settings icon
share icon

اعمال کی کتاب

مصنف: اعمال کی کتاب کو رسولوں کے اعمال بھی کہا جاتا ہے اور یہ کتاب خصوصی طور پر اپنے مُصنف کا ذکر نہیں کرتی۔ لوقا 1 باب 1-4 اور اعمال 1 باب 1-3آیات سے ہم اِس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب کو ایک ہی مصنف نے قلمبند کیا تھا۔ ابتدائی کلیسیا کی روایات یہ ہی بیان کرتی ہیں کہ پولس رسول کے لوقا نامی ایک ساتھی نے ہی لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب کو تحریر کیاتھا (کلسیوں 4 باب 14 آیت؛ 2 تیمتھیس 4 باب 11 آیت)َ

سنِ تحریر: اعمال کی کتاب غالباً61 قبل از مسیح اور 64 قبل از مسیح کے درمیانی دور میں لکھی گئی تھی۔

تحریر کا مقصد: اعمال کی کتاب کو ابتدائی کلیسیا کی تاریخ ہم تک پہنچانے کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔ اعمال کی کتاب ارشادِ اعظم کی تکمیل پر زور دیتی ہے۔ اعمال کی کتاب اِس بات کو ریکارڈ کرتی ہے کہ خُداوند کی طرف سے مقرر کردہ رسول یروشلیم، یہودیہ، سامریہ اور اپنے اردگرد کی ساری دُنیا میں اُس کے گواہ تھے۔ اعمال کی کتاب رُوح القدس کی نعمت پر بھی روشنی ڈالتی ہے جو ہمیں قوت بخشتا ہے، ہماری رہنمائی کرتا ہے، ہمیں تعلیم دیتا ہے اور ہمارے معاون و مددگار کے طور پر خدمت کرتا ہے۔ جب ہم اعمال کی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم اُس انجیل کی قدرت کو دیکھ کر خوشی اور حوصلہ پاتے ہیں کیونکہ جہاں جہاں پر انجیل کا پیغام جاتا ہے یہ زندگیوں کو تبدیل کرتا ہے۔ اُس دور میں رسولوں نے بہت سارے معجزات بھی دکھائے جن کی مدد سے اُن کی پیغام کی تصدیق ہوئی تھی۔ اعمال کی کتاب یسوع کے آسمان پر اُٹھائے جانے اور نئے عہد نامے کے سارے کلام کے دئیے جانے کے عمل کی تکمیل کے درمیانی وقت میں رونماں ہونے والے واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ اِس کتاب میں بیان کردہ وہ معجزات جو رسولوں نے کئے تھے در اصل خداکے وہ ذرائع ہیں جن کو اُس نے اِس لیے استعمال کیا کہ وہ اپنے مُقدس کلام کی تصدیق کر سکے جو اُس نے اپنے چنیدہ لوگوں کے ذریعے سے سب لوگوں تک پہنچایا تھا۔

کلیدی آیات: اعمال 1 باب 8 آیت: "لیکن جب رُوح القدس تم پر نازِل ہو گا تو تم قوت پاؤ گے اور یروشلیم اور تمام یہودیہ اور سامر یہ میں بلکہ زمین کی اِنتہا تک میرے گواہ ہو گے۔"

اعمال 2 باب 4 آیت: "اور وہ سب رُوح القدس سے بھر گئے اور غیر زبانیں بولنے لگے جس طرح رُوح نے اُنہیں بولنے کی طاقت بخشی۔"

اعمال 4 باب 12 آیت: "اور کسی دوسرے کے وسیلہ سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دُوسرا نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلہ سے ہم نجات پا سکیں۔"

اعمال 4 باب 19- 20 آیات: "مگر پطر س اور یُوحنا نے جواب میں اُن سے کہا کہ تم ہی اِنصاف کرو ۔ آیا خُدا کے نزدِیک یہ واجِب ہے کہ ہم خُدا کی بات سے تمہاری بات زِیادہ سنیں۔کیونکہ ممکن نہیں کہ جو ہم نے دیکھا اور سنا ہے وہ نہ کہیں۔"

اعمال 9 باب 3-6آیات: "جب وہ سفر کرتے کرتے دمشق کے نزدِیک پہنچا تو اَیسا ہوا کہ یکایک آسمان سے ایک نُور اُس کے گرداگرد آ چمکا۔اور وہ زمین پر گر پڑا اور یہ آواز سُنی کہ اَے ساؤل اَے ساؤل! تُو مجھے کیوں ستاتا ہے؟اُس نے پُوچھا اَے خُداوند! تُو کون ہے؟ اُس نے کہا مَیں یسو ع ہوں جسے تُو ستاتا ہے۔مگر اُٹھ شہر میں جا اور جو تجھے کرنا چاہئے وہ تجھ سے کہا جائے گا۔"

اعمال 16 باب 31آیت: "اُنہوں نے کہا خُداوند یسوع پر اِیمان لا تو تُو اور تیرا گھرانا نجات پائے گا۔"

مختصر خلاصہ: اعمال کی کتاب مسیحی کلیسیا کی تاریخ اور خُداوند یسوع مسیح کی انجیل کی منادی کے بارےمیں ہمیں تاریخی حقائق مہیا کرتی ہے اوراِس کے ساتھ ساتھ اُس دور میں کلیسیا اور انجیل کی بہت زیادہ مخالفت کے بارے میں بھی بتاتی ہے۔ اگرچہ خُدا کی طرف سے بہت سارے وفادار خادموں کو کلام کی منادی کرنے اور تعلیم دینے کے لیے استعمال کیا گیا لیکن اُن سب میں سے ساؤل جس کو بعد میں پولس کہا گیا سب سے زیادہ پُر اثر خادم ثابت ہوا۔ مسیحیت کو قبول کرنے سے پہلے پولس بڑے جوش و جذبے کے ساتھ مسیحیت کی مخالفت کرتا تھا۔ اعمال کی کتاب کے اندر ایک بہت ہی اہم واقعہ دمشق کی راہ پر پولس رسول کی تبدیلی ہے (اعمال 9 باب 1-31آیات)۔ اپنی تبدیلی کے بعد پولس کی زندگی میں ایک اور انتہا دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ انتہائی شدت کے ساتھ خُدا سے پیار کرنے اور رُوح سے بھرپور ہو کرسچے اور زندہ خُدا کے کلام کی منادی کرنے لگا۔ خُداوند یسوع مسیح کے شاگردوں کو رُوح القدس کی طرف سے قوت ملی تاکہ وہ یروشلیم(اعمال 1-8 باب 3 آیت)، یہودیہ ، سامریہ (8 باب 4 آیت تا 12 باب 25آیت)اور دُنیا کی انتہا تک مسیح کے گواہ ہوں (13 باب 1آیت تا 28 باب 31آیت)۔ اِس کتاب کے دوسرے حصے میں پولس رسول کے تین مشنری سفروں (13 باب 1آیت تا 21 باب 16 آیت)، یروشلیم اور قیصریہ میں اُس پر چلائے جانے والے مقدمات (21 باب 17آیت تا 26 باب 32آیت) اور اُس کے روم تک کے سفر کا بھی بیان ہے (27 باب 1 آیت تا 28 باب 31آیت)۔

نئے عہد نامے کیساتھ ربط : اعمال کی کتاب پرانے عہد نامے سے نئے عہد نامے میں تبدیلی کا کام سرانجام دیتی ہے۔ اِس تبدیلی کو اعمال کی کتاب کے بہت سارے اہم واقعات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے نمبر پر تو رُوح القدس کی خدمت میں بہت بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے، پرانے عہد نامے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رُوح القدس کا سب سے نمایاں کام خُدا کے لوگوں کو ظاہری طورپر مسّح کرنا تھا جن میں سے چند ایک ہیں موسیٰ (گنتی 11 باب 17آیت)، عتنی ایل (قضاۃ 3 باب 8- 10 آیات)، جدعون (قضاۃ 6 باب 34آیت) اور ساؤل (1 سموئیل 10 باب 6- 10آیات)۔ خُداوند یسوع مسیح کے آسمان پر اُٹھا لئے جانے کے بعد رُوح القدس ایمانداروں پر نازل ہوا تاکہ اُن کے اندر بسے، اُن کی رہنمائی کرے اور اُن کو اندرونی طور پر یا رُوحانی طور پر مضبوط کرے۔خُدا کی ایمانداروں کے اندر بسنے والی رُوح اُن لوگوں کے لیے خُدا کا تحفہ ہے جو مسیح یسوع پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لاتے ہیں۔

اعمال 9 باب کے اندر پولس رسول کی رُوحانی تبدیلی نجات کے لیے خُدا کی قدرت اور رُوحانی طور پر اندھوں کی آنکھیں کھولنے کی ایک بہت ڈرامائی اور خوبصورت مثال ہے (دیکھئے رومیوں 1 باب 16آیت)۔ پولس رسول اِس بات کا اقرار کرتا ہے کہ نجات دہندہ سے ملنے سے پہلے وہ جوش کے اعتبار سے کلیسیا کا ستانے والا اور شریعت کی راستبازی کے اعتبار سے بے عیب تھا(فلیپیوں 3باب6آیت)۔ اور وہ اپنے جوشِ جنون میں اِس حد تک چلا گیا تھا کہ وہ اُن لوگوں کو سخت سزائیں دلوا رہا تھا جو یہ سکھاتے تھے کہ نجات تو مسیح پر ایمان اور خُدا کے فضل کے وسیلے سے ملتی ہے۔ لیکن اپنی رُوحانی تبدیلی کے بعد پولس کو اِس بات کی سمجھ آئی کہ اُس کے مذہبی کٹر پن کے سارے کام اور ساری کوششیں بے فائدہ تھیں اور وہ کہتا ہے کہ "بلکہ مَیں اپنے خُداوند مسیح یسو ع کی پہچان کی بڑی خوبی کے سبب سے سب چیزوں کو نقصان سمجھتا ہوں ۔ جس کی خاطر مَیں نے سب چیزوں کا نقصان اُٹھایا اور اُن کو کُوڑا سمجھتا ہوں تاکہ مسیح کو حاصل کروں۔اور اُس میں پایا جاؤں ۔ نہ اپنی اُس راست بازی کے ساتھ جو شرِیعت کی طرف سے ہے بلکہ اُس راست بازی کے ساتھ جو مسیح پر اِیمان لانے کے سبب سے ہے اور خُدا کی طرف سے اِیمان پر ملتی ہے۔" (فلپیوں 3 باب 8- 9آیات)۔ خُداوند یسوع مسیح سے ملنے سے پہلے پولس فریسیوں کی طرف سے کی جانے والی شریعت کی غلط تفسیر کی وجہ سے رُوحانی طور پر اندھا ہو چکا تھا اور اپنی راستبازی کے سبب سے بہت پھولا ہوا تھا۔ جب پولس رسول یسوع مسیح سے ملاتو اُس کی آنکھوں سے چھلکے اُتر کر گرگئے (اعمال 9 باب 18آیت)۔ اُس نے اپنی راستبازی کے بارے میں ڈینگیں مارنے کی بجائے مسیح مصلوب کو جلال دینا شروع کر دیا(رومیوں 3 باب 27آیت؛ گلتیوں 6 باب 14آیت)۔

پطرس نے ناپاک جانوروں سے بھری ہوئی ایک بڑی چادر کی جو رویا دیکھی (اعمال 10 باب 9-15آیات) یہ بھی پرانے عہد نامے سے نئے عہد نامے میں ایک خاص تغیر یا تبدیلی کی علامت ہے جس میں عالمگیر کلیسیا کے اندر تمام یہودی اور غیر اقوام متحد ہوتے ہیں۔ پطرس کی اُس رویا کے اندر ناپاک جاندار دراصل غیر اقوام کی علامت تھےجن کو خُداوند یسوع مسیح کی صلیبی موت کی قربانی کے وسیلے سے خُدا کی طرف سے پاک ٹھہرایا گیا تھا۔ پرانے عہد نامے کا مقصد پورا ہو چکا تھا (دیکھیے گلتیوں 3 باب 23- 29آیات)، اورفضل کے نئے عہد نامے کے اندر یہودی اور غیر اقوام دونوں ہی مسیح یسوع کی موت اور اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر ایمان کے وسیلے سے متحد ہو چکے ہیں۔

عملی اطلاق: جب خُدا عام لوگوں کو رُوح القدس کے وسیلے سے قوت بخشتا ہے توپھر وہ اُن کے وسیلے سے بہت ہی حیرت انگیز کام کر سکتا ہے۔ اعمال کی کتاب ہم پر ظاہر کرتی ہے کہ کیسے خُدا نے بالکل عام سے لوگوں اور بہت معمولی مچھیروں کو لیکر اُن کو اِس دُنیا کی کایا پلٹنے کے لیے استعمال کیا (اعمال 17 باب 6آیت)۔ خُدا نےمسیحیوں سے سخت نفرت کرنے والے ایک ایسے کٹر فسادی کو پکڑا اور اُس کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا مبشر اور قریباً آدھے نئے عہد نامے کا مصنف بنا دیا۔ خُدا نے اُس دور میں اُس ایذا رسانی کو جس کا مسیحیوں کو سامنا تھا مسیحیت ہی کو تیزی کے ساتھ پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ خُدا ہمارے دِلوں کو تبدیل کر کے اور ہمیں مسیح کے وسیلے سے نجات کی خوشخبری کو پھیلانے کا جذبہ عطا کرتے ہوئے رُوح القدس سے قوت بخش کر ہمارے وسیلے سے بھی بالکل ایسی ہی چیزیں اور ایسے ہی کام کر سکتا ہے اور کرتا بھی ہے۔ اگر ہم اپنی ہی قوت کیساتھ اِس دُنیا میں خُدا کے کام کو کرنے کی کوشش کریں گے تو ہم لازمی طور پر ناکام ہونگے۔ اعمال 2 باب کے اندر خُداوند کے شاگردوں کی مانند ہمیں بھی تعلیم دینے، رفاقت رکھنے، روٹی توڑنے اور دُعا کرنے میں مشغول رہنا چاہیے (اعمال 2باب42آیت)۔

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

نئے عہد نامے کا جائزہ



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اعمال کی کتاب
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries