settings icon
share icon
سوال

رُوح کی تلوار کیا ہے؟

جواب


" رُوح کی تلوار" کا یہ جُزو جملہ بائبل مقدس میں صرف ایک ہی بار افسیوں 6باب 17آیت میں پایا جاتا ہے ۔ رُوح کی تلوار رُوحانی زرہ اور ہتھیار وں میں سے ایک ہے ۔ اور پولس رسول افسس کی کلیسیا کے مسیحیوں کو اس لباس :سچائی کا کمربند، راستبازی کا بکتر،صلح کے جوتے، نجات کا خود پہن لینے اور ایمان کی سِپر اور رُوح کی تلوار تھام لینے کو کہتا ہے کیونکہ خدا کے یہ سب ہتھیار ہمیں بدی کے خلاف مستقل مزاجی سے لڑنے کے قابل بناتے ہیں ( افسیوں 6باب 13آیت )۔

تلوار ایک ایسا ہتھیار ہے جسے فوجی یا جنگجو حملے اور دفاع دونوں کےلیے استعما ل کرتے تھے ۔ اس معاملے میں یہ رُوح القدس سے تعلق رکھنے والا ایک ہتھیار ہے ۔ تلواروں کااستعمال خود کو نقصان سے بچانے یا دشمن پر غلبہ پانے یا اُس کو قتل کرنے کی غرض سے حملہ کرنے کےلیے کیا جاتا تھا ۔ ان دونوں ہی صورتوں میں ایک سپاہی کےلیے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے بہتر تحفظ کی خاطر تلوار کے مناسب استعمال کی سخت تربیت حاصل کرے ۔ تمام مسیحی مقدسین کو ایسی سخت تربیت کی ضرورت ہے تاکہ وہ سیکھ سکیں کہ اس رُوح کی تلوار کو " جو خدا کا کلام ہے " اچھی طرح کیسے استعمال کرنا ہے ۔ پولس رسول یہاں جس تلوار کا ذکر کر رہا ہے وہ کلام مقدس ہے ۔ 2تیمتھیس 3باب 16-17آیات سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا کلام رُوح القدس کی طرف سے ہے جسے انسانوں نے قلمبند کیا ہے ۔ چونکہ ہر مسیحی اس دنیا کی شیطانی اور بُری قوتوں کے خلاف رُوحانی جنگ کر رہا ہے لہذا اُس کے لیے یہ جانناضروری ہے کہ کلام کو مناسب طور پر کیسے استعمال کیا جائے ۔ تب ہی یہ تلوار نہ صرف بُرائی کے خلاف موثر دفاعی ہتھیار ثابت ہو گی بلکہ اسے ہم گمراہی اور جھوٹ کے " قلعوں کو ڈھا دینے " ( 2کرنتھیوں 10باب 4-5آیات) کےلیے بھی استعمال کر پائیں گے ۔

عبرانیوں 4باب 12آیت میں خدا اپنے کلام کا تلوار کے طور پر ذکر کرتا ہے ۔ اس آیت میں کلا م کو " زندہ اور موثر اور ہر دو دھاری تلوار سے بھی تیز " کہا گیاہے ۔ رومی تلوار عام طور پر اسی انداز میں بنائی جاتی تھی ۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ اس کے دونوں سرے تیز تھے یہ دونوں طرف سے کاٹنے کے ساتھ ساتھ زیادہ آسانی سے جسم میں گھس جاتی تھی ۔ گُذر جانے یا گھس جانے کا یہی تصور خدا کے کلام کے بارے میں بھی پایا جاتا ہے جو " دل" تک رسائی کر جاتا ہے اس لیے کہ یہ ہر عمل کا مرکز ہے ۔ اور جن زندگیوں کو کلام چُھوتا ہے اُس کے متحرکات اور جذبا ت کو عیاں کر دیتا ہے ۔

بائبل یعنی رُوح کی تلوار کا مقصد ہمیں مضبوط اور اس قابل بنانا ہے کہ ہم اپنے دشمن شیطان کے حملوں کا مقابلہ کر سکیں ( 119زبور 11، 33- 40، 99-105آیات)۔ رُوح القدس رُوحو ں کو بچانے اور اس کے بعد اُنہیں رُوحانی تقویت بخشنے کے لیے کلام کی قوت کا استعمال کرتا ہے تاکہ وہ اس بُر ی اور خراب دنیا کے خلاف لڑنے کےلیے خدا وند کے مضبوط سُورما بن جائیں ۔ جتنا زیادہ ہم خدا کےکلام کو جانتے اور سمجھتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہم خدا کی مرضی پر عمل کرنے میں بہتراور اپنی جانوں کے دشمن کا مقابلہ کرنے کےلیے موثر ہوتے جائیں گے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

رُوح کی تلوار کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries