settings icon
share icon
سوال

کسی کمسن بیٹی کے حاملہ ہو جانے کی صورتحال سے والدین کو کیسے نمٹنا چاہیے؟

جواب


ایسا لگتا ہے کہ مسیحیوں کے لیے اِس بات کو یاد رکھنا مشکل ترین باتوں میں سے ایک ہے کہ شادی کے بعد حاملہ ہونا کوئی گناہ نہیں ہے۔ اپنی شادی شُدہ زندگی میں حاملہ ہونا قطعی طور پر گناہ نہیں ہے۔ اور اگر کوئی بچّہ کسی ایسے جوڑے کے ہاں پیدا ہو جاتا ہے جو شادی کے رشتے میں نہیں بندھے ہوئے تو اُ س میں اُس بچّے کا کوئی گناہ نہیں۔ گناہ اپنے ازدواجی رشتے سے باہر کسی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا ہے – اور یہ گناہ مرد کے لیے بھی اُتنا ہی بڑا ہے جتنا بڑا گناہ یہ عورت کے لیے ہے۔ لیکن تنقید کرنے والوں کی نظر سے ایک غیر بائبلی ناجائز رشتے کو چھپانا تو قدرے آسان ہوتا ہے لیکن حمل کو چھپانا قطعاً آسان نہیں ہوتااور مسیحی لوگوں کے درمیان ایسی کسی صورتحال میں خاندانی ساکھ کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔

اگرچہ یہ بہت زیادہ مایوس کن اور پریشان کر دینے والی بات ہوگی کہ کسی خاندان کی کوئی کمسن بچّی اپنے کسی ناجائز تعلق کی وجہ سے حاملہ ہو گئی ہے، لیکن اِس ساری صورتحال میں خاندان کو ہر ایک چیز کو آسمانی بادشاہی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ گناہ ہو چکا ہے، وہ جو بھی حالات تھے جو کمسن نوعمر بچّی پر اثر انداز ہوئے ابھی اُس کے نتائج کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ابھی یہ نئی صورتحال بغیر شادی کےجنسی عمل کرنے کی بدولت کردار کی خرابی یا خاندانی ساکھ تک ہی نہیں رہ گئی بلکہ اُس سے بڑھ چکی ہے۔ یہ کسی کے پیٹ میں ایک بچّے کے پلنے کی ہے۔ تمام بچّے خُدا کی طرف سے برکت ہیں اور خُدا کے ہر ایک انسان کے لیے خاص منصوبے ہیں (139 زبور 13-18آیات)۔ چاہے وہ حالات جن میں ایک بچّہ پیدا ہوتا ہے مثالی ہونے کے نزدیک نزدیک بھی نہیں تو بھی ہر ایک بچّہ خُدا کے نزدیک قیمتی ہے اور خُدا اُسے اُسی طرح پیار کرتا ہے جیسے وہ دیگر انسانوں کے ساتھ پیا ر کرتا ہے۔

کمسن عمر میں غلطی اور گناہ کی وجہ سے حاملہ ہو جانے والی کوئی بیٹی بھی خُدا کی نظر میں قیمتی ہے۔ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچّوں کی اِس بات میں تربیت کریں کہ وہ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے خُدا پرست زندگی گزاریں۔ آجکل کا دور ہمارے لیے ایسا کرنے کا سب سے قیمتی اور اہم موقع ہے۔ ایسا گناہ کرنے والی کوئی بھی لڑکی اپنی اُس حالت کی وجہ سے خوفزدہ اور شرمندہ ہو سکتی ہےا ور جذباتی طور پر ہیجانی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایسے میں والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ اُس کی مدد کریں اور اُسے یہ سکھائیں کہ وہ اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اپنی زندگی کو تبدیل کرے، اپنے گناہ سے توبہ کرے اور اپنے آسمانی باپ کی طرف رجوع لائے۔

کچھ والدین اِس خوف کا شکار ہوتے ہیں کہ اگر ایسی حالت میں اُنہوں نے اپنی بیٹی کی مدد کی اور اُس سے محبت کا اظہار کیا تو اُن کا یہ عمل اُس لڑکی کی ویسا ہی رویہ رکھنے میں حوصلہ افزائی کرے گا جس کی وجہ سے وہ حاملہ ہوئی ہے۔ لیکن ایک بار پھر یاد رکھیں کہ اُس گناہ کے نتائج کو واپس نہیں پھیرا جا سکتا اور اِس سب میں اُس بچّے کا کوئی قصور نہیں ہے۔ بہرحال اِن سب حالات کے اندر اچھا رویہ رکھنے کے کچھ فوائد بھی ہیں۔ ایسا رویہ ایسے ماحول کو جنم دیتا ہے جس میں اِس بات کو لوگوں تک پہنچایا جاسکتا ہے کہ کوئی بچّہ اپنے والدین کی غلطیوں کی وجہ سے مجرم نہیں بلکہ وہ خُدا کی خاص برکت ہے۔ اچھارویہ اُس بچّے کے باپ کی حوصلہ افزائی بھی کر سکتا ہے کہ وہ اپنے اُس بچّے کو اپنائے اور بلا خوف اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اُسے پورا کرے۔ اور اِس کا ایک اور مثبت نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ اِس سے اِسقاطِ حمل کے گھنونے عمل میں کمی آسکتی ہے اور کم لوگ اِس عمل کو کرنے کی خواہش کریں گے۔

اگر کوئی خاندان غیرت اور غصے کی بناء پر اپنی کسی ایسی بیٹی کو چھوڑ دیتا ہے جو کمسن عمر میں حاملہ ہو گئی ہو تو عین ممکن ہے کہ وہ لڑکی اپنے لیے کچھ ایسے فیصلے لے جو انتہائی خوفناک یا ہلاکت خیز ہو سکتے ہیں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ وہ یہ سمجھے کہ اُس حالت میں وہ اُس بچّے کے باپ سے شادی کر لے۔ لیکن ایسی حالت میں شاید اُسے یہ تک معلوم نہ ہو کہ اُسے اپنی صحت اور اپنے اُس بچّے کی دیکھ بھال کیسے کرنی ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ اِن سب باتوں کے بُرے نتائج نکلیں جو سب کو بُری طرح متاثر کریں۔

لیکن اگر حالات اوپر بیان کردہ بات کے برعکس ہوں ، اُسے اُس کے خاندان کی طرف سے قبولیت، مدد اور رہنمائی ملے تو ممکن ہے کہ اُس صورت میں وہ لڑکی اپنے اور اپنے بچّے کے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلے کر پائے ۔ اگر اُس بچّی کے لیے اُس کی زندگی کے سفر کو مزید مشکل بنایا جائے تو اُس صورت میں وہ واضح طور پر سوچ نہیں سکے گی۔ عقلمند والدین اپنی اُس بیٹی کی رہنمائی کر سکتے ہیں کہ ایسا بچّہ اگر پیداہو جائے تو اُس کے ساتھ کیا کرنا ہے، اُسے کیسے پالنا ہے یا اُسے کسی کو لے پالک بچّے کے طور پر کیسے دینا ہے۔ ایسے میں یہ بھی بہتر ہوگا کہ اُس بچّے کے اصل باپ اور اُس کے خاندان کو بھی سارے عمل میں شامل کیا جائے کیونکہ وہ بھی اِس عمل میں برابر کا شریک تھا اور اُس پر بھی اُتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جتنی کہ اُس لڑکی پر۔ بڑی غورو فکر اور دُعا کے بعد والدین اُس بچّی کو واضح طور پر بتا سکتے ہیں کہ وہ اُس کی کس حد تک اور کس نوعیت کی مدد کریں گے۔ ایسے بہت سارے مسیحی ادارے ہیں جو ایسی صورتحال میں رہنمائی اور صلاح کاری کی خدمت سرانجام دیتے ہیں، اُن اداروں سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

ہمارا خُدا قادرِ مطلق ہے اور اگر ہم کبھی گناہ میں گر بھی جائیں تو ہمیں اُس کی طرف رجوع لانے اور توبہ کرنے کی ضرورت ہے، جب ہم توبہ کرتے ہیں تو وہ ہماری زندگی میں پھر برکات اور خوشی کو لا سکتا ہے۔ کمسن عمر میں حاملہ ہو جانے والی کسی بچّی اور اُس کے خاندان خصوصاً والدین کی زندگی میں اِس عمل کی وجہ سے بہت زیادہ سخت حالات پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ ہمار اخُدا ایسا خُدا ہے جو ہمیں بچاتا اور رہائی بخشتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کسی کمسن بیٹی کے حاملہ ہو جانے کی صورتحال سے والدین کو کیسے نمٹنا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries