settings icon
share icon
سوال

بائبل مُقدس کامیابی کی تعریف کیسے کرتی ہے؟

جواب


جب داؤد بادشاہ قریب المرگ تھا تو اُس نے اپنے بیٹے سلیمان کو یہ نصیحت کی: " جو مُوسیٰ کی شرِیعت میں لِکھا ہے اُس کے مُطابِق خُداوند اپنے خُدا کی ہِدایت کو مان کر اُس کی راہوں پر چل اور اُس کے آئِین پر اور اُس کے فرمانوں اور حکموں اور شہادتوں پر عمل کر تاکہ جو کچھ تُو کرے اور جہاں کہیں تُو جائے سب میں تجھے کامیابی ہو" (2 سلاطین 2باب 3آیت )۔ غور کریں کہ داؤد نے اپنے بیٹے کو بڑی بڑی فوجوں کے ساتھ اپنی بادشاہی قائم کرنے یا دوسرے ملکوں سے دولت اکٹھی کرنے یا میدانِ جنگ میں اپنے دشمنوں کوشکست دینے کے لیے نہیں کہا۔ اِس کی بجائے اُس کا کامیابی کا فارمولا خدا کی پیروی اور اس کی فرمانبرداری کرنا تھا۔ جب سلیمان بادشاہ بنا تو اُس نے خُداوند سے دولت اور طاقت نہ مانگی بلکہ اُس نے حکمت اور سمجھداری کے واسطے التجا کی تاکہ خُدا کے لوگوں کی رہنمائی کرسکے ۔

خدا اِس التجا سے خوش ہوا اور اِسے منظور کرتے ہوئے سلیمان کو اِس قدر عقلمند اور سمجھدار دل عطاکیا جتنا پہلے کسی آدمی کے پاس نہیں تھا۔ اُس نے سلیمان کو وہ چیزیں -دولت اور آدمیوں میں عزت -بھی بخشیں جو اُس نے نہیں مانگی تھیں (1 سلاطین 3باب 1-14آیات )۔ اپنے زیادہ تر دورِ حکومت کے دوران سلیمان نے اپنے باپ کی نصیحت کو اپنے دل میں رکھااور امثال کی کتاب میں اِس پر غور و خوص کیا: "اَے میرے بیٹے! میری تعلیم کو فراموش نہ کر۔ بلکہ تیرا دِل میرے حکموں کو مانے۔ کیونکہ تُو اِن سے عُمر کی درازی اور پِیری اور سلامتی حاصل کرے گا۔ شفقت اور سچّائی تجھ سے جُدا نہ ہوں۔ تُو اُن کو اپنے گلے کا طَوق بنانا اور اپنے دِل کی تختی پر لکھ لینا۔ یُوں تُو خُدا اور اِنسان کی نظر میں مقبولیتّ اور عقل مندی حاصل کرے گا" (امثال 3باب 1-4آیات)۔

نئے عہد نامے میں جب خداوند یسوع نے یہ اعلان کیا کہ کون سا حکم سب سے بڑا ہے تو اُس نے اِسی تعلیم کو دُہرایا تھا : "تُو خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبّت رکھ۔ دُوسرا یہ ہے کہ تُو اپنے پڑوسی سے اپنے برابر مُحبّت رکھ۔ اِن سے بڑا اَور کوئی حکم نہیں" (مرقس 12باب 30-31 آیات )۔ خدا سے محبت رکھنے کا مطلب اُس کی فرمانبرداری کرنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا ہے (یوحنا 14باب 15، 23-24آیات )۔ یسوع مسیح کی طرف سے پیش کردہ ابدی زندگی کے مفت تحفے کو قبول کرنا اس عمل میں پہلا قدم ہے (یوحنا 3 باب 16آیت )۔ یہ بائبل کے مطابق حقیقی کامیابی کا آغاز ہے۔ جب ابدی زندگی کا تحفہ موصول ہوتا ہے تو اس کے ساتھ تبدیلی کا عمل بھی شروع ہو جاتا ہے۔یہ عمل انسانی مرضی سے نہیں بلکہ خُدا کے رُوح القدس کے وسیلہ سے پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے (یوحنا 1باب 12-13آیات ) ۔ یہ کیسے رونما ہوتا ہے اور اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ سب سے پہلی بات، ایسا خُداوند پر بھروسہ رکھنے اور اُس کی فرمانبرداری کرنے کے ذریعے سے رونما ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ہم اُس کی فرمانبرداری کرتے ہیں ویسے ویسے وہ ہمیں بالکل ایک نئی فطرت عطا کرتے ہوئے تبدیل کرتا جاتا ہے (2 کرنتھیوں 5باب 17آیت )۔ اور جب ہم مصیبت اور مشکل اوقات جسے بائبل "آزمایشیں " کہتی ہے میں سے گزرتے ہیں تو ہم اِنہیں بڑے اطمینان کیساتھ درست سمت میں جاتے ہوئے برداشت کرنے کے قابل ہوتے اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اِن آزمایشوں کو خُدا ہماری باطنی انسانیت کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے (یوحنا 16باب 33آیت ؛ یعقوب 1 باب 2آیت )۔ دوسرے الفاظ میں زندگی میں آنے والی مصیبت ہماری ناکامی کا نہیں بلکہ خدا کے فضل اور حکمت کے ساتھ مصیبت سے گزرنے کا باعث بنتی ہے۔ خدا کی فرمانبرداری کرنے کے وسیلہ سے ہم اِس دنیا کی لعنتوں-نفرت، حسد، نشے بازیوں ، پریشانیوں، احساس کمتری، غصے، تلخی، بے رحمی، خود غرضی اور دیگر بہت باتوں سے آزادی حاصل کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ مسیح کے پیروکار (مسیحی لوگ) اپنی زندگیوں میں بسنے والے خُدا کے رُوح کے پھل - مُحبّت۔ خُوشی۔ اِطمِینان۔تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ اِیمان داری۔ حِلم۔ پرہیزگاری (گلتیوں 5باب 22-23آیات) رکھتے اور اُن کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہمارے پاس یہ جاننے کے لیے کہ کیا کرنا ہے اور کہاں جانا ہے، قابل ِ رسائی علم (امثال 3باب 5-6آیات )، حکمت کی بکثرت مقدار (یعقوب 1باب 5آیت )اور سمجھ سے بالاتر اطمینان ہے (فلپیوں 4باب 7آیت )۔ جیسے جیسے ہم مسیح میں بڑھتے اور پختہ ہوتے جاتے ہیں ہم نہ صرف اپنے بارے میں بلکہ دوسروں کے بارے میں بھی سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم دوسروں کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں ، دوسروں کو جو کچھ دے سکتے ہیں اور اُن کی رُوحانی ترقی اور خوشحالی میں جس طرح سے مدد کر سکتے ہیں وہ ہماری سب سے بڑی خوشی بن جاتی ہے ۔ یہی حقیقی کامیابی ہے کیونکہ کوئی شخص دنیا کی تمام طاقت، پیسہ، مقبولیت اور وقار حاصل کر سکتا ہے لیکن اگر اس کی رُوح خالی پن اور تلخی کا شکار ہو تو دنیا کی کامیابی اصل میں ناکامی ہے۔ "اگر آدمی ساری دُنیا حاصل کرے اور اپنی جان کا نُقصان اُٹھائے تو اُسے کیا فائدہ ہو گا؟ یا آدمی اپنی جان کے بدلے کیا دے گا؟"(متی 16باب 26آیت )۔

بائبلی کامیابی کے حوالے سےآخری بات۔ گوکہ ہمارے لیے خُدا کا مقصد ہماری باطنی زندگیوں کی تبدیلی ہے لیکن وہ اپنے بچّوں کو مادی برکات(کھانا، لباس، مکان وغیرہ) بھی بکثرت فراہم کرتا اور اس کام کو سر انجام دینا پسند کرتا ہے (متی 6باب 25-33آیات)۔ اس کے باوجود ہم میں سے زیادہ تر لوگ کسی نہ کسی وقت برکتیں بخشنے والے کی بجائے صرف برکتوں پر توجہ مرکوز کئے رکھتے ہیں۔ ایسا اُس وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے اطمینان اور خوشی کے دامن کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی زندگیوں میں رُوح القدس کے تبدیلی کے کام کو اس لیے دبا دیتے ہیں کیونکہ ہم غلط چیزوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ خُداوند کبھی کبھی ہمیں اپنی برکات بخشنا کم کر دیتا ہے- تاکہ ہم برکات سے ٹھوکر نہ کھائیں اور اُس سے دور نہ ہو جائیں۔

دو ہاتھوں کا تصور کریں۔ دائیں ہاتھ میں حقیقی قناعت کی پیشکش، زندگی کے مسائل سے مغلوب ہوئے بغیر اُن سے نمٹنے کی صلاحیت، حیرت انگیز اطمینان جو ہمیں ہر صورتِ میں نظر آتا ہے، یہ جاننے کے لیے حکمت کہ کیا کرنا ہے، زندگی کے لیے علم اور مستقل رہنمائی ، دوسروں سے محبت، خود کو قبول کرنا،سب طرح کے حالات میں خوشی اور زندگی کے اختتام پراُس خدا کے ساتھ ابدیت ہے جو یہ تمام نعمتیں مفت بخشتا ہے۔ اُن تمام چیزوں سے ہٹ کر جو دائیں ہاتھ میں ہیں بائیں ہاتھ میں تمام پیسہ اور طاقت اور وہ "کامیابی" ہے جو دنیا پیش کرتی ہے۔ آپ کس کا انتخاب کریں گے؟ بائبل فرماتی ہے کہ " جہاں تیرا مال ہے وہیں تیرا دِل بھی لگا رہے گا"۔ (متی 6باب 21آیت )۔ جو دائیں ہاتھ میں ہے وہ کامیابی کی بائبلی تعریف ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل مُقدس کامیابی کی تعریف کیسے کرتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries