رومیوں کی کتاب


مصنف: رومیوں 1باب 1آیت بیان کرتی ہے کہ اس کتاب کا مصنف پولس رسول ہے ۔ رومیوں 16باب 22آیت بیان کرتی ہے کہ پولس رسول نے اپنے اِس خط کوترتیُس نامی شخص سے قلمبند کروایا تھا ۔

سِن تحریر: رومیوں کے نام خط غالباً 56 تا 58بعد از مسیح کے دوران قلم بند کیا گیاتھا۔

تحریر کا مقصد: مختلف کلیسیاؤں کے نام لکھے گئے تمام خطوط کے پیچھے پولس رسول کا مقصد خط کو وصول کرنے والے ایمانداروں کو مسیحی عقیدے کی تعلیم دیکر اور اُنکی اصلاح و حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مسیح خُداوند کی شان و شوکت کو بیان کرنا تھا۔اِس خط میں پولس رسول کے لیے خاص توجہ کے حامل وہ لوگ تھے جنہیں اُس نے یہ خط لکھا تھا یعنی – "جو رُومہ میں خدا کے پیارے ہیں اور مُقدس ہونے کےلیے بُلائے گئے ہیں "(رومیوں 1باب 7 آیت)۔ پولس رسول خود بھی رومی شہریت رکھتا تھا، اس لیے روم کی کلیسیا میں موجود ایمانداروں کےلیے وہ خاص جذبہ رکھتا تھا۔ چونکہ ابھی تک پولس رسول نے روم کی کلیسیا کا دورہ نہیں کیا تھا لہذا یہ خط اُس کے تعارف کا کا م سر انجام دیتاہے ۔

کلیدی آیات: رومیوں 1با ب 16آیت : "کیونکہ مَیں اِنجیل سے شرماتا نہیں۔ اِس لئے کہ وہ ہر ایک اِیمان لانے والے کے واسطے پہلے یہودی پھر یُونانی کے واسطے نجات کے لئے خُدا کی قُدرت ہے۔"

رومیوں 3باب 9-11آیات : "پس کیا ہوا ؟ کیا ہم کچھ فضیلت رکھتے ہیں ؟ بالکل نہیں کیونکہ ہم یہودیوں اور یونانیوں دونوں پر پیشتر ہی یہ اِلزام لگا چکے ہیں کہ وہ سب کے سب گناہ کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ کوئی راستباز نہیں۔ ایک بھی نہیں۔کوئی سمجھ دار نہیں کوئی خُدا کا طالب نہیں۔"

رومیوں 3باب 21آیت: "مگر اَب شریعت کے بغیر خُدا کی ایک راستبازی ظاہر ہوئی ہےجس کی گواہی شریعت اور نبیوں سے ہوتی ہے۔"

رومیوں 3باب 23آیت: "اِس لئے کے سب نے گناہ کیا اور خُدا کے جلال سے محروم ہیں۔"

رومیوں 5باب 8آیت: "لیکن خُدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر موا۔"

رومیوں 6باب 23آیت: "کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے مگر خُدا کی بخشش ہمارے خداوند مسیح یسوع میں ہمیشہ کی زِندگی ہے۔"

رومیوں 8باب 9آیت: "لیکن تم جسمانی نہیں بلکہ رُوحانی ہو بشرطیکہ خُدا کا رُوح تم میں بسا ہوا ہے۔ مگرجس میں مسیح کا رُوح نہیں وہ اُس کا نہیں۔"

رومیوں 8باب 28آیت: "اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خُدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لئے جو خُدا کے اِرادہ کے موافق بلائے گئے۔"

رومیوں 8باب 37- 39آیات: "مگر اُن سب حالتوں میں اُس کے وسیلہ سے جس نے ہم سے محبت کی ہم کو فتح سے بھی بڑھ کر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔

کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خُدا کی محبّت ہمارے خُداوند مسیح یسوع میں ہےاُس سے ہم کو نہ موت جدا کرسکے گی نہ زِندگی۔"

رومیوں 10باب 9- 10آیات: " کہ اگر تُو اپنی زبان سے یسوع کے خُداوند ہونے کا اِقرار کرے اور اپنے دِل سے اِیمان لائے کہ خُدا نے اُسے مُردوں میں سے جِلایا تو نجات پائے گا۔ کیونکہ راست بازی کے لئے اِیمان لانا دِل سے ہوتا ہے اور نجات کے لئے اِقرار منہ سے کِیا جاتا ہے۔"

رومیوں 12باب 1آیت: "پس اَے بھائیو۔ مَیں خُدا کی رحمتیں یاد دِلا کر تم سے اِلتماس کرتا ہوں کہ اپنے بدن اَیسی قربانی ہونے کے لیے نذر کرو جو زِندہ اور پاک اور خُدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔"

رومیوں 12باب 19آیت: "اَے عزیرو! اپنا اِنتقام نہ لو بلکہ غضب کو موقع دو کیونکہ یہ لکھا ہے کہ خداوند فرماتا ہے انتقام لینا میرا کام ہے۔ بدلہ مَیں ہی دُوں گا۔"

رومیوں 16باب 17آیت "اب اَے بھائیو! مَیں تم سے اِلتماس کرتا ہوں کہ جو لوگ اُس تعلیم کے برخلاف جو تم نے پائی پھوٹ پڑنے اور ٹھوکر کھانے کا باعث ہیں اُن کو تاڑ لِیا کرو اور اُن سے کنارہ کِیا کرو۔"

مختصر خلاصہ: پولس اِس حوالے سے نہایت پُر جوش تھا کہ وہ بالآخر اِس کلیسیا میں بھی کلام کی خدمت کرے اور ہر شخص اس حقیقت سے بخوبی واقف تھا (رومیوں 1باب 8-15آیات)۔رومیوں کے نام خط پولس رسول نے کرنتھس میں اُس وقت لکھا جب وہ وہاں سے امداد لیکر یروشلیم کی کلیسیا میں موجود غریب ایمانداروں کے پاس روانہ ہونے کو تھا۔ اُس کا ارادہ پہلے روم اور پھر وہاں سے اسفانیہ (سپین) جانے کا تھا (رومیوں 15باب 24آیت) لیکن جب اُسے یروشلیم میں گرفتار کر لیا گیا تو اُس کے منصوبے کامیاب نہ ہوپائے ۔ وہ آخر کوروم پہنچا ضرور لیکن ایک قیدی کی حیثیت سے۔ ممکناً طور پر فیبےنے جو کرنتھیس کے قریب کنخریہ کی کلیسیا کی خادمہ تھی اِس خط کو روم پہنچایا تھا ۔

رومیوں کے نام خط اصل میں ایک عقائد ی دستاویز ہے اور اسے چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے : راستبازی کی ضرورت، 1باب 18آیت تا 3باب 20آیت؛ راستبازی کی فراہمی، 3 باب 21آیت تا 8باب 39آیت؛ راستبازی کی تائیدکے لیے دلائل، 9باب 1آیت تا 11باب 36آیت؛ راستبازی پر عمل، 12باب 1آیت تا 15باب 13آیت۔ اس خط کا بنیادی موضوع یقیناً راستبازی ہے ۔ سب سے پہلے پولس رسول رُوح القدس کی رہنمائی سے تمام آدمیوں کو اُن کی بدکاری کے باعث ملامت کرتا ہے ۔ وہ روم میں موجود ایمانداروں کے درمیان خدا کے کلام کی سچائی کی منادی کرنے کی خواہش کرتا ہے ۔ پولس رسول کو اس بات کی یقین دہانی تھی کہ رومہ کی کلیسیا کے لوگ صحیح راہ پر چل رہے تھے۔ وہ بہت واضح طور پر اِس بات کو پیش کرتا ہے کہ وہ انجیل سے شرماتا نہیں کیونکہ یہ خدا کی وہ قوت ہے جس کے وسیلہ سے ہر شخص نجات پاتا ہے ۔

رومیوں کے نام خط ہمیں بتاتا ہے کہ خدا کون ہے اور اُس نے ہمارے لیے کیا کیا ہے ۔ یہ خط یسوع مسیح اور اُس کی کفارہ بخش موت کے بارے میں بھی بتاتا ہے ۔ یہ خط ہمیں ہمارے اپنے بارے میں بھی بتاتا ہے کہ مسیح کے بغیر ہم کیسے تھے اور اب مسیح پر ایمان لانے کے وسیلہ سے ہمیں کیا مقام حاصل ہوا ہے ۔ پولس رسول بتاتا ہے کہ خُدا یہ تقاضا نہیں کرتا کہ مسیح میں آنے سے پہلے ہی ہماری زندگی راستبازی اور پاکیزگی والی ہو۔ کیونکہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہمارے گناہوں کی خاطر مواء ۔ یعنی ہمیں خُداہماری گناہگار حالت میں بچاتا ہے اور مسیح کی پاکیزگی کے وسیلے ہماری زندگیوں میں پاکیزگی اور راستبازی آتی ہے۔

پرانے عہد نامے کیساتھ ربط: رومیوں کے نام خط میں پولس رسول پرانے عہد نامے کے متعدد لوگوں اور واقعات کو شاندار سچائیوں کی مثالوں کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ ابرہام جب ایمان لایا تو اُس کے کاموں کے باعث نہیں بلکہ اُس کے ایمان لانے کے وسیلہ سے اُسکو راستباز ٹھہرایا گیا (رومیوں 4باب 1-5آیات)۔ رومیوں 4باب 6- 9آیات میں پولس داؤد کا حوالہ دیتا ہے جس نے بالکل اسی سچائی کو دہرایا تھا کہ "مبارک ہے وہ جس کی خطا بخشی گئی اور جسکا گناہ ڈھانکاگیا۔ مُبارک ہے وہ آدمی جس کی بدکاری کو خُداوند حساب میں نہیں لاتا۔روم کی کلیسیاکو وراثتی گناہ کے بارے میں سمجھانے کےلیے پولس رسول آدم کا حوالہ دیتا ہے اور مسیح کے وسیلہ سے ایمانداروں کے خدا کے فضل کے فرزند بننے کے عمل کی وضاحت کے لیے وعدے کے فرزند اضحا ق اور سارہ کی کہانی کا بیان کرتا ہے ۔ 9-11ابواب میں پولس بنی اسرائیل کی تاریخ کو دہراتا اور بیان کرتا ہے کہ خدا نے اسرائیل کو مکمل اور قطعی طور پر ترک نہیں کیا (رومیوں 11باب 11-12آیات) بلکہ اُس نے اُنہیں اُس وقت تک "لغزش" میں رہنے دیا جب تک کہ غیر قوموں کی مکمل تعداد نجات میں داخل نہیں ہو جاتی۔

عملی اطلاق: رومیوں کے نام خط اِس بات کو پوری طرح واضح کرتا ہے کہ اپنے آپ کو نجات دینے کےلیے ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ اور ہمارا ہر"نیک" عمل جو ہم نے کبھی کیا ہے وہ خدا کے نزدیک"ناپاک لباس کی مانند"ہے (یسعیاہ 64باب 6آیت)۔ہم اپنے گناہوں اور خطاؤں میں مردہ ہیں اور صرف خدا کا فضل اور رحم ہی ہمیں بچا سکتا ہے ۔ خدا نے اپنے فضل و رحم کا اظہار اپنے بیٹے یسوع مسیح کو اس زمین پر بھیجنے کی صورت میں کیا ہے تاکہ وہ ہماری خاطر صلیب پر جان دے ۔ جب ہم اپنی زندگیوں کو مسیح کے تابع کر دیتے ہیں تو ہم مزید گناہ آلودہ فطرت کے قبضہ میں نہیں رہتے ۔ اگر ہم اقرار کریں کہ خداوند یسوع مسیح موجود ہے اور ایمان رکھیں کہ وہ مردوں میں سے جی اُٹھا ہے تو ہم نجات پاتے اور نئی پیدا یش کے حامل ایماندار کہلاتے ہیں۔ ہمیں اپنی زندگیوں کو خدا کے حضور زندہ اور پاک قربانی کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ اوریہ ہماری شدید خواہش ہونی چاہیے کہ ہم اپنے نجات دہندہ خدا کی عبادت کریں۔ رومیوں کے نام خط کا سب سے بہترین اطلاق رومیوں 1باب 16آیت کا استعمال کرنے اور انجیل سے کبھی نہ شرمانے کی صورت میں ہوتا ہے۔ انجیل سے شرمانے کی بجائے آئیے ہم سب انجیل کے وسیلے نجات کا پرچار کرنے میں وفادار رہنے کا عہد کریں ۔

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

نئے عہد نامے کا جائزہ

اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں



رومیوں کی کتاب

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں