settings icon
share icon
سوال

کیا مسیح کی خاطر دُکھ اُٹھانا ہمیشہ ہی مسیح کے پیروکار کی زندگی کا حصہ ہوگا ؟

جواب


بائبل مقدس مسیح کی خاطر دُکھ اُٹھانے کے بارے میں بہت کچھ بیان کرتی ہے ۔ نئے عہد نامے کے قلم بند کئے جانے کے دور میں یسوع کے پیروکاروں کو اکثر اُن کے اپنے خاندانوں اور برادریوں سے بے دخل کر دیا جاتا تھا ۔ کچھ بد ترین ایذار سانی مذہبی رہنما ؤں کی طرف سے کی تھی ( اعمال 4باب 1-3آیات)۔ یسوع نے اپنے ماننے والوں کو بتایا ہے کہ " مُبارک ہیں وہ جو راست بازی کے سبب سے ستائے گئے ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے" ( متی 5باب 10آیت)۔ وہ اپنے شاگردوں کو یاد دلاتا ہے کہ " اگر دُنیا تم سے عداوت رکھتی ہے تو تم جانتے ہو کہ اُس نے تم سے پہلے مجھ سے بھی عداوت رکھّی ہے" ( یوحنا 15باب 18آیت)۔

2تیمتھیس 3باب 12آیت بیان کرتی ہے کہ "جتنے مسیح یسوع میں دِین داری کے ساتھ زِندگی گُذارنا چاہتے ہیں وہ سب ستائے جائیں گے ۔" بائبل کے دنوں کی طرح آج بھی بہت سے مسیحیوں نے یہ سامنا کیا ہے کہ مسیح پر ایمان کا کھلے عام اعلان کرنا قیدو بند ، مار پیٹ ، تشدد یا موت کا باعث ہو سکتا ہے (عبرانیوں 11باب 32-38آیات؛ 2کرنتھیوں 12باب 10آیت؛ فلپیوں 3باب 8آیت؛ اعمال 5باب 40آیت)۔ آزاد ممالک میں رہنے والے لوگ اکثر اس خیال پر کانپ اٹھتے ہیں لیکن وہ نسبتاً خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے ہزاروں لوگ ہیں جو روزانہ مسیح کی خاطر دُکھ اُٹھاتے ہیں اور ہم خدا وند کے شکر گزار ہیں کہ ہمیں اُن کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔ لیکن کیا ایذارسانی صرف ایک ہی قسم کی ہے؟

یسوع نے واضح طور پر بتایا ہے کہ اُس کی پیروی کرنے کا کیا مطلب ہے: "اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے تو اپنی خُودی سے اِنکار کرے اور ہر روز اپنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے۔ کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے وہ اُسے کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوئے وُہی اُسے بچائے گا۔ اور آدمی اگر ساری دُنیا کو حاصل کرے اور اپنی جان کو کھو دے یا اُس کا نُقصان اُٹھائے تو اُسے کیا فائدہ ہو گا؟" ( لوقا 9باب 23-25آیات)۔ اس جزو جملے " اپنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے " کے بارے میں ہماری جدید تفہیم اکثر نا مناسب ہوتی ہے ۔ یسوع کے زمانہ میں صلیب ہمیشہ موت کی علامت ہوتی تھی ۔ جب کوئی شخص صلیب اُٹھاتا تو اُسے مصلوب کئے جانے کی سزا پہلے ہی سنا دی گئی ہوتی تھی ۔ یسوع نے فرمایا ہے کہ اُس کی پیروی کرنے والے ہر شخص کو مرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ ہم سب شہیدوں کی موت نہیں مریں گے ۔ ہم سب کو اپنے ایمان کےلیے قید ، مارپیٹ یا تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا ۔ پس یسوع کس طرح کی موت کا ذکر کرنا چاہتا تھا ۔

پولس رسول گلتیوں 2باب 20 آیت میں وضاحت کرتا ہے کہ "مَیں مسیح کے ساتھ مصلوب ہوا ہوں اور اب مَیں زِندہ نہ رہا بلکہ مسیح مجھ میں زِندہ ہے اور مَیں جو اَب جسم میں زِندگی گذارتا ہوں تو خُدا کے بیٹے پر اِیمان لانے سے گذارتا ہوں جس نے مجھ سے محبّت رکھّی اور اپنے آپ کو میرے لئے موت کے حوالہ کر دِیا" ۔ مسیح کی پیروی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی مرضی کے اعمال کرنے کے حوالے سے مر جاتے ہیں۔ ہم اپنی مرضی ، اپنے حقوق ، اپنے جذبات اور اپنے مقاصد کو اُسی کے ساتھ صلیب پر قربان کردینے کا خیال کرتے ہیں۔ اپنی زندگی کو چلانے کا ہمارا حق ہمارے لئے مُر دہ ہے (فلپیوں 3باب 7-8آیات) ۔ موت دُکھ اور تکلیف پر مشتمل ہے ۔ بدن مرنا نہیں چاہتا ہے۔ خودی کو مارنا تکلیف دہ اور اپنی خوشنودی حاصل کرنے کے ہمارے فطری رجحان کے خلاف ہوا ہے۔ لیکن ہم مسیح اور بدن دونوں کی پیروی نہیں کرسکتے ہیں (لوقا 16باب 13آیت؛ متی 6باب 24آیت؛ رومیوں 8باب8آیت)۔ یسوع نے فرمایا ہے کہ "جو کوئی اپنا ہاتھ ہل پر رکھ کر پیچھے دیکھتا ہے وہ خُدا کی بادشاہی کے لائق نہیں"( لوقا 9باب 62 آیت)۔

پولس رسو ل نے یسوع کی خاطر بیشتر لوگوں سے زیادہ دُکھ اُٹھایا تھا ۔ وہ فلپی کے مسیحیو ں سے کہتا ہے کہ " مسیح کی خاطر تم پر یہ فضل ہوا کہ نہ فقط اُس پر اِیمان لاؤ بلکہ اُس کی خاطر دُکھ بھی سہو" ( فلپیوں 1باب 29آیت)۔ یہاں استعمال ہونے والے لفظ فضل سے مراد "مہربانی کرنا ، مفت تحفے کے طور پر دینا" ہے ۔ پولس رسو ل دُکھ اُٹھانے کو ایک لعنت کی بجائے ایک نفع کے طور پر پیش کرتا ہے ۔

دُکھ کی کئی اشکال ہو سکتی ہیں ۔ خداوند یسوع مسیح کی فرمانبرداری کرنے کو ترجیح دینے کے باعث ہم خود کو دنیا کے بر خلاف کھڑا کر رہے ہوتے ہیں ۔ گلتیوں 1باب 10آیت بیان کرتی ہے کہ "اب مَیں آدمیوں کو دوست بناتا ہوں یا خُدا کو؟ کیا آدمیوں کو خوش کرنا چاہتا ہوں؟ اگر اب تک آدمیوں کو خوش کرتا رہتا تو مسیح کا بندہ نہ ہوتا۔" بائبل کی تعلیمات پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کےلیے ہم خود کو نامنظور ی ،حقارت، تنہائی یا فریب کے لیے پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔ اکثر اوقات ایذار سانی اُن لوگوں کی طرف سے ہوتی ہے جو خود کو رُوحانی سمجھتے ہیں لیکن خدا کو اپنے ہی خیالات کے مطابق بیان کرتے ہیں ۔ اگر ہم راستبازی اور بائبلی سچائی کے لیے کھڑا ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ یقینی بات ہے کہ ہمیں غلط سمجھا جائے گا ، ہمارا مذاق اُڑایا جائے گا یا ہمارے ساتھ اس سے بھی بد تر سلوک ہو گا ۔ ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ اذیت کی کسی بھی طرح کی دھمکی رسولوں کو مسیح کی مناد ی کرنے سے روک نہیں پائی تھی ۔ پولس رسول کہتا ہے کہ ہر چیز کا نقصان اُٹھانا اس قابل ٹھہرا کہ "مَیں اُس کو اور اُس کے جی اُٹھنے کی قدرت کو اور اُس کے ساتھ دُکھوں میں شرِیک ہونے کو معلوم کروں اور اُس کی موت سے مشابہت پیدا کروں" (فلپیوں 3باب 10آیت)۔ اعمال 5باب 40-41آیات رسولوں کے اُس ردّعمل کو بیان کرتی ہیں جب اُنہیں یسوع کے بارے میں منادی کرنے پر دوسری بار مارپیٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا : " پس وہ عدالت سے اِس بات پر خُوش ہو کر چلے گئے کہ ہم اُس نام کی خاطر بے عزّت ہونے کے لائق تو ٹھہرے۔"

مسیح کے سچے پیروکار ہونے کا ایک مستقل حصہ کسی نہ کسی شکل میں دُکھ اُٹھانا ہے۔ یسوع نے فرمایا ہے کہ وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کی طرف لے کر جاتا ہے ( متی 7باب 14آیت)۔ ہماری مشکلات ایسے طریقہ کار بھی ہیں جن کے ذریعے ہم اُس کے دکھوں کو ایک چھوٹے درجےپر معلوم کرسکتے ہیں ۔

یسوع فرماتا ہے کہ اگر ہم انسانوں کے سامنے اُس کا انکار کرتے ہیں تو وہ آسمان پر باپ کے سامنے ہمارا انکار کرے گا ( متی 12باب 9آیت)۔ مسیح کا انکار کرنے کے کئی پوشیدہ انداز ہیں ۔ اگر ہمارے اعمال ، الفاظ ، طرزِ زندگی یا تفریحی ترجیحات اُس کی مرضی کی عکاسی نہیں کرتے تو ہم مسیح کا انکار کر رہے ہوتے ہیں ۔ اگر ہم اُسے جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس انداز میں زندگی بسر کرتے ہیں کہ جیسے اُسے نہیں جانتے تو ہم مسیح کا انکار کر رہے ہوتے ہیں ( 1یوحنا 3باب 6-10آیات)۔ بہت سے لوگ مسیح کے انکار کی ان اقسام کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ وہ اُس کی خاطر دُکھ اُٹھانا نہیں چاہتے ۔

ہمارا سب سے بڑا دُکھ اکثرہمارے اندر سے اُس وقت آتا ہےجب ہم ایک ایسے دل پر قابو پانے کی جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں جسے اپنی مرضی کے لحاظ سے مر جانا اور مسیح کے ماتحت ہو جانا چاہیے ( رومیوں 7باب 15-25آیات)۔ دُکھ تکلیف جس بھی شکل میں آتے ہیں ہمیں اُسے اعزار کی علامت اور اس استحقاق کے طور پر قبول کرنا چاہیے کہ رسولوں کی طرح ہم بھی " اُس نام کی خاطر بے عزّت ہونے کے لائق تو ٹھہرے" ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا مسیح کی خاطر دُکھ اُٹھانا ہمیشہ ہی مسیح کے پیروکار کی زندگی کا حصہ ہوگا ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries