settings icon
share icon
سوال

آدم اور حوؔا کو یہ عجیب کیوں نہ لگا کہ ایک سانپ اُن کے ساتھ بات کر رہا تھا ؟

جواب


دلچسپ بات یہ ہے کہ سانپ کا آدم اور حوؔا کے ساتھ بات کرنا بائبل کا پہلا واقعہ نہیں جس میں کوئی جانور بولتا ہے ۔ بلعام نبی کو اُس کی گدھی کی طرف سے ملامت کیا گیا تھا ( گنتی 22باب 21-35آیات –دیکھیں ) ۔ ہمیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اگرچہ جانور بولنے کی قابلیت نہیں رکھتے لیکن بیرونی دنیا میں ایسی طاقتور ہستیاں ( خدا ، فرشتے ، شیطان ، بد اَرواح ) موجود ہیں جو کسی بھی مخلوق بشمول جانوروں کو بولنے کی طاقت بخشنے کے ساتھ ساتھ ناممکن کو ممکن بنانے کی قابلیت رکھتی ہیں ۔ زیادہ تر عالمین کا خیا ل ہے کہ باغِ عدن میں یہ شیطان تھا جو سانپ کے وسیلہ سے بول رہا تھا نہ کہ سانپ خود بول رہا تھا ۔ لہذا پیدایش 3باب کا بیان یہ تجویز نہیں کر رہا کہ سانپ ایسی ذہانت کے حامل تھے جس نے اُنہیں معقول اندا ز میں بات کرنے کے قابل بنا دیا تھا۔

اس کے باوجود آدم اور حوؔا کو یہ عجیب کیوں نہیں لگا کہ کوئی جانور اُن سے بات کر رہا ہے؟ یہ غیر متوقع بات ہے کہ آدم اور حوؔا کا بھی ویسا ہی نقطہ نظر ہو جیسا ہم جانوروں کے بارے میں رکھتے ہیں ۔ ہمارے دور میں ہم تجربے سےسیکھتے اور جانتے ہیں کہ جانور انسانوں کی طرح اُن کے معیار پر بولنے کے قابل نہیں ہیں۔ آدم اور حوؔا نے بچپن کا تجربہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی ان کے ارد گرد دیگر انسان تھے جن سے وہ اس بارے میں سیکھ پاتے ۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ آدم اور حوؔا کو تخلیق ہوئے ابھی کچھ عرصہ ہی ہوا تھا اُن کے لیے یہ ماننا غیر معقول نہیں تھا کہ جانور بولنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ بات کرنے والا پہلا جانور نہیں تھا جس کا آدم اور حوؔا نے سامنا کیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ شیطان یا خود خدا نے آدم اور حؔوا کے ساتھ بات چیت کے لیے جانوروں کو پہلے بھی استعمال کیا تھا۔ زیر غور حوالے میں تفصیلات اتنی کم دی گئی ہیں کہ قیاس آرائیوں اور مفروضات کےلیے بہت کچھ پیچھے بچ جاتا ہے ۔

آخری بات ، سانپ کو جواب دینا حوؔا کےلیے کوئی غیر معقول بات نہیں تھی ۔ بہرحال سانپ واضح طور پر ایسی زبان میں بات کر رہا تھا جسے وہ سمجھتی تھی اور جس کے ردّ عمل میں قابلِ فہم سوال پوچھ رہی تھی ۔ یہ بھی امکان ہے کہ آدم قریب ہی تھا اور اس بات کی تصدیق کر سکتا تھا کہ حؔوا چیزوں کا محض گمان نہیں کر رہی تھی۔ اُن کےلیے خطرے کی گھنٹی سانپ کا بات کرنا نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ خطرے کی گھنٹی یہ حقیقت تھی کہ وہ اُنہیں خدا کے احکامات پر شک کرنے ( پیدایش 3باب 1آیت) خدا کی ذات اور بات کی تردید کرنے ( پیدایش 3باب 4آیت) اور اُس کے مقاصد پر سوال اُٹھانے (پیدایش 3باب 5آیت) کی ترغیب دے رہا تھا ۔ یہ چیز حوؔا اور آدم دونوں کے لیے سانپ سے بات کرنا ترک کرنے کے لیے کافی ہو نی چاہیے تھی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

آدم اور حوؔا کو یہ عجیب کیوں نہ لگا کہ ایک سانپ اُن کے ساتھ بات کر رہا تھا ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries