2 یوحنا کی کتاب


مصنف: یوحنا رسول کا دوسرا خط اپنے مُصنف کا براہ راست ذکر نہیں کرتا۔ ابتدائی کلیسیا کی روایت کے مطابق اِس خط کا مُصنف یوحنا رسول تھا ۔ گذشتہ کئی برسوں سےمختلف طرح کی قیاس آرائیاں ہوتی چلی آ رہی ہیں کہ شاید خُداوند یسوع مسیح کا یوحنا نامی ایک اور شاگرد اِس خط کا مصنف ہو۔ تاہم تمام شواہداُسی یوحنا کی جانب اشارہ کرتے ہیں جوخُداوند یسوع کا پیارا شاگرد تھا اور جس نے یوحنا کی انجیل بھی قلمبند کی تھی۔

سنِ تحریر: یوحنا رسول کا دوسرا خط بھی غالباً اُسی دور یعنی 85-95بعد از مسیح میں لکھا گیا ہو گا ، جب یوحنا کا 1 اور 3 خط قلمبند کیا گیا تھا۔

تحریر کا مقصد: یوحنا کا دوسرا خط ایک فوری اور لازمی استدعا ہے، یوحنا رسول کہتا ہے کہ اُس کے قارئین کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے محبت رکھنے اور کلامِ مقدس کی پیروی میں اپنی زندگیاں بسر کرنے کے حکم کی تعمیل کے ذریعے خدا اور اُس کے بیٹے یسوع مسیح سے اپنی محبت کا اظہار کریں ۔ یوحنا کا دوسرا خط اُن دھوکا بازوں پر نظر رکھنے کے حوالے سے بھی ایک سخت نصیحت ہے جو یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ مسیح حقیقت میں جسمانی طور پر زندہ نہیں ہوا تھا ۔

کلیدی آیات: 2یوحنا 6آیت: "اور محبت یہ ہے کہ ہم اُس کے حکموں پر چلیں ۔ یہ وہی حکم ہے جو تم نے شروع سے سنا ہے کہ تمہیں اِس پر چلنا چاہئے۔"

2یوحنا 8- 9آیات: " اپنی بابت خبردار رہو تاکہ جو محنت ہم نے کی ہے وہ تمہارے سبب سے ضائع نہ ہو جائے بلکہ تم کو پُورا اَجر ملے۔جو کوئی آگے بڑھ جاتا ہے اور مسیح کی تعلیم پر قائم نہیں رہتا اُس کے پاس خُدا نہیں ۔ جو اُس تعلیم پر قائم رہتا ہے اُس کے پاس باپ بھی ہے اور بیٹا بھی ۔"

مختصر خلاصہ: یوحنا کا دوسرا خط " ایک برگزیدہ بی بی اور اُس کے فرزندوں "سے مخاطب ہے ۔ کلیسیا میں یہ عورت یا تو بہت زیادہ عزت دارخیال کی جاتی تھی یا پھر اُس خا ص ضابطہ اخلا ق کی حامل تھی جس کے بارے میں کلیسیا اور اِس کی جماعت کو بتایا گیا ہے ۔جن دنوں میں مسیحیوں پر بڑا ظلم و ستم کیا جا رہا تھا اُس وقت اکثر اس خفیہ انداز سے دوسروں کو سلام و آداب پیش کیا جانا عام تھا۔

یوحنا کا دوسرا خط بنیادی طور پر ایک ضروری انتباہ کے بارے میں ہے جس کا تعلق اُن دھوکابازوں سے ہے جو مسیحیت کے اصل عقیدے کے مطابق تعلیم نہیں دے رہے تھے اور جو اس بات کے قائل تھے کہ یسوع حقیقتاًجسمانی طور پر نہیں بلکہ روحانی طور پر زندہ ہوا تھا ۔ یوحنا رسول اس حوالے سے بڑا بے چین ہے اور چاہتا ہے کہ سچے مسیحیوں کو ان جھوٹے استادوں سے واقف ہونا چاہیے اور ان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیے ۔

پرانے عہد نامے کے ساتھ ربط: یوحنا رسول محبت کو ایک جذبے یا احساس کے طور پر نہیں بلکہ خدا کے احکام کی پیروی کے عمل کے طور پر بیان کرتا ہے ۔خُداوند یسوع مختلف احکامات خصوصاً " سب سے پہلے اور بڑے " حکم "خدا سے محبت رکھو" ( استثنا 6باب 5آیت) اوراِسی کی مانند دوسرے حکم " ایک دوسرے سے محبت رکھو" ( متی 22باب 37- 40آیات؛ احبار 19باب 18آیت) کی اہمیت کو بار بار بیان کرتا ہے ۔

عملی اطلاق: یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم ہر اُس چیز ، بات یا عقیدے کو جو "مسیحی " ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کلامِ مُقدس کی کسوٹی پر پرکھیں۔اِس چیز پر خاطر خواہ زور دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ شیطان کے اہم ہتھیار وں میں سب سے بڑا ہتھیار دھوکا ہے۔ ہمارے لیے کسی بھی ایسے نئے عقیدے سے متاثر ہونا بالکل آسان ہےجو بظاہر تو کلامِ مُقدس کیساتھ ہم آہنگ نظر آتا ہو لیکن جب اُس کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو کلامِ مُقدس سے بالکل غیر متفق ہو۔ جو کچھ بھی آپ کے سامنے آیا یا وقوع پذیر ہوتا ہے وہ اگر کلامِ مُقدس کے ساتھ واضح مطابقت نہیں رکھتا تو وہ جھوٹ ہے اور ہمارا اُس کے ساتھ قطعی طور پر کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

نئے عہد نامے کا جائزہ

اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں



2 یوحنا کی کتاب

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں