settings icon
share icon
سوال

مَیں اپنے خیالات پر قابو کیسے پا سکتا ہوں؟

جواب


ابھی خصوصی طور پر بہت زیادہ ٹیکنالوجی کی حامل اس دنیا میں بہت سے مسیحی اس اہم مسئلے سےجھونجھتے ہیں لیکن ہمارے لیے اپنے خیالات پر قابو پانا ضروری ہے۔امثال 4باب 23 بیان کرتی ہےکہ "اپنے دِل کی خوب حفاظت کر کیونکہ زِندگی کا سرچشمہ وہی ہے۔" انسانی " دل " میں ذہن اور وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو اِس سے نکلتی ہیں ۔ کسی نے کہا ہے کہ ہر گناہ جو ہم سے سرزد ہوتا ہے ہم اُسے دو مرتبہ کرتے ہیں ایک بار اپنی سوچوں میں اور دوسری بار جب ہم اُن سوچوں پر عمل کرتے ہیں ۔ اگر ہم اُس گناہ پر اُسی وقت حملہ کر دیتے ہیں جب وہ ہماری سوچوں میں ہوتا ہے تو اُس صورت میں گناہ کو اپنی زندگیوں سے خارج کرنا آسان ہوتا ہے بجائے اُس کے کہ ہم اِس بات کا انتظار کریں کہ گناہ عملی صورت میں آ کر ہماری زندگیوں میں جڑ پکڑے اور اُس کے بعد ہم اُسے اپنی زندگیوں سے نکال پھینکنے کی کوشش کریں۔

آزمایش میں پڑنے (کسی بُری سوچ کے ذہن میں آنے) اور گناہ کرنے (کسی بُرے خیال پر سوچتے رہنے اور خوش/لطف اندوز ہونے ) کے درمیان فرق ہے۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ جب کوئی خیال ہمارے ذہن میں داخل ہوتا ہے تو ہم خدا کے کلام کی بنیاد پر اُس کی جانچ پڑتال کرتے اور یہ طے کرتے ہیں کہ آیا ہمیں اس سوچ کے سلسلے کو جاری رکھنا چاہیے یا اس سوچ کومسترد کرتے ہوئے اِس کی بجائے کسی اور سوچ کو ترجیح دینی چاہیے ۔ اگر ہم پہلے سے اپنی سوچ کے سلسلے سے متعلق کسی عادت کو تشکیل دے چکے ہیں تو ہمارے خیالات کی سمت تبدیل کرنا پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جس طرح ایک گاڑی کو گہرے کچے راستے سے نئے پکے راستے پر لانا مشکل ہوتا ہے ۔ یہاں ذیل میں اپنی سوچوں پر قابو پانے اور غلط خیالات کو ترک کرنے کے لیے کچھ بائبلی تجاویز پیش کی جاتی ہیں ۔

أ. خدا کے کلام سےواقف ہوناتاکہ جب کوئی بُرا خیال(آزمائش) ہمارے ذہن میں داخل ہو تو ہم اُس کی پہچان کرنے کے قابل ہوں کہ یہ کیسا خیال ہے اور اس سے ہمیں کس طرح سے نمٹنا ہے ۔ بیابان میں شیطان کی طرف سے ہر آزمایش کا یسوع نے کلامِ مقدس کے ساتھ جواب دیا تھا ۔ کلامِ مُقدس کا اطلاق اُس نے اُسی طور پرکیا تھا جس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ اُس کے ذہن کو سوچنا چاہیے بجائے اِس کے کہ وہ گناہ آلودہ سوچ کا راستہ اختیار کرے ۔ جب اُسے اپنی جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے آزمایا گیا ( پتھر کو روٹی بنانا)تو اُس نے خدا پر اعتقاد اور بھروسہ رکھنے کی اہمیت سے متعلق حوالے کا ذکرکیا ۔ جب اُسے دنیا کی شان و شوکت کے حصول کی خاطر شیطان کے تابع ہونے کے لیے آزمایا گیا تو اُس نے اس حوالے کو پیش کیا جو نہ صرف یہ بیان کرتا ہے کہ ہمیں صرف اور صرف خدا ہی کے تابع رہنا اوراُس کی عبادت کرنا ہے بلکہ وہ اس عزت و جلال کے بارے میں ذکر بھی کرتا ہے جو خدا اور اُس کے لوگوں سے تعلق رکھتی ہے ۔ جب اُسے خدا کا امتحان کرنے کے لیے آزمایا گیا (یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا واقعی خدا موجود ہے اور اپنے وعدوں کو پورا کرے گا ) تو یسوع نے اُن آیات کے ساتھ جواب دیا جو خدا کو اپنی موجودگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھے بغیر اُس پر ایمان رکھنے کی اہمیت پر زور دیتی ہیں ۔

آزمایش کے وقت کلامِ مقدس کا حوالہ دینے سے کوئی جادو نہیں ہوتا بلکہ اپنے ذہنوں کو بائبل کے راستے پر قائم رہنے کے عزم میں جادو ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس عزم کی تکمیل کے لیے خدا کے کلام کو آزمایش کے وقت سے پہلے جاننے کی بھی ضرورت ہے ۔ لہذا بامعنی طور پر کلام مقدس میں مشغول رہنے کی ہر روز کی عادت نہایت اہم ہے ۔ اگر ہم مستقل آزمایش کے کسی خاص حصے ( فکرمندی، ہوس، غصے ،وغیر ہ ) کے بارے میں جانتے ہیں تو ہمیں اُن کلیدی حوالہ جات کا مطالعہ کرنے اور اُنہیں زبانی یاد رکھنے کی ضرورت ہے جو ان مسائل سے نمٹتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ ہم ان باتوں کا سامنا کریں - ہمیں کن چیزوں سے گریز (منفی عمل )کرنا ہے اور ہمیں آزمایش مبنی پر خیالات اور حالات کا کیسے مناسب جواب دینا(مثبت عمل کرنا) ہے - اِن دونوں باتوں کاتعین کرنا آزمایش پر مبنی خیالات پر فتح یا ب ہونے میں کافی مدد گار ثابت ہو گا ۔

ب. بالخصوص دُعا کے وسیلہ سے رُوح القدس کی قوت کی تلاش کرتے ہوئے اُس پر منحصر زندگی بسر کرنا ( متی 26باب 41آیت)۔ اگر ہم اپنی طاقت پر بھروسہ کرتے ہیں تو ہم نا کام ہو جائیں گے ( امثال 28باب 26آیت؛ یرمیاہ 17باب 9آیت؛ متی 26باب 33آیت)۔

ج. ہمیں اپنے ذہنوں میں اُن سوچوں اور خیالات کو نہیں پلنے دینا جو گناہ آلودہ احساسات و تصورات کو فروغ دیں گے ۔ یہی امثال 4باب 23آیت کا تصور ہے ۔ ہمیں اپنے دلوں کی حفاظت کرنی ہے – یعنی ہم انہیں کن باتوں کی اجازت دیتے ہیں اور کن باتوں میں مگن رکھتے ہیں ۔ ایوب 31باب 1آیت بیان کرتی ہے کہ "مَیں نے اپنی آنکھوں سے عہد کِیا ہے۔ پھر مَیں کسی کنواری پر کیونکر نظر کروں؟" رومیوں 13 باب 14آیت بیان کرتی ہےکہ "بلکہ خُداوند یسوع مسیح کو پہن لو اورجسم کی خواہشوں کےلئے تدبیریں نہ کرو" ۔ پس ہمیں اُن رسائل ، ویڈیوز، ویب سائٹس اور حالات سے بچنا ہے جو ہمیں گناہ میں مبتلا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔ ہمیں اُن لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے سے بھی گریز کرنا چاہیے جو ہماری ایسے غلط راستوں پر چلنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں گے ۔

د. ہمیں گناہ آلودہ خیالات کا دین داری پر مبنی سرگرمیوں اور نظریات کے ساتھ تبادلہ کرتے ہوئے خدا کی سخت پیروی کرنی ہے ۔ یہی تبادلے کا اُصول ہے ۔ جب ہمیں کسی شخص سے نفرت رکھنے کی آزمایش کا سامنا ہو تو ہم ان نفرت انگیز خیالات کا نیک اعمال کے ساتھ تبادلہ کرتے ہیں : ہم اُن کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں ، بہتر انداز میں بات کرتے ہیں اور اُن کے لیے دُعا کرتے ہیں ( متی 5باب 44آیت)۔ چوری کرنے کی بجائے ہمیں پیسہ کمانے کےلیے سخت محنت کرنی چاہیے تاکہ ہم ضرورت مند وں کو دینے کے قابل ہو سکیں ( افسیوں 4باب 28آیت)۔ کسی عورت کے بارے شہوانی خواہش کی آزمایش کی صورت میں ہم اپنی نگاہوں کو پھیر لیتے اور جس طور سے خدا نے ہمیں مر د اور عورت بنایا ہےہم اُس کے لیے اُس کی تعریف کرتے ہیں – اور اُس عورت کے لیے دعا کرتے ہیں ( مثلا: " اے خداوند اس جوان عورت کی مدد کر کہ اگر یہ تجھ سے نہ واقف ہو تو وہ تیری ذات کو جانے اور تیرے ساتھ چلنے کی خوشی کا تجربہ کرے ")اِس کے بعد ہم اُسے بہن سمجھتے ہیں ۔ بائبل بُرے کاموں اور خیالوں کو " اتارپھینکنے " مگر دین داری کے اعمال اور خیالات کو " پہن لینے " کے بارے میں اکثر بات کرتی ہے (افسیوں 4باب 22-32آیات)۔ گناہ آلودہ خیالات کا نیک خیالات کے ساتھ تبادلہ کئے بغیر محض گناہ آلودہ خیالات کو ترک کرنے کی کوشش شیطان کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنے کڑوے دانے آپ کی زندگی میں بو دے ( متی 12باب 43-45آیات)۔

ه. ہم اس عمل کے لیے دوسرے مسیحیوں کے ساتھ خدا کی مرضی کے مطابق رفاقت رکھنے کو استعمال کر سکتے ہیں ۔ عبرانیوں 10باب 24-25آیات بیان کرتی ہیں "اور مُحبّت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے کے لئے ایک دُوسرے کالحاظ رکھیں ۔ اور ایک دُوسرے کے ساتھ جمع ہونے سے باز نہ آئیں جیسا بعض لوگوں کا دستور ہے بلکہ ایک دُوسرے کو نصیحت کریں اورجس قدر اُس دِن کو نزدِیک ہوتے ہوئے دیکھتے ہو اُسی قدر زِیادہ کِیا کرو"۔ ایسے مسیحی ساتھی جو ہماری اِن مطلوبہ تبدیلیوں کو لانے میں ہماری مدد کرتے ہیں ( بہتر ہے ایک جنس کے ہوں) ۔ جو ہمارے لیے اور ہمارے ساتھ مل کر دُعا کریں گے ، جو پیار سے ہمیں پوچھیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور جو پرانے راستے سے بچنے میں ہمیں جوابدہ بنائے رکھیں گے ۔

آخری اور سب سےاہم بات یہ ہے کہ ان طریقوں کی کچھ اہمیت نہیں ہو گی جب تک ہم اپنے گناہوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے خُداوند یسوع پر اپنے نجات دہندہ کے طور پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور ہمیں بالکل یہیں سے شروعات کرنی ہو گی ! اس کے بغیر گناہ آلودہ خیالات اور آزمایشوں پر کچھ فتح حاصل نہیں ہو سکتی اوراُس صورت میں اپنے بچّوں کے لیے خدا کے وعدے ہمارے لیے نہیں اور نہ ہی رُوح القدس کی قو ت ہمارے لیے دستیاب ہے !

خدا اُن لوگوں کو برکت دے گا جو اُس طور پر اُس کی تعظیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اُس کے نزدیک سب سے اہم ہے :یعنی ہم اندرونی طور پر کیا ہیں نہ کہ ہم دوسروں کے سامنے کیسے دکھائی دیتے ہیں ۔ خدا نتن ایل کے بارے میں یسوع کے بیان کو ہمارے اپنے بارے میں بھی سچا بنائے – ایک مرد(عورت) جس میں کوئی مکر نہیں ( یوحنا 1باب 47آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں اپنے خیالات پر قابو کیسے پا سکتا ہوں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries