settings icon
share icon
سوال

خُدا کے وجود کے لیے دلیلِ غائی کیا ہے؟

جواب


دلیلِ غائی کے لیے انگریزی اصطلاح Teleology استعمال کی جاتی ہے جو Telos لفظ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں "مقصد" ۔ پس اِس دلیل کے ذریعے سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی مقصد کے حصول کے لیے "مقصد رکھنے والے" کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جہاں پر ہم ایسی چیزوں کو دیکھتے ہیں جو کسی خاص مقصد کے تحت بنائی گئی تھیں وہا ں پر ہم فرض کر سکتے ہیں کہ وہ چیزیں کسی وجہ سے بنائی گئی تھیں۔ دوسرے الفاظ میں کسی چیز کا نمونہ یا ڈئزائن کسی نمونہ ساز یا ڈئزانر کے وجود کے بارے میں بیان کرتا ہے۔ ہم جبلی طور پر اِس طرح کے نکات کو جوڑ کر ایسے نتائج اخذ کرتے ہیں۔ ابھی رشمور کے پہاڑ اور گرینڈ کینئن نامی آبی دَروں کے درمیان میں واضح طور پر فرق موجود ہے۔ اِن میں سے ایک چیز کا باقاعدہ طور پر نمونہ یا ڈئزائن تیار کیا گیا تھا جبکہ دوسری کا نہیں۔ گرینڈ کینئن واضح طور پر غیر عقلی ،فطرتی عمل کے ذریعے سے تشکیل پایا تھا جبکہ رشمور پہاڑ کسی باحکمت ہستی کی طرف سے ایک مخصوص نمونے کے تحت بنایا گیا تھا۔ اگر ساحل سمندر پر چہل قدمی کرتے ہوئے ہمیں کوئی گھڑی مل جائے تو ہم قطعی طور پر یہ فرض نہیں کر لیتے کہ وقت اور مختلف طرح کے اتفاقات کی وجہ سے ریت کے اِدھر اُدھر اُڑنے کی بدولت وہ گھڑی وجود میں آ گئی تھی۔ کیوں؟ کیونکہ اِس گھڑی کا واضح طور پر ایک پیچیدہ نمونہ دیکھا جا سکتا ہے –اِس کا ایک خاص مقصد ہے، یہ معلومات مہیا کرتی ہے، یہ بہت ہی پیچیدہ چیز ہے وغیرہ وغیرہ۔ کسی بھی سائنسی میدان کے اندر نمونے کو اتفاقیہ چیز نہیں خیال کیا جاتا؛ کسی بھی چیز میں کسی بھی طرح کے ڈئزائن کا ہونا اصل میں کسی ڈئزانر یا نمونہ ساز کے وجود کی گواہی دیتا ہے۔ اور وہ نمونہ یا ڈئزائن جس قدر بڑا ہوگا اُسی قدر بڑا اُس کا ڈئزانر یا نمونہ ساز بھی ہوگا۔ پس سائنس کے اِس مفروضے کو لیا جائے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِس ساری کائنات کے وجود کے لیے ابھی ایک نمونہ ساز یا ڈئزانر کی ضرورت ہے جو اِس کائنات سے باہر اور بالا ہو (یعنی کوئی مافوق الفطرت ڈئزانر یا نمونہ ساز)۔

دلیل ِ غائی یا نمونہ/ڈئزائن/مقصد کی دلیل اِس اصول کا اطلاق ساری کی ساری کائنات پر کرتی ہے۔ اگر کسی بھی نمونے یا ڈئزائن کا وجود کسی ڈئزانر یا نمونہ ساز کے وجود کی شہادت دیتا ہے، اور اگر کائنات کی ہر ایک چیز میں ہم خاص نمونہ سازی دیکھ سکتے ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِس ساری کائنات کا ایک عظیم نمونہ ساز موجود ہے۔ بڑے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اِس ساری زمین پر زندگی کی جو بھی قسم موجود ہے یا ہو گزری ہے وہ ہمیشہ ہی انتہائی پیچیدہ ہے۔DNA کی ایک لڑی کے ایک معمولی سے حصے میں اتنی معلومات ہے کہ وہ انسائیکلوپیڈیا بریٹینکا کی ایک جلد کے برابر ہے۔ انسانی دماغ کے اندر قریباً 10 بلین گیگا بائٹس کے برابر معلومات کو سٹور کرنے کی صلاحیت ہے۔ اِس زمین پر جاندار چیزوں کے علاوہ دیکھیں تو ساری کی ساری کائنات میں ہی خاص نمونہ سازی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اور زمین پر زندگی کی بات کی جائے تو اُس کے لیے سینکڑوں طرح کی اہم چیزیں اور حالات زندگی کے وجود کو ممکن بناتے ہیں – اِس کائنات کے مادے کی کثافت سے لیکر زمین پر آنے والے زلزوں تک میں ایک خاص توازن ہو تو پھر اِس زمین پر زندگی کا قیام ممکن ہوتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ ہر ایک چیز محض اتفاقات سے ہی ہوتی چلی آرہی ہے تو ایسے اتفاقات کو سمجھنا قطعی طو ر پر ممکن نہیں ہے۔ قوی امکان ہے کہ جس قدر ایٹمی اجسام اِس کائنات کے اندر پائے جاتے ہیں اُسی طرح بہت بڑے پیمانے پر اُن کے بارے میں ترتیب اور اصول بھی پائے جاتے ہیں۔ اگر اِس کائنات میں اِس حد تک نمونہ سازی کی گئی ہے تو اِس بات پر ایمان رکھنا بہت زیادہ مشکل ہے کہ ہم محض کسی حادثے کی وجہ سے وجود میں آ گئے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اعلیٰ پائے کا دہریہ فلسفی انتھونی فلو بہت بڑے پیمانے پر اِسی دلیل کی وجہ سے دہریت کو چھوڑ کر خُدا کے وجود پر ایمان لایا تھا۔

دلیلِ غائی خُدا کے وجودکو ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ نظریہ ارتقاء کی بہت ساری خامیوں سے بھی پردہ اُٹھاتی ہے۔ سائنس کی دُنیا میں پُر حکمت نمونہ سازی کے نظریے کی تحریک اِس بات کی طرف توجہ مبذول کرواتی ہے کہ زندگی کے نظام کے لیے اعلیٰ درجے کے با ترتیب علم اور حکمت کی ضرورت ہے اور محض اتفاق کی بنیاد پر زندگی کے پیچیدہ نظام کی وضاحت قطعی طور پر نہیں کی جا سکتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یک خوی بیکٹریہ اِس قدر پیچیدہ جاندار ہے کہ جب تک اُس کے وجود کا ہر ایک حصہ کام نہ کر رہا ہو اُس کا زندہ رہنا یا اپنے وجود کو قائم رکھنا قطعی طور پر ممکن نہیں ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف جانداروں کے اجسام کے مختلف حصےمحض اتفاق سے ارتقاء پذیر نہیں ہوئے تھے۔ ڈاروّن نے خود اِس بات کا اعتراف کیا تھا کہ کسی روز اگر انسانی آنکھ کی ساخت پر غور کیا گیا تو اِس کے ارتقاء پذیر ہونے کے حوالے سے ارتقائی نظریہ وضاحت نہیں پیش کر سکے گا۔ اور وہ اُس وقت اِس بارے میں بہت ہی کم جانتا تھا کہ یک خلوی جانداروں کے اندر جو پیچیدگی اب دیکھی جا سکتی ہے اُس کی کسی خالق کے وجود کو مانے بغیر وضاحت ہی نہیں کی جا سکتی۔ English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا کے وجود کے لیے دلیلِ غائی کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries