settings icon
share icon
سوال

اخیر زمانے میں قائم رہ پانے کے لیے مجھے کیا کچھ جاننے کی ضرورت ہے؟

جواب


بہت دفعہ جب لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں تو وہ فکرمند ہو جاتے ہیں۔ بہرحال ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ وہ سب جو خُدا کو جانتے ہیں اُن کے لیے مستقبل کے بارے میں تصورات اُس مستقبل میں داخل ہونے کی رضا مندی اور اطمینان کا باعث ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر امثال 31 باب 25آیت ایک ایسی عورت کی شخصیت کو بیان کرتی ہے جوخُدا کو جانتی اور اُس پر توکل کرتی ہے، یہ آیت بیان کرتی ہے کہ وہ " وہ آیندہ ایام پر ہنستی ہے۔"

مستقبل کے بارے میں وہ کلیدی خیالات جو ہمیں اپنے ذہن میں رکھنے چاہییں وہ یہ ہیں کہ ، خُدا قادرِ مطلق ہے اور ہر ایک چیز پر اُس کی کامل حاکمیت ہے۔ وہ مستقبل کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے جو کچھ بھی مستقبل میں ہوگا اُس سب پر خُدا کو مکمل اختیار حاصل ہے۔ بائبل مُقدس بیان کرتی ہے کہ " پہلی باتوں کو جو قدیم سے ہیں یاد کرو کہ مَیں خدا ہوں اور کوئی دوسرا نہیں ۔ مَیں خدا ہوں اور کوئی مجھ سا نہیں۔جو ابتدا سے ہی انجام کی خبر دیتاہوں اور ایّامِ قدیم سے وہ باتیں جو اب تک وقوع میں نہیں آئیں بتاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میری مصلحت قائم رہے گی اور مَیں اپنی مرضی بالکل پوری کرونگا۔ جو مشرق سے عقاب کو یعنی اس شخص کو جو میرے ارادہ کو پورا کریگا دور کے ملک سے بلاتا ہوں مَیں ہی نے یہ کیا اور مَیں ہی اسکو وقوع میں لاؤنگا۔ مَیں نے اس کا ارادہ کیا اور مَیں ہی اسے پورا کرونگا "(یسعیاہ 46باب9-11آیات)۔

اخیر زمانے کے بارے میں جو دوسری بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ بائبل اُن سبھی چیزوں کا بیان پیش کرتی ہے جو "اخیر زمانے" میں وقوع پذیر ہونگی۔ اب چونکہ بائبل بنی نوع انسان کے لیے خُدا کی طرف سے مہیا کیا جانے والا مکاشفہ ہےا ور چونکہ خُدا ہر ایک چیز کو جانتا اور مستقبل کی ہر ایک بات پر اختیار رکھتا ہے( جیسا کہ یسعیاہ اوپر بیان کرتا ہے)، پھر یہ بالکل معقول بات ہے کہ جب بائبل اُن باتوں کے بار ےمیں بیان کرتی ہے جو مستقبل میں ہونگی تو ہم اُس پر ایمان رکھ سکتے ہیں۔ مستقبل کی نبوتوں کے حوالے سے بائبل مُقدس بیان کرتی ہے کہ " کیونکہ نبوت کی کوئی بات آدمی کی خواہش سے نہیں ہوئی بلکہ آدمی رُوح القدس کی تحریک کے سبب سے خُدا کی طرف سے بولتے تھے۔ " (2پطرس 1باب21آیت)۔ اِس بات میں سچائی بالکل واضح ہے کہ جس طرح دیگر بہت سارے مذاہب کے اندر جھوٹی نبوتیں کی گئی ہیں جیسے کہ نوٹرڈیمس وغیرہ اور وہ جھوٹی بھی ثابت ہو چکی ہیں، بائبل ایک بھی دفعہ اِس لحاظ سے جھوٹی ثابت نہیں ہوئی –جب بھی بائبل مُقدس نے مستقبل کے کسی واقعے کے بارے میں کسی طرح کی کوئی نبوت کی،کلام کی وہ بات بالکل سچ ثابت ہو ئی۔

جب آپ اِس چیز کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ اخیر زمانے کو کیسے سمجھیں گے اور اُس میں کیسے قائم رہ پائیں گے تو اِن تین سوالوں کے جواب دیں:

(1) جو کچھ بائبل مستقبل کے بارے میں کہتی ہے مجھے اُس (بائبلی نبوت)کی تفسیر کیسے کرنی چاہیے؟

(2) بائبل کے مطابق اخیر زمانے میں کیا کچھ ہوگا؟

(3) جو کچھ بائبل مُستقبل کے بارے میں بیان کرتی ہے اُس کی روشنی میں مجھے آج اپنی زندگی کو کیسے گزارنا چاہیے؟

بائبلی نبوت کی تفسیر کیسے کی جائے

جب اخیر زمانے کے متعلق نبوتوں کی تفسیر کی بات کی جاتی ہے تو اُس کے تعلق سے کئی ایک نظریات پیش کئے جاتے ہیں کہ ہمیں نبوتوں کی تفسیر کیسے کرنی چاہیے۔ اگرچہ بہت سارے اچھے اور سچے مسیحیوں نے اِس حوالے سے بہت سارے اعتقادات کو اپنایا ہوا ہے، ہمارے پاس اِس بات کی اچھی وجوہات ہیں کہ بائبلی نبوتوں کی تفسیر کچھ اِس طرح سے کی جانی چاہیے (1) بالکل لغوی اور لفظی انداز سے، (2) مستقبل کے نقطہ نظر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اور (3)ہزار سالہ بادشاہی کے آغاز میں یسوع کی آمدِ ثانی کے نظریے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے۔ تمام نبوتوں کی تفسیر لغوی انداز سے کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یسوع کی پہلی آمد کے بار ےمیں 300 سے زائد نبوتیں کلامِ مُقدس کے اندر پائی جاتی ہیں اور وہ سبھی کی سبھی بالکل حقیقی اور لغوی انداز سے پوری ہوئی ہیں۔ وہ ساری نبوتیں جو مسیح کی پیدایش، زندگی، دھوکا دئیے جانے، موت اور جی اُٹھنے کے بارے میں ہیں وہ سبھی کی سبھی مجازی یا رُوحانی انداز میں پوری نہیں ہوئی تھیں ۔ یسوع حقیقت میں بیت لحم میں پیدا ہو اتھا، اُس نے بہت سارے معجزات کئے تھے،اُسے اُس کے ایک بہت ہی قریبی ساتھی نے چاندی کے تیس سکوں کی خاطر دھوکا دیا، اُس کے ہاتھ اور پاؤں چھیدے گئے، وہ دو ڈاکوؤں کے درمیان میں مرا، اُسے ایک امیر شخص کی قبر میں دفن کیا گیااور وہ تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ یہ ساری تفصیلات یسوع کے پیدا ہونے سے سینکڑوں سال پہلے نبوت کے ذریعے سے بیان کی گئی تھیں اور یہ بالکل لغوی اور حقیقی طور پر پوری ہو گئیں۔ ہاں اگرچہ کئی ایک نبوتوں میں بہت ساری علامتی زبان استعمال کی گئی ہے (جیسے کہ اژدھے، گھڑ سوار وغیرہ)، اور یہ سبھی حقیقی چیزوں یا لوگوں یا واقعات کی علامات ہیں جیسے کہ بہت دفعہ یسوع کو شیر ببر اور برّہ کہا گیا ہے۔

جب یہ کہا جاتا ہے کہ نبوتوں کی تفسیر مستقبل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہیے تو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بائبل بالکل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ نبوتی کتابیں جیسا کہ دانی ایل اور مکاشفہ کی کتاب نہ صرف تاریخی واقعات کے بارے میں بہت ساری معلومات رکھتی ہے بلکہ اِن کتب کے اندر مستقبل کے بارے میں بہت ساری نبوتیں بھی پائی جاتی ہیں۔ جب یوحنا کو اُس کے دور کی کلیسیاؤں کے لیے پیغامات ملے، اُس کے بعد اُس کو بہت ساری ایسی رویائیں بھی دی گئیں جنہوں نے اُس پر ظاہر کیا کہ اخیر زمانے کے اندر کیا کچھ ہونے والا ہے۔ یوحنا سے کہا گیا کہ " ۔۔۔ یہاں اُوپر آ جا۔ مَیں تجھے وہ باتیں دِکھاؤں گا جن کا اِن باتوں کے بعد ہونا ضرور ہے "(مکاشفہ 4باب1آیت)۔

نبوت کی تفسیر مستقبل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرنے کے تعلق سے غالباً زیادہ مضبوط دلیل ابرہام کے ساتھ وعدے کی سرزمین کےعہد سے متعلق ہے (پیدایش 12باب اور 15 باب)۔ اب چونکہ ابرہام کے ساتھ خُدا کا عہد غیر مشروط تھا اور اُس کے وعدے جو اُس نے ابرہام کی اولاد کے تعلق سے کئے تھے ابھی تک پورے نہیں ہوئے اِس لیے اسرائیل کے ساتھ اِن وعدوں کے مستقبل میں پورا ہونے کا تصور بالکل بجا ہے۔

آخر میں نبوت کی "ہزار سالہ بادشاہت سے پہلے یسوع کی آمدِ ثانی" کے تناظر میں تفسیر کے تعلق سے بات کی جائے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے کلیسیا اِس دُنیا میں سے اُٹھا لی جائے گی، پھر باقی رہ جانے والے لوگ سات سالوں تک آخری مصیبت کا سامنا کریں گے، اور پھر یسوع مسیح اِس دُنیا میں واپس آئے گا اور حقیقی طور پر 1000سالوں تک اِس دُنیا پر حکمرانی کرے گا (مکاشفہ 20 باب)۔

لیکن اُس سے پہلے جو کچھ ہوگا اُس کے بارے میں بائبل کیا بیان کرتی ہے؟

بائبل کے مطابق اخری زمانے میں کیا ہوگا؟

یہ افسوس کی بات ہے کہ بائبل اِس بات کی نبوت کرتی ہے کہ یسوع کی آمدِ سے پہلے اِس دُنیامیں بہت ساری آفات آئیں گی، انسانی گناہ مسلسل طور پر بڑھتا چلا جائے گا اور مذہبی برگشتگی بہت زیادہ ہو جائے گی۔" لیکن یہ جان رکھ کہ اخیر زمانہ میں بُرے دِن آئیں گے۔ ۔۔ اور بُرے اور دھوکا باز آدمی فریب دیتے اور فریب کھاتے ہوئے بگڑتے چلے جائیں گے" (2 تیمتھیس 3باب1، 13آیات)۔ دُنیا مسلسل طور پر خُدا، اُس کے کلام اور اُس کے لوگوں کو رَد کرتی رہے گی۔

مستقبل میں کسی دن –ایسے دن جس کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا، خُدا اِس زمین پر سےکلیسیا کے اُٹھا لیے جانے یعنی ریپچر کے واقعے کے ذریعے سے کلیسیائی دو ر کو ختم کر دے گا جو پہلی صدی میں پنتکست کے موقع پر شروع ہوئی تھی (اعمال 2باب )۔ اُس وقت دراصل خُدا اِس زمین پر سےتمام ایمانداروں کو اِس لیے اُٹھا لے گا تاکہ وہ اس زمین پر آخری عدالت کی کاروائی کے لیے تیاری کر سکے۔ ریپچر یعنی کلیسیا کے اُٹھا لیے جانے کے حوالے سے پولس رسول بیان کرتا ہے کہ " کیونکہ جب ہمیں یہ یقین ہے کہ یسوع مر گیا اور جی اُٹھا تو اُسی طرح خُدا اُن کو بھی جو سو گئے ہیں یسوع کے وسیلہ سے اُسی کے ساتھ لے آئے گا۔ چنانچہ ہم تم سے خُداوند کے کلام کے مطابق کہتے ہیں کہ ہم جو زِندہ ہیں اور خُداوند کے آنے تک باقی رہیں گے سوئے ہوؤں سے ہرگز آگے نہ بڑھیں گے۔کیونکہ خُداوند خُود آسمان سے للکار اور مُقّرب فرشتہ کی آواز اور خُدا کے نرسنگے کے ساتھ اُتر آئے گا اور پہلے تو وہ جو مسیح میں مُوئے جی اُٹھیں گے پھر ہم جو زِندہ باقی ہوں گے اُن کے ساتھ بادلوں پر اُٹھائے جائیں گے تاکہ ہوا میں خُداوند کا اِستقبال کریں اور اِس طرح ہمیشہ خُداوند کے ساتھ رہیں گے۔ پَس تم اِن باتوں سے ایک دُوسرے کو تسلّی دِیا کرو "(1 تھسلنیکیوں 4باب 14-18آیت)۔

جس وقت اِس زمین پر سے لا تعداد لوگ غائب ہو جائیں گے اِس زمین پر سے امن ختم ہو جائے گا اور یہاں پر اضطراب بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ ایسا واقعہ دُنیا کے اندر بہت زیادہ گبھراہٹ اور دہشت کا باعث ہوگا اور یہ صورتحال کسی ایسے رہنما کی ضرورت کا تقاضا کرے گی جس کے پاس دُنیا کے سبھی مسائل کا حل ہو۔ اِس طرح کے رہنما کی تیاری تو کافی دیر سے جاری ہے جیسے کہ تاریخ دان آرنلڈ ٹوئنبی بیان کرتا ہے کہ "نسلِ انسانی پر زیادہ سے زیادہ مفسدی اور مہلک ہتھیار تھوپنے کے ذریعے سے ، اور اِس کے ساتھ ساتھ پوری دُنیا کو معاشی طور پر ایک دوسرے پر انحصار کرنے والا بنانے کے ذریعے سے ٹیکنالوجی بنی نوع انسان کو ایسی تکلیف دہ حالت میں لے آئی ہے کہ ہم کسی بھی ایسے نئے قیصر کو دیوتا ماننے کے لیے تیار ہیں جو اِس دُنیا کو کسی حد تک امن اور اتحاد دے سکتا ہو۔"ایک نئے سرے سے پیدا ہونے یا اُبھر کر آنے والی رومی سلطنت جو یورپ کے دس انتخابی حلقوں کی طرز پر قائم ہوگی ابھر کا سامنے آئے گی(دانی ایل 7باب 24؛ مکاشفہ 13 باب 1آیت)۔ مخالفِ مسیح سامنے آئے گا اور اسرائیل قوم کے ساتھ ایک معاہدہ کرے گا جو باقاعدہ طور پر خُدا کی طرف سے مہیا کی جانے والی نبوت کے اُن سات سالوں کا دَور شروع کر دے گا جس کے بعد مسیح کی آمدِ ثانی ہوگی (دانی ایل 9 باب27آیت)

ساڑھے تین سالوں تک مخالفِ مسیح اِس دُنیا پر راج کرے گا اور دُنیا کے لوگوں کے ساتھ امن قائم کرنے کے وعدے کرتا رہے گا لیکن یہ ایک جعلی قسم کا امن ہوگا جو دُنیا کے لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے اپنے جال میں پھنسائے گا۔ خُدا اِس سب کے باوجود اپنا اختیار قائم رکھے گا ور وہ تمام غیر ایماندار اقوام کی افواج کو جمع کرے گا تاکہ اُن کی عدالت کرے۔ اِس واقعے کے بارے میں یوایل نبی لکھتا ہے کہ " تو سب قوموں کو جمع کروں گا اور اُن کو یہُوسفط کی وادی میں اُتارلاؤں گا اور وہاں اُن پر اپنی قوم اور میراث اسرائیل کےلئے جن کو اُنہوں نے قوموں کے درمیان پراگندہ کیااور میرے مُلک کو بانٹ لیا حجت ثابت کروں گا۔ " یوحنا اِس جنگ کا حال کچھ اِس طرح سے بیان کرتا ہے کہ " پھر مَیں نے اُس اژدہا کے منہ سے اور اُس حیوان کے مُنہ سے اور اُس جھوٹے نبی کے منہ سے تین ناپاک رُوحیں مینڈکوں کی صورت میں نکلتے دیکھیں۔یہ شیاطیں کی نشان دِکھانے والی رُوحیں ہیں جو قادِرِ مطلق خُدا کے روزِعظیم کی لڑائی کے واسطے جمع کرنے کے لئے ساری دُنیا کے بادشاہوں کے پاس نکل کر جاتی ہے۔(دیکھو مَیں چور کی طرح آتا ہوں۔ مبارک وہ ہے جو جاگتا ہے اور اپنی پوشاک کی حفاظت کرتا ہے تاکہ ننگا نہ پھرے اور لوگ اُس کی برہنگی نہ دیکھیں)۔ اور اُنہوں نے اُن کو اُس جگہ جمع کِیا جس کا نام عبرانی میں مجِدّون ہے "(مکاشفہ 16باب13-16آیات)۔

اِس موقع پر یسوع مسیحا واپس آئے گا ، وہ اپنے دشمنوں کو نیست کرے گا ور اِس دُنیا کی مکمل حاکمیت کا دعویٰ کرے گا جو کہ اصل میں اُسی کی ہے۔ " پھر مَیں نے آسمان کو کھلا ہوا دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سفید گھوڑا ہے اور اُس پر ایک سوار ہے جو سچّا اور برحق کہلاتا ہے اور وہ راستی کے ساتھ اِنصاف اور لڑائی کرتا ہے۔اور اُس کی آنکھیں آگ کے شعلے ہیں اور اُس کے سر پر بہت سے تاج ہیں اور اُس کا ایک نام لکھاہوا ہے جسے اُس کے سوا اَور کوئی نہیں جانتا۔ اور وہ خون کی چھڑکی ہُوئی پوشاک پہنے ہُوئے ہے اور اُس کا نام کلامِ خُدا کہلاتا ہے۔اور آسمان کی فوجیں سفید گھوڑوں پر سوار اور سفید اور صاف مہین کتانی کپڑے پہنے ہُوئے اُس کے پیچھے پیچھے ہیں۔اور قوموں کے مارنے کے لئے اُس کے منہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے اور وہ لوہے کے عصا سے اُن پر حکومت کرے گا اور قادِرِ مطلق خُدا کی سخت غضب کی مَے کے حوض میں انگور رَوندے گا۔اور اُس کی پوشاک اور ران پر یہ نام لکھا ہوا ہے بادشاہوں کا بادشاہ اور خُداوندوں کا خُداوند۔پھر مَیں نے ایک فرشتہ کو آفتاب پر کھڑے ہوئے دیکھا اور اُس نے بڑی آواز سے چِلّا کر آسمان کے سب اُڑنے والے پرِندوں سے کہا آؤ۔ خُدا کی بڑی ضیافت میں شرِیک ہونے کے لئے جمع ہو جاؤ۔تاکہ تم بادشاہوں کا گوشت اور فَوجی سرداروں کا گوشت اور زورآوروں کا گوشت اور گھوڑوں اور اُن کے سواروں کا گوشت اور سب آدمیوں کا گوشت کھاؤ۔ خواہ آزاد ہوں خواہ غُلام۔ خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے۔پھر مَیں نے اُس حیوان اور زمین کے بادشاہوں اور اُن کی فوجوں کو اُس گھوڑے کے سوار اور اُس کی فَوج سے جنگ کرنے کے لئے اکٹھے دیکھا۔اور وہ حَیوان اور اُس کے ساتھ وہ جھوٹا نبی پکڑا گیا جس نے اُس کے سامنے اَیسے نشان دِکھائے تھے جن سے اُس نے حیوان کی چھاپ لینے والوں اور اُس کے بُت کی پرستش کرنے والوں کو گمراہ کیا تھا۔ وہ دونوں آگ کی اُس جھیل میں زِندہ ڈالے گئے جو گندھک سے جلتی ہے۔اور باقی اُس گھوڑے کے سوار کی تلوار سے جو اُس کے منہ سے نکلتی تھی قتل کئے گئے اور سب پرندے اُن کے گوشت سے سیر ہو گئے۔ "

جب یسوع اپنے اُن تمام دشمنوں کا صفایا کر لے گا جو ہرمجدون کے مقام پر جمع ہونگے تو پھر وہ اپنے مقدسین کے ساتھ ہزار سالوں تک اِس زمین پر سلطنت کرے گااور اسرائیل اور اُس کی ساری سرزمین کو بحال کر دے گا۔ ہزار سالوں کے اختتام پر اِس دُنیا کی اقوام اور باقی بچ جانے والے لوگوں کی حتمی عدالت ہوگی جس کے بعد ابدی حالت کا آغاز ہو جائے گا: وہ ابدیت یا تو خُدا کے ساتھ گزرے گی یا پھر اُس سے مکمل طور پر جُدائی کی حالت میں (مکاشفہ 20-21ابواب)۔

اوپر بیان کردہ واقعات محض مفروضات یا تصورات نہیں ہیں – وہ حقیقی طور پر مستقبل میں وقوع پذیر ہونگے۔ بالکل اُسی طرح جیسے یسوع مسیح کی پہلی آمد کی تمام بائبلی نبوتیں مکمل طور پر پوری ہوئیں، اُس کی آمدِ ثانی کی بھی سبھی نبوتیں مکمل طور پر پوری ہوں گی۔

اِن نبوتوں کی سچائی کو مدِ نظر رکھتے ہوئےکہ یہ ہم پر کیا اثر ڈالیں گی، پطرس یہ سوال پوچھتا ہے : " جب یہ سب چیزیں اِسی طرح پگھلنے والی ہیں تو تمہیں پاک چال چلن اور دِینداری میں کیسا کچھ ہونا چاہئے۔ اور خُدا کے اُس دِن کے آنے کا کیسا کچھ منتظر اور مشتاق رہنا چاہئے۔ جس کے باعث آسمان آگ سے پگھل جائیں گے اور اجرامِ فلک حرارت کی شدّت سے گل جائیں گے"(2 پطرس 3باب11-12آیات)۔

جو کچھ بائبل مُستقبل کے بارے میں بیان کرتی ہے اُس کی روشنی میں مجھے آج اپنی زندگی کو کیسے گزارنا چاہیے؟

بائبل مُقدس کی نبوتوں کے حوالے سے ہماری طرف سے چار طرح کے جواب یا ردِ عمل ہونے چاہییں۔ پہلی بات تو ہے تابعداری، اور یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں پطرس رسول اُوپر بیان کردہ آیت میں ذکر کر رہا ہے۔ یسوع مسلسل طور پر ہمیں اپنی آمدِ ثانی کے لیے تیار رہنے کا حکم دیتا ہے جو کہ کسی بھی وقت ہو سکتی ہے (مرقس 13باب33-37آیات)، اور ہمیں اپنی مسیحی زندگیاں اِس طرح سے گزارنے کی ضرورت ہے کہ ہم آخر کو اپنے رویے کی وجہ سے شرمندہ نہ ہوں۔

دوسرے نمبر پر ہمارا ردِ عمل پرستش کی صورت میں ہونا چاہیے۔ خُدا نے ہمیں ایک راستہ بخشا ہے جس کی مدد سے ہم آخری زمانہ میں اُس کی عدالت سے بچ پائیں گے – اور یہ راستہ یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں خُدا کے فضل کی بدولت ملنے والی نجات ہے۔ ہمیں لازمی طور پر خُدا کی طرف سے بخشی گئی مفت نجات کو حاصل کرنا چاہیے اور اُس نجات کی بخشش کے لیے خُدا کے حضور میں شکر گزاری کی زندگی گزارنی چاہیے۔ ہماری طرف سے اِس زمین پر کی گئی پرستش ایک دن آسمانی پرستش میں بدل جائے گی۔ " اور وہ یہ نیا گیت گانے لگے کہ تُو ہی اِس کتاب کو لینے اور اُس کی مہریں کھولنے کے لائق ہے کیونکہ تُو نے ذِبح ہوکر اپنے خون سے ہر ایک قبیلہ اور اہلِ زبان اور اُمّت اور قَوم میں سے خُدا کے واسطے لوگوں کو خرِید لیا " (مکاشفہ 5باب9آیت)۔

تیسرا ردِ عمل اعلان ہے۔ سب لوگوں کو خُدا کی طرف سے مہیا کردہ نجات اور اُس کی آمدِ ثانی کے بارے میں اعلان سننے کی ضرورت ہے، خاص طور پر اُن لوگوں کو جوا بھی تک ایمان نہیں لائے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر ایک انسان کو خُدا کی طرف رجوع لانے اور اُس کے فضل کے وسیلے سے نجات پانے کا موقع فراہم کریں۔ مکاشفہ 22باب10آیت میں مرقوم ہے کہ " پھر اُس نے مجھ سے کہا اِس کتاب کی نبوت کی باتوں کو پوشیدہ نہ رکھ کیونکہ وقت نزدِیک ہے۔ "

خُدا کے نبوتی کلام کے جواب میں ہمارا آخری جواب یا ردِ عمل خدمت ہے۔ تمام ایمانداروں کو خُدا کی مرضی پر عمل کرنے اور اُس کے نام کی اچھی گواہی کی خاطر نیک اعمال کرنے میں مستعد رہنا چاہیے۔ مسیح کی طرف سے کی جانے والی عدالتوں کا ایک حصہ ایمانداروں کے اعمال بھی ہونگے۔ یہ اعمال کسی مسیحی کے لیے اِس بات کا تعین تو نہیں کرتے کہ اُن کے وسیلے سے کوئی ایماندار خُدا کی بادشاہی میں داخل ہوگا ، جبکہ وہ اِس بات کو ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ ایمانداروں نے خُد اکی طرف سے دی گئی نعمتوں کو کس طرح سے استعمال کیا ہے ۔ اِس عدالت کے تعلق سے پولس رسول بیان کرتا ہے کہ "کیونکہ ضرور ہے کہ مسیح کے تختِ عدالت کے سامنے جا کر ہم سب کا حال ظاہر کیا جائے تاکہ ہر شَخص اپنے اُن کاموں کا بدلہ پائے جو اُس نے بدن کے وسیلہ سے کئے ہوں۔ خواہ بھلے ہوں خواہ بُرے " (2 کرنتھیوں 5باب10آیت)۔

خلاصہ یہ ہے کہ خُدا کی تمام طرح کے واقعات و حالات اور اِس دُنیا کے سب لوگوں پر حاکمیت قائم ہے۔ اُس کا ہر ایک چیز پر مضبوط اختیار ہے اور جو کچھ اُس نے شروع کیا ہے وہ اُس کو کامل تکمیل تک بھی ضرور لے کر جائے گا۔ ایک پرانا مسیحی گیت اِس بات کو کچھ اِس طرح سے بیان کرتا ہے کہ "ہر ایک چیز خُدا کی تخلیق ہے۔۔۔ایک ہی ہاتھ سے تخلیق کردہ۔۔۔شیطان او رنجات۔۔۔ ایک ہی ہاتھ کی حاکمیت تلے ہیں۔"

تکمیل پانے والی نبوتیں اِس بات کا ثبوت ہیں کہ بائبل مُقدس ایک مافوق الفطرت کتاب ہے۔ پرانے عہد نامے کی سینکڑوں نبوتیں اب تک پوری ہو چکی ہیں، پس اِس کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرنا بالکل معقول بات ہے کہ جو کچھ بائبل نے اخیر زمانے کے بارے میں کہا ہے وہ بھی لازمی طور پر پورا ہو گا۔ اُن سب لوگوں کے لیے مسیح کی آمدِ ثانی اُن کی مبارک اُمید ہوگی (ططس 2باب13آیت) جنہوں نے اُسے اپنے خُداوند اور نجات دہند کے طور پر قبول کیا ہے۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے یسوع کو رَد کیا ہے اُس کی آمدِ ثانی اُن کے لیے بہت ہی زیادہ دہشت ناک ہوگی (2 تھسلنیکیوں 1باب8آیت)۔ آخری بات یہ ہے کہ اخیر زمانے میں قائم رہنے اور بچ پانے کے لیے اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ یسوع مسیح پر ایمان رکھتے ہیں، " کیونکہ خُدا نے ہمیں غضب کے لئےنہیں بلکہ اِس لئے مقرر کیا کہ ہم اپنے خُداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے نجات حاصل کریں " (1 تھسلنیکیوں 5باب9آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اخیر زمانے میں قائم رہ پانے کے لیے مجھے کیا کچھ جاننے کی ضرورت ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries