..."

نوکس کا بیان پولس رسول کے اُس بیان کی طرح لگتا ہے جس میں اُس نے کھلے عام اپنی گناہ آلود فطرت کے ساتھ ذاتی جدوجہد کا اعتراف کیا: " کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ شریعت تو رُوحانی ہے مگر مَیں جسمانی اور گناہ کے ہاتھ بکا ہوا ہوں۔اور جو مَیں کرتا ہوں اُس کو نہیں جانتا کیونکہ جس کا مَیں اِرادہ کرتا ہوں وہ نہیں کرتا بلکہ جس سے مجھ کو نفرت ہے وُہی کرتا ہوں۔اور اگر مَیں اُس پر عمل کرتا ہوں جس کا اِرادہ نہیں کرتا تو مَیں مانتا ہوں کہ شریعت خوب ہے۔پس اِس صورت میں اُس کا کرنے والا مَیں نہ رہا بلکہ گناہ ہے جو مجھ میں بسا ہوا ہے۔کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ مجھ میں یعنی میرے جسم میں کوئی نیکی بسی ہوئی نہیں البتہ اِرادہ تو مجھ میں موجود ہے مگر نیک کام مجھ سے بن نہیں پڑتے۔چنانچہ جس نیکی کا اِرادہ کرتا ہوں وہ تو نہیں کرتا مگر جس بدی کا اِرادہ نہیں کرتا اُسے کرلیتا ہوں۔پس اگر مَیں وہ کرتا ہوں جس کا اِرادہ نہیں کرتا تو اُس کا کرنے والا مَیں نہ رہا بلکہ گناہ ہے جو مجھ میں بسا ہوا ہے۔ غرض مَیں اَیسی شرِیعت پاتا ہوں کہ جب نیکی کا اِرادہ کرتا ہوں تو بدی میرے پاس آموجود ہوتی ہے۔کیونکہ باطنی اِنسانیت کی رُو سے تو مَیں خُدا کی شریعت کو بہت پسند کرتا ہوں۔ مگر مجھے اپنے اعضا ءمیں ایک اَور طرح کی شریعت نظر آتی ہے جو میری عقل کی شریعت سے لڑکر مجھے اُس گناہ کی شرِیعت کی قید میں لے آتی ہے جو میرے اعضاء میں موجود ہے۔ ہائے مَیں کیسا کمبخت آدمی ہوں! اِس مَوت کے بدن سے مجھے کون چھڑائے گا ؟ " (رومیوں 7باب14-24آیات)

پولس نے رومیوں کے نام اپنے خط میں کہا ہے کہ اس کے جسم/بدن کے "اعضاء" میں کچھ ایسا تھا جسے وہ "اپنا بدن" کہتا ہے جس سے اس کی مسیحی زندگی میں دشواری پیدا ہوئی اور وہ اُسے گناہ کی شریعت کی قید میں لے آتا ہے۔ مارٹن لوتھر نے رومیوں کی کتاب کی تفسیر کے دیباچے میں پولس کے "بدن/جسم" کے استعمال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "تمہیں"جسم" کو محض گوشت نہیں سمجھنا چاہیے، جیسے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ آیا یہ محض جسمانی گوشت ہی تھا جو ناشائستگی سے جڑا ہوا ہے، بلکہ مُقدس پولس رسول یہاں پر پورے انسان، جسم ، رُوح، عقل اور اِس کی تمام صلاحیتوں کو بیان کرنے کے لیے "جسم" کا لفظ استعمال کرتا ہے کیونکہ جو کچھ بھی اِس کے اندر ہے وہ جسم کے پیچھے ترستا اور جسمانی چیزوں کے حصول کے لیے ہی کوشاں رہتا ہے۔ یہاں پر لوتھر کا تبصرہ اشارہ کرتا ہے کہ "جسم" اِن تمام احساسات اور خواہشات کے مترادف ہے جو نہ صرف جنسی سرگرمی کے حوالے سے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں خدا کے خلاف چلتی ہیں۔

"جسم" کی اصطلاح کا ٹھوس ادراک حاصل کرنے کے لئے کلام میں اس کے استعمال اور تعریف کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ یہ ایمان داروں اور غیر ایمانداروں کی زندگی میں کس طرح ظاہر ہوتا ہے، اس سے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں اور بالآخر اس پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے۔

"جسم " کی تعریف

نئے عہد نامے میں "جسم " کے لیے یونانی لفظ "سارکسsarx " استعمال کیا گیا ہے ہے، یہ اصطلاح اکثر کلام میں مادی جسم کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔ تاہم یونانی –انگریزی لغت بعنوان "A Greek-English Lexicon of the New Testament and Other Early Christian Literature" اِس لفظ کو کچھ اِس طرح سے بیان کرتی ہے کہ "پولس رسول کے خیال میں جسم سے مُراد ایک طبعی جسم کے تمام کے تمام اعضاء ایک ہو کر کام کرتے ہوئے ایک ایسے جسم کو ترتیب دیتے ہیں جو اِس حد تک گناہ کے اثر تلے ہے کہ جہاں جہاں بھی جسم ہے وہاں وہاں گناہ کی تمام اقسام اسی طرح موجود ہوتی ہیں اور اُس میں کوئی اچھی چیز موجود نہیں ہوتی۔"

بائبل مُقدس واضح کرتی ہے کہ انسانیت کا آغاز اِس طرح سے نہیں ہوا تھا۔ پیدائش کی کتاب میں کہا گیا ہے کہ انسان اصل میں اچھا اور کامل پیدا کیا گیا تھا: "پھر خُدا نے کہا کہ ہم اِنسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپایوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اِختیار رکھیں ۔اور خُدا نے انسان کو اپنی صور ت پر پیدا کیا ۔ خدا کی صورت پر اُسکو پیدا کیا ۔ نر و ناری اُنکو پیدا کیا" (پیدائش 1باب26-27آیات)۔ کیونکہ خدا کامل ہے اور چونکہ ہر ایک اثر ، وجود یا عمل اپنے سبب کی اصل نمائندگی کرتا ہے ]یعنی ایک بالکل اچھا خدا صرف اچھی چیزیں ہی پیدا کر سکتا ہے، یا جیسا کہ یسوع نے کہا، "ایک اچھا درخت بُرا پھل نہیں لا سکتا" (متی 7باب18آیت)]، آدم اور حوّا دونوں اچھے اور گناہ کے بغیر پیدا کیے گئے تھے۔ لیکن جب آدم اور حوّا نے گناہ کیا تو اُن کی فطرت گناہ آلود ہو گئی اوریہی گناہ آلود فطرت اُن کی اولاد میں بھی منتقل ہو گئی: "آدم ایک سوتیس برس کا تھا جب اُسکی صورت و شبیہ کا ایک بیٹا اُسکے ہاں پیداہوا اور اُس نے اُسکا نام سیت رکھا " (پیدایش 5باب 3 آیت)۔

گناہ آلود فطرت کی حقیقت کی تعلیم کلامِ مُقدس میں کئی مقامات پردی جاتی ہے، جیسے کہ داؤد اعلان کرتا ہے کہ " دیکھ ! مَیں نے بدی میں صورت پکڑی اور گنا ہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا " (51زبور 5آیت)۔ داؤد کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ کسی بدکار عمل کی وجہ سے پیدا ہوا تھا بلکہ اُس کا مطلب یہ تھا کہ اُس کو اپنے والدین کی طرف سے گناہ آلود فطرت ملی تھی۔ علمِ الٰہیات میں اِسی انسانی فطرت کو بعض اوقات "Traducian" کہا جاتا ہے(یہ لاطینی اصطلاح سےماخوذ ہے جس کے معنی ہیں "شاخ سے") ٹریڈوسیائی نقطہ نظر یہ ہے کہ ایک انسان کی رُوح اس کے والدین کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے، اور بچّہ اس عمل میں اُن کی گناہ میں گری ہوئی فطرت کا وارث ہوتا ہے۔

انسانی فطرت کے بارے میں بائبل کا نقطہ نظر یونانی فلسفے سے مختلف ہے، اور اِس حوالے سے کلامِ مُقدس فرماتا ہے کہ ابتدائی طور پر انسان جسمانی اور رُوحانی لحاظ سے اچھی حالت میں تھا۔ اور یہ بات یونانی فلسفیوں کے تصورات کے برعکس ہے جیسے کہ افلاطون جیسے فلسفیوں نے انسانیت کو دو نوعیتی قرار دیا ہے۔ اس طرح کی سوچ بالآخرایک ایسے نظریے کو پیدا کرتا ہے جس کے مطابق جسم ایک بُری چیز ہے اور رُوح ایک اچھی چیز ہوتی ہے۔ اس تعلیم نے غناسطیت جیسے گروہوں کو متاثر کیا جو یہ سمجھتے تھے کہ مادی دُنیا Demiurge نامی ایک دیوتا سے غلطی سے تخلیق ہو گئی تھی۔ غناسطیوں نے مسیح کے مجسم ہونے کے عقیدے کی سخت مخالفت کی تھی کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ خدا کبھی جسمانی شکل اختیار نہیں کرسکتا کیونکہ جسم برا تھا۔ یوحنا رسول کو اپنے دور میں اسی تعلیم کی ایک شکل کا سامنا کرنا پڑا اوراُس نے اِس کے خلاف لوگوں کو خبردار بھی کیا تھا"اَے عزیزو! ہر ایک رُوح کا یقین نہ کرو بلکہ رُوحوں کو آزماؤ کہ وہ خُدا کی طرف سے ہیں یا نہیں کیونکہ بہت سے جھوٹے نبی دُنیا میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔خُدا کے رُوح کو تم اِس طرح پہچان سکتے ہو کہ جو کوئی رُوح اِقرار کرے کہ یسوع مسیح مجسم ہوکر آیا ہے وہ خُدا کی طرف سے ہے۔ اور جو کوئی رُوح یسوع کا اِقرار نہ کرے وہ خُدا کی طرف سے نہیں اور یہی مخالفِ مسیح کی رُوح ہے جس کی خبر تم سن چکے ہو کہ وہ آنے والی ہے بلکہ اَب بھی دُنیا میں موجود ہے(1 یوحنا 4باب1-3آیات)۔

مزید برآں غناسطتیوں نے سکھایا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی شخص اپنے جسم میں کیا کرتا ہے، کیونکہ ساری اہمیت تو رُوح کی ہی ہے۔ افلاطونی دو نوعیتی نظریے کا اثر جتنا پہلی صدی میں تھا اُتنا ہی اثر آج بھی ہے۔ یہ اثر یا تو جوگ /درویشی کی طرف لے کر جاتا ہے یا پھر عیاشی اور آوارگی کی طرف۔ اور اِن دونوں طرح کے رویوں کی بائبل مذمت کرتی ہے (کلسیوں 2باب23آیت؛ یہوداہ 4آیت)۔

چنانچہ یونانی تفکر و فلسفے کے برعکس بائبل کہتی ہے کہ ابتدائی طور پر انسانیت کی فطرت جسمانی اور رُوحانی لحاظ سے اچھی تھی، اور پھر انسان کے گناہ میں گرنے کے باعث دونوں ہی گناہ سے بُری طرح متاثر ہو گئے۔ گناہ کاحتمی نتیجہ ایک ایسی فطرت ہے جسے اکثر کلام میں "جسم /بدن" کہا جاتا ہے– یہ وہ چیز ہے جو خدا کی مخالفت کرتی ہے اور گناہ کی تسکین چاہتی ہے۔ پادری مارک بوبیک جسم کی تعریف اس طرح کرتے ہیں: "جسم/بدن ایک ایسی چیز ہے جس میں ابھی فطری طور پر ناکامی شامل ہے اور یہی چیز ایک نفسانی آدمی کے لیے خُدا کی خوشنودی کو ناممکن بناتی ہے۔ یہ انسان کےگناہ میں گرنے کی بدولت ایک موروثی ناگزیر اندرونی قوت ہے جو خدا اور اس کی راستبازی کے خلاف عمومی اور مخصوص بغاوت کا اظہار کرتی ہے۔ جسم کی اصلاح یا بہتری نہیں کی جا سکتی۔ جسم کی شریعت سے فرار کی واحد اُمید اِسے مصلوب کر نے میں ہی ہے جس کے بعد اِس میں اُس زندگی کو رکھا جا سکتا ہے جو یسوع مسیح کے وسیلے سے ملتی ہے۔

جسم کے ساتھ جدوجہد کا اظہار

انسانی ذات کے اندر جسم/بدن کے ساتھ جدوجہد کا اظہار کس طرح سے ہوتا ہے؟بائبل اِس سوال کا جواب کچھ یوں دیتی ہے :"اب جسم کے کام تو ظاہر ہیں یعنی حرامکاری۔ ناپاکی۔ شہوت پرستی بُت پرستی۔ جادُوگری۔ عداوتیں۔ جھگڑا۔ حسد۔ غصہ۔ تفرقے۔ جُدائیاں۔ بدعتیں۔ بغض۔ نشہ بازی۔ ناچ رنگ۔ اور اَور اِن کی مانند۔ اِن کی بابت تمہیں پہلے سے کہہ دیتا ہوں جیسا کہ پیشتر جتا چکاہوں کہ اَیسے کام کرنے والے خُدا کی بادشاہی کے وارِث نہ ہوں گے" (گلتیوں 5باب 19-21آیات)۔

اِس دُنیا کے اندر جسم کے کام کرنے کے ثبوت واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ امریکہ میں فحش مواد کے اثرات کے بارے میں ایک حالیہ سروے سے لئے گئے چند افسوسناک حقائق پر غور کریں۔اِس مطالعے اور تحقیق کے مطابق امریکہ میں ہر سیکنڈ:

• فحش نگاری یا فحش مواد پر 3,075.64 ڈالر خرچ کئے جا رہے ہیں۔

• 28,258انٹرنیٹ صارفین فحش فلمیں دیکھتے ہیں۔

• 372 انٹرنیٹ صارفین سرچ انجنوں میں فحش مواد دیکھنے کے لیے اصطلاحات لکھتے ہیں۔

اور ہر 39 منٹ بعد امریکہ میں ایک نئی فحش ویڈیو بنائی جا رہی ہے۔ اس طرح کے اعداد و شمار یرمیاہ نبی کے اِس بیان کی سچائی کی تصدیق کرتے ہیں کہ "دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہ باز اور لاعلاج ہے۔ اُسکو کون دریافت کرسکتا ہے؟ " (یرمیاہ 17باب19آیت)۔

جسم کے مطا بق زندگی گزارنے کے نتائج

جسم کےمطابق زندگی گزارنے کے کئی ایک خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں۔ جو لوگ جسم کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور جو کبھی تبدیلی کی خواہش نہیں رکھتے یا اپنے گناہ آلود طرز عمل سے توبہ نہیں کرتے وہ اس زندگی میں اور اگلی زندگی میں خدا سے جُدائی کا تجربہ کریں گے۔

• "پس جن باتوں سے تم اَب شرمندہ ہو اُن سے تم اُس وقت کیا پھل پاتے تھے؟ کیونکہ اُن کا انجام تو مَوت ہے" (رومیوں 6 باب 21 آیت)۔

• "کیونکہ اگر تم جسم کے مطابق زِندگی گزارو گے تو ضرور مرو گے اور اگر رُوح سے بدن کے کاموں کو نیست ونابُود کرو گے تو جیتے رہو گے" (رومیوں 8باب 13آیت)۔

• " فریب نہ کھاؤ۔ خُدا ٹھٹھوں میں نہیں اُڑایا جاتا کیونکہ آدمی جو کچھ بوتا ہے وُہی کاٹے گا۔ جو کوئی اپنے جسم کےلئے بوتا ہے وہ جسم سے ہلاکت کی فصل کاٹے گا اور جو رُوح کے لئے بوتا ہے وہ رُوح سے ہمیشہ کی زِندگی کی فصل کاٹے گا" (گلتیوں 6باب7-8آیات)۔

مزید برآں،اِس صورت میں کوئی بھی شخص اپنی جسمانی فطرت کا غلام بھی بن جاتا ہے: "کیا تم نہیں جانتے کہ جس کی فرمانبرداری کے لئے اپنے آپ کو غلاموں کی طرح حوالہ کر دیتے ہو اُسی کے غُلام ہو جس کے فرمانبردار ہو خواہ گناہ کے جس کا انجام موت ہے خواہ فرمانبرداری کے جس کا انجام راستبازی ہے" (رومیوں 6باب 16آیت) ۔ یہ غلامی ہمیشہ تباہ کن طرز زندگی اور بگاڑ کے شکار رہن سہن کا سبب ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہوسیع نبی نے کہا ہے کہ " بے شک اُنہوں نے ہوا بوئی۔ وہ گرد باد کاٹیں گے" (ہوسیع 8باب 7آیت)۔

حقیقت یہ ہے کہ جسم کی تابعداری میں جانا ہمیشہ ہی خُدا کی شریعت کی یا اُس کے احکام کی حکم عدولی کی وجہ سے ہوتا ہے۔بہرحال حقیقی معنوں میں کوئی شخص خُدا کے قوانین کی نافرمانی تو کر سکتا ہے لیکن وہ اُنہیں قطعی طور پر خود سے توڑ نہیں سکتا۔ مثال کے طور پرکوئی شخص چھت پر چڑھ سکتا ہے، اپنے گلے میں سپر مین جیسا پیچھے اُڑنے والا کپڑا باندھ سکتا ہے اور کشش ثقل کے قانون کو توڑنے کی امید میں چھت سے چھلانگ تو لگا سکتا ہے۔ تاہم وہ جلد ہی یہ بات سیکھ لے گا کہ وہ اڑ نہیں سکتا۔ وہ کشش ثقل کے قانون کو نہیں توڑ سکتا، اور آخر میں وہ صرف ایک ہی چیز یعنی اپنی ہڈیاں توڑتا ہے۔ اور اُس کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ کششِ ثقل بالکل حقیقی قوت اور اصول ہے۔ یہی حال اخلاقی اعمال کا بھی ہے: کوئی شخص جسم میں زندگی گزارنے کے ذریعے سے خدا کے اخلاقی قانون کی نافرمانی کر سکتا ہے، لیکن وہ اپنے طرز عمل کے ذریعے کسی نہ کسی طرح خود کو توڑ کر خدا کے اخلاقی قانون کو ہی سچ ثابت کرے گا۔

جسم پر غالب آنا

جسم پرغالب آنے اور خدا کے ساتھ صحیح تعلقات میں اپنے آپ کو بحال کرنے کے لئے بائبل مُقدس تین مراحل پر مشتمل عمل تجویز پیش کرتی ہے۔ پہلا اقدام ایمانداری میں چلنا ہے جہاں پر کوئی بھی شخص اپنے گناہ آلود رویے کا خُدا کے سامنے اعتراف کرتا ہے۔اِس میں اِس بات پر متفق ہونا ہوتا ہے کہ آدم سے موروثی گناہ کے ساتھ پیدا ہونے والے انسان کے بارے میں بائبل مُقدس جو کچھ کہتی ہے وہ سچ ہے۔ اس میں انسانی والدین سے پیدا ہونے والے ہر شخص کے بارے میں بائبل کی باتوں سے اتفاق کرنا شامل ہےیعنی یہ کہ : لوگ پیدایشی طور پر گناہگار ہیں اور جس وقت وہ اِس دُنیا میں داخل ہوتے ہیں اُسی وقت خُدا کے ساتھ اُن کا تعلق ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔

• "اَے خُداوند! اگر تُو بدکاری کو حساب میں لائے تو اَے خُداوند ! کون قائم رہ سکےگا؟" (130 زبور 3آیت)

• "اگر ہم کہیں کہ ہم بے گُناہ ہیں تو اپنے آپ کو فریب دیتے ہیں اور ہم میں سچائی نہیں" (1یوحنا 1باب8، 10 آیات)

اگلا قدم رُوح القدس میں چلنا ہےجس میں نجات پانےاور رُوح القدس کو حاصل کرنے کے لیے خُدا کو پکارنا ہوتا ہے۔ رُوح القدس ہی کسی ایماندارکو خُداکی حضوری میں ایک راست زندگی گزارنے کی قوت بخشتا ہے ۔ ایسی صورت میں انسان جسم کی خواہشات کے تابع نہیں رہتا۔ اِس تبدیلی اور نئی زندگی میں چلنے کو کلامِ مُقدس میں کئی ایک مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔

• " مَیں مسیح کے ساتھ مصلوب ہوا ہوں اور اَب مَیں زِندہ نہ رہا بلکہ مسیح مجھ میں زِندہ ہے اور مَیں جو اَب جسم میں زِندگی گذارتا ہوں تو خُدا کے بیٹے پر اِیمان لانے سے گذارتا ہوں جس نے مجھ سے محبت رکھّی اور اپنے آپ کو میرے لئے موت کے حوالہ کر دِیا" (گلتیوں 2 باب 20آیت)

• "اِسی طرح تم بھی اپنے آپ کو گناہ کے اِعتبار سے مُردہ مگر خُدا کے اِعتبار سے مسیح یسوع میں زِندہ سمجھو" (رومیوں 6باب11آیت)

• "مگر مَیں یہ کہتا ہوں کہ رُوح کے موافق چلو تو جسم کی خواہش کو ہرگز پُورا نہ کرو گے" (گلتیوں 5باب16آیت)

• "اور تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا مسیح کو پہن لیا"(گلتیوں 3باب27آیت)

• "بلکہ خُداوند یسوع مسیح کو پہن لو اور جسم کی خواہشوں کے لئے تدبیریں نہ کرو"(رومیوں 13باب14آیت)

• "اور شراب میں متوالے نہ بنو کیونکہ اِس سے بدچلنی واقع ہوتی ہے بلکہ رُوح سے معمُور ہوتے جاؤ" (افسیوں 5باب18آیت)

• " میَں نے تیرے کلا م کو اپنے دِل میں رکھ لیا ہے ۔ تا کہ میں تیرے خلاف گناہ نہ کروں" (119 زبور 11آیت)

آخری اقدام دراصل موت کا سفر ہے جہاں پر اپنے جسم کو اِس کی خواہشات کے حوالے سے بھوکا رکھا جاتا ہے اور بالآخر یہ مر جاتا ہے۔ اگرچہ ایماندار رُوح القدس کے وسیلے نیا جنم لینے کی وجہ سے نئے سرے سے پیدا ہو جاتا ہے لیکن اُسے ہمیشہ ہی اِس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ اُس کے جسم کے اندر ابھی بھی پُرانی فطرت موجود ہےجس کی خواہشات نئی پیدایش کی نئی فطرت اور اُن سب خواہشات کے خلاف جنگ کرتی ہیں جو رُوح القدس ایماندار کے اندر پیدا کرتا ہے۔ عملی نقطہ نظر سے ایک مسیحی جان بوجھ کر پرانی یعنی جسم کی فطرت کو پالنا بند کر دیتا ہے او ر اُس کے برعکس وہ نئے رویوں کو اپناتا ہے جن کی تحریک اُسے رُوح القدس دیتا ہے:

• " مگر اَے مردِ خُدا! تُو اِن باتوں سے بھاگ اور راستبازی۔ دِینداری۔ اِیمان۔ محبّت۔ صبر اور حلم کا طالب ہو" (1تیمتھیس 6 باب 11آیت)۔

• "جوانی کی خواہشوں سے بھاگ اور جو پاک دِل کے ساتھ خُداوند سے دُعا کرتے ہیں اُن کے ساتھ راستبازی اور اِیمان اور محبت اور صلح کا طالب ہو" (2 تیمتھیس 2باب22آیت)۔

• " بلکہ مَیں اپنے بدن کو مارتا کوٹتا اور اُسے قابُو میں رکھتا ہوں اَیسا نہ ہو کہ اَوروں میں منادی کر کے آپ نامقبول ٹھہروں" (1 کرنتھیوں 9باب27آیت)۔

• " پَس اپنے اُن اعضاء کو مردہ کرو جو زمین پر ہیں یعنی حرامکاری اور ناپاکی اور شہوت اور بُری خواہش اور لالچ کو جو بُت پرستی کے برابر ہے" (کلسیوں 3باب5آیت)

• "اور جو مسیح یسوع کے ہیں اُنہوں نے جسم کو اُس کی رغبتوں اور خواہشوں سمیت صلیب پر کھینچ دِیا ہے" (گلتیوں 5باب24آیت)

• "چُنانچہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پرانی اِنسانیت اُس کے ساتھ اِس لئے مصلوب کی گئی کہ گناہ کا بدن بیکار جائے تاکہ ہم آگے کو گناہ کی غلامی میں نہ رہیں" (رومیوں 6باب6آیت)

• " مگر تم نے مسیح کی اَیسی تعلیم نہیں پائی۔ بلکہ تم نے اُس سچائی کے مطابق جو یسوع میں ہے اُسی کی سنی اور اُس میں یہ تعلیم پائی ہوگی۔ کہ تم اپنے اگلے چال چلن کی اُس پرانی اِنسانیت کو اُتار ڈالو جو فریب کی شہوتوں کے سبب سے خراب ہوتی جاتی ہے۔اور اپنی عقل کی رُوحانی حالت میں نئے بنتے جاؤ۔ اور نئی اِنسانیت کو پہنو جو خُدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے" (افسیوں 4باب20-24 آیات)

خلاصہ

عظیم مبلغین اور بہترین مسیحی گیت لکھنے والے جان اور چارلس ویسلی کی ماں سوزینا ویسلی نے گناہ اور جسم کو اس طرح بیان کیا ہے: "جو کچھ بھی آپ کے استدلال کو کمزور کرتا ہے، آپ کے ضمیر کی حساسیت کو خراب کرتا ہے، آپکی ذات کے اندر خدا کے احساس کو دھندلا دیتا ہے، یا رُوحانی چیزوں کے لئے آپ کا ذوق چھین لیتا ہے، مختصرا ً– اگر کوئی چیز رُوح پر جسم کے اختیار اور طاقت میں اضافہ کرتی ہے وہ اپنے آپ میں چاہے جس قدر بھی اچھی کیوں نہ ہو آپ کے لیے وہ گناہ ہے۔ " مسیحی زندگی کا ایک مقصد جسم پر رُوح کی فتح اور زندگی کی تبدیلی ہے جس کا اظہار خُدا کے حضور میں راستباز زندگی گزارنے کی صورت میں ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ جدوجہد بہت حقیقی ہوگی (جو کہ بائبل واضح طور پر ظاہر کرتی ہے) لیکن مسیحیوں کو خدا کی طرف سے یقین دہانی ہے کہ وہ اُنہیں بالآخر جسم پر فتح اور غلبہ بخشے گا۔ "اور مجھے اِس بات کا بھروسا ہے کہ جس نے تم میں نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کے دِن تک پُورا کر دے گا" (فلپیوں 1باب6آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

جسم کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries