settings icon
share icon
سوال

آپ کسی کی مدد کرنے اور کسی کو اپنا فائدہ اُٹھانےکی اجازت دینے کے درمیان میں کہاں پر اور کیسے لکیر کھینچیں گے؟

جواب


لوقا 6باب 30، 35-36 آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ "جو کوئی تجھ سے مانگے اُسے دے اور جو تیرا مال لے لے اُس سے طلب نہ کر۔ مگر تُم اپنے دُشمنوں سے مُحبّت رکھّو اور بھلا کرو اور بغیر نااُمّید ہوئے قرض دو تو تُمہارا اَجر بڑا ہو گا اور تُم خُدا تعالےٰ کے بیٹے ٹھہرو گے کیونکہ وہ ناشکروں اور بدوں پر بھی مہربان ہے۔ جیسا تُمہارا باپ رحیم ہے تُم بھی رحم دِل ہو۔" یہ اور بائبل کی دیگر بہت سی آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ مسیحیوں کو محبت کرنے والے ، رحم کرنے والے اور ایثار کے جذبے سے سرشار ہونا چاہیے ۔جس طرح ہمارا آسمانی باپ سب لوگوں پر رحیم ہے اُسی طرح جب ہم اپنے ارد گرد ضرورت مند لوگوں کو دیکھیں تو ہمارا دل بھی رحم اور ہمدردی سے بھر جانا چاہیے ۔ "خُداوند سب پر مہربان ہے اور اُس کی رحمت اُس کی ساری مخلوق پر ہے" ( 145زبور 9آیت)۔

ایک ایسا دل رکھنا اچھی بات ہے جو مسلسل دوسروں کو دینے کو تیار ہو ۔ اور خدا ہماری زندگیوں میں ایسی خوبی دیکھ کر خوش ہوتا ہے ۔ تاہم دینے اور مدد کرنے کے اس معاملے میں بائبل ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں پرکھ کی دانشمندانہ خوبی بھی رکھنے کی ضرورت ہے ( متی 10باب 16آیت)۔ خدا ہمیں کچھ ایسے معیار فراہم کرتا ہے ، اور جب ہم دوسروں کی مدد کےلیے اپنا وقت اور پیسہ دینے کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں اُن معیاروں کو مدِنظر رکھنا چاہیے ۔ جب بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے تو اِس کایہ مقصدہر گز نہیں ہم ایسا کرنے کے لیے اپنے شدید نقصان کی حد تک جائیں ۔ ہم جتنی قابلیت رکھتے ہیں اُس حد تک ایسا کرنا اچھی بات ہے مگر 2تھسلنیکیوں 3باب 10آیت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ"جسے محنت کرنا منظور نہ ہو وہ کھانے بھی نہ پائے۔ " ایسے لوگ بھی ہیں جو ایسا غیر ذمہ دارانہ طرز زندگی رکھنا چاہتے ہیں جس میں بالکل کوئی جوابدہی نہ ہو ۔ پس اس اعتبار سے حدود مقرر ہونی چاہئیں ،ہم کسی ضرورت مند کی مددضرور کریں گے لیکن اگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ایک مستقل طرز زندگی بن گیا ہے تو ہمارے لیے اس عمل کی حوصلہ افزائی کو جاری رکھنا غلط ہے۔ دوسروں کی سُستی، کاہلی اور محنت کی کمی کے باوجود اُن کی مدد کرنااُن کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ یہ پرانی کہاوت بالکل سچ ہے کہ "آدمی کو مچھلی دو تو وہ ایک دن کھاتا ہے اور اگر اُسے مچھلی پکڑنا سکھاؤ تو وہ زندگی بھر کھاتا ہے"۔ جب تک ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص پورے دل سے کوشش کر رہا ہے تو خدا ہماری جس بھی انداز سے رہنمائی کرتا ہے ہمیں اُس کی مدد کے لیے موجود رہنا چاہیے۔

اکثر اوقات دوسروں کی مدد کرنے کا ایک زیادہ مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اُن کے ساتھ بیٹھیں اور اُنہیں بائبلی مشاورت، اصول و ضبط اور حوصلہ افزائی فراہم کریں ۔ اگر وہ سننے اور کوشش کرنے کے لیے تیار ہیں تو انہیں اپنے اندر رُوح القدس کی قوت کے وسیلہ سے دوسروں پر انحصار کرنے کی اس عادت کو بدل دینے کے قابل ہونا چاہیے۔ یقیناً یہ عمل یسوع مسیح کی اُس انجیل کے واضح اظہار کے ساتھ شروع ہوتا ہے جس کی قوت کے بغیر طرزِزندگی میں ایسی بڑ ی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

بائبل ہمیں اچھے مختار ہونے کے بارے میں جو کچھ بتاتی ہے ہمیں اُسے بھی مدِنظر رکھنا ہے ۔ جب ہم خدا پر بھروسہ کرتے اور اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں تو وہ ہماری ضروریات کو پورا کرنے کا وعدہ کرتا ہے (فلپیوں 4باب 19آیت)۔ خداوند ہمیں جو کچھ فراہم کرتا ہے ہمیں اُسے سمجھداری سے استعمال کرنا چاہیے۔ خداوند ہمیں جو کچھ فراہم کرتا ہے ہمیں اُس کا کچھ حصہ اُسے واپس لوٹاناہے ؛ ہمیں اپنے خاندانوں کی ضروریات کو پورا کرنا ہے ؛ اور ہمیں اپنے بل ادا کرنے ہیں۔ ہم اپنا وقت کیسے گزارتے ہیں یہ بھی مختار ہونے کی ذمہ داری میں شامل ہے؛ عبادت ، کام اور خاندانی وقت کے درمیان توازن بہت ضروری ہے۔ یہ مختار کی تمام ذمہ داریوں کے بنیادی پہلو ہیں اور اِن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔پس اِن پہلوؤں پر اُن فیصلوں کی روشنی میں غور کیا جانا چاہیے کہ ہم دوسروں کی مدد کرنے میں کیا کر رہے ہیں اور کیسے کر رہے ہیں۔ اگر کسی کی مالی مدد کرکے ہم اپنے قرضوں اور ذمہ داریوں سے نمٹنے میں قاصر ہیں تو پھر ہم مدد کرنے کی اپنی کوششوں میں غلطی پر ہیں ۔

ایسے بہت سے طریقے ہیں جن کے ذریعے سے لوگ دوسروں کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم خداوند سے یہ التجا کرتے ہوئے اِس معاملے کو دُعا میں رکھیں کہ وہ اپنی مرضی ہم پر واضح کرے کہ ہم کیا کریں ۔ وہ ہمیں حقیقی ضرورت کو پہچاننے اور مدد کرنے کے موقع اور گمراہی کے درمیان پرکھ کرنے کے لیے حکمت بخشے گا ( یعقوب 1باب 5آیت)۔ بعض اوقات لوگ زندگی کی آزمائشوں اور ناکامیوں سے اس قدر پسے ہوئے ہوتے ہیں کہ انہیں کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو طویل مدت تک اُن کا دوست بننے کے لیے تیار ہو۔ یہ ایک دشوار تعلق ہوسکتا ہے لیکن یہ بہت فائدہ مند بھی ہوسکتا ہے۔ مقامی کلیسیائیں اُن لوگوں کے لیے زبردست مدد فراہم کر سکتی ہیں جو ضرورت مندوں کے لیے بوجھ رکھتے ہیں۔ تاہم کسی ایسے شخص کی مدد کرنے کی کوشش کرنا جو اپنے مالی مسائل کے حل کی خاطر کوئی قدم اٹھانے کو تیار نہیں آخر میں مایوس کن ہو سکتا ہے ۔ ایک بار پھر اِن حالات میں خدا کی حکمت کے لیے دعا کرنا اور اُس کے فہم کو استعمال کرنا نہایت اہم ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

آپ کسی کی مدد کرنے اور کسی کو اپنا فائدہ اُٹھانےکی اجازت دینے کے درمیان میں کہاں پر اور کیسے لکیر کھینچیں گے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries