settings icon
share icon
سوال

ہمیں خُدا کے تابع کیسے ہونا ہے ؟

جواب


نئے عہد نامے کی وہ تمام آیات جن میں لفظ تابع استعمال ہوتا ہے وہاں اُس کا ترجمہ یونانی لفظ hupotasso (ہوپو ٹاسو)سے کیا گیا ہے۔ ہوپو کا مطلب "ماتحت" اور ٹاسو کا مطلب "کام کرنا" ہے ۔ اس لفظ اور اس کے ماخذ لفظ کا ترجمہ بھی تابع /ماتحت اور تابعداری کے الفاظ سے کیا جاتا ہے۔ اس لفظ کے مکمل معنی "فرمانبرداری کرنا، زِیرسایہ یا زیرِ تسلط ہونا، ماتحت ہونا، خود کو زیرِ فرمان کردینا، مطیع ہونا، تابع کرنا ، تابعداری کرنا یا فرمانبردار ہونا" ہیں ۔ اِس لفظ کوایک فوجی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جس کا مطلب ہے "کسی رہنما کے حکم پر فوجی دستوں کی لشکری اندازی میں درجہ بندی کو سرانجام دینا"۔ خدا کے " تابع"ہونے کا کیا مطلب ہے یہ لفظ اس بات کی ایک شاندار وضاحت پیش کرتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی نقطہ نظر کی بنیاد پر اپنے پرانے طرز زندگی کے مطابق زندگی بسر کرنے کی بجائے خود کو الٰہی اختیار پر مبنی نقطہ نظر کے تحت سنوارنا ہے ۔ یہ ہماری اپنی مرضی کو اپنے باپ کی مرضی کے ماتحت کر دینا ہے۔

کلامِ مقدس "اعلیٰ حکام" کے تابع ہو جانے کے بارے میں بہت کچھ بیان کرتا ہے۔ یہ اُن انتظامی اداروں کے اصولوں کا حوالہ دیتا ہے جو خدا نے ہماری دنیا میں مقرر کیے ہیں - یعنی حکومت اور رہنما جن کو خدا نے اس زمین پر کسی بھی لحاظ سے ہم پر اختیار بخشا ہے۔ اِس اصول کی تعلیم دینے والے حوالہ جات رومیوں 13باب 1-7آیات؛ عبرانیوں 13باب 17آیت؛ 1 پطرس 2باب 13-14آیات اور ططس 3باب 1آیت ہیں ۔ اصول یہ ہے کہ خود پر اختیار رکھنے والے حکام کے تابع ہونا ،چاہے یہ جیسا بھی اختیارہے، نہ صرف اس موجود ہ وقت میں دنیاوی برکت کا باعث ہو گابلکہ ایماندار کو اس کا بعد میں بھی اجر ملے گا۔سب سے اعلیٰ اختیار خدا کے پاس ہے اور وہ اس اختیا ر میں سے دوسروں کو سونپتا ہے؛ لہذا خدا کے تابع ہونے کے لیے ہم اُن حکام کے تابع ہوتے ہیں جن کو اس نے ہم پر اختیار بخشا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یہاں ایسی کوئی انتباہات نہیں ہیں جو اچھے یا بُرے حکام یا حتیٰ کہ راست یا ناراست حکام کے درمیان فرق کرتی ہوں۔ ہمیں صرف " خداوند " کی طرح اُس کے سامنے عاجز اور فرمانبردار ہونا ہے ۔

ہمیں خود کو خدا کے تابع کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے ( یعقوب 4باب 7آیت)۔ افسیوں کے نام خط میں ہم پڑھتے ہیں بیوی اپنے شوہر کے اس طرح سے تابع ہو جیسے خُداوند کے تابع ہے اور شوہر اپنی بیوی سے "محبت" کرے (افسیوں 5باب 22-25ایات)۔ پطرس رسول لکھتا ہے" اَے جوانو! تُم بھی بزُرگوں کے تابع رہو بلکہ سب کے سب ایک دُوسرے کی خدمت کے لئے فروتنی سے کمربستہ رہو اِس لئے کہ خُدا مغرُوروں کامُقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں کو تَوفیق بخشتا ہے "(1پطرس 5باب 5آیت)۔ یہاں مرکزی خیال انسان کی فروتنی ہے۔ فروتنی کے بغیر انسان خدا کے تابع نہیں ہو سکتا۔ فرمانبرداری کا تقاضا ہے کہ اپنے آپ کو دوسروں کے اختیار کے تابع کرنے کے لیے ہم عاجزی کا مظاہرہ کریں اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ خدا غرور کا جو عاجزی کے برعکس ہے اور تکبر کا جو اُس غرور کو فروغ دیتا ہے مقابلہ کرتا ہے ۔

لہذا فروتن اور فرمانبردار دل رکھناایک ایسا انتخاب ہے جو ہم کرتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نئی پیدایش کے حامل ایمانداروں کی حیثیت سے ہم اُس کام کی خاطر ہر روز خود کو خدا کے تابع کرنے کا انتخاب کرتے ہیں جو رُوح القدس ہمیں "مسیح کے ہمشکل " بنانے کے لیے ہماری زندگی میں کرتا ہے۔ خُدا ہمیں اپنے تابع کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے ہماری زندگی کے حالات کو استعمال کرے گا (رومیوں 8باب 28-29آیات)۔ اس کے بعد ایماندار پرانی انسانیت کے مطابق چلنے کی بجائے رُوح کی رہنمائی میں چلنے کے لیے اُس کے فضل اور دستگیری کو قبول کرتا ہے ۔ یہ کام اپنی زندگی پر خُدا کے کلام کا اطلاق کرنے کا انتخاب کرنے اور اُس دستگیر ی کے بارے میں سیکھنے سے تکمیل پاتا ہے جس کا خُدا نے مسیح یسوع میں ہمارے لیے انتظام کیا ہے ۔ جس وقت سے ہم نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں تب سے ہمیں وہ تمام دستگیر ی میسر ہے جس کی مسیح میں ہمیں ایک پختہ ایماندار بننے کے لیے ضرورت ہے۔ لیکن ہمیں یہ انتخاب کرنا ہوگا کہ ہم کلام کے مطالعہ کے ذریعے اُس دستگیری کے بارے میں جانیں اور ا ُس دستگیری کا اپنے روزمرہ کے چال چلن پر اطلاق کریں۔

رُوحانی طور پر بڑھنے کے پیشِ نظر ہمیں سیکھنے کے عمل کے لیے خُدا کے تابع ہونے کا انتخاب کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو نجات کے وقت سے شروع ہوتا ہے اور ہر اُس انتخاب کے ساتھ جاری رہتا ہے جو ہم خود کو خدا کے سپرد کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ عمل اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ خداوند واپس نہیں آتا یا وہ ہمیں اپنے پاس بُلا نہیں لیتا۔ اس بارے میں حیرت انگیز بات جیسا کہ پولس رسول نے بالکل درست کہا ہے یہ ہے " مگر جب ہم سب کے بے نِقاب چہروں سے خُداوند کا جلال اِس طرح منعکِس ہوتا ہے جس طرح آئینہ میں تو اُس خُداوند کے وسیلہ سے جو رُوح ہے ہم اُسی جلالی صُورت میں دَرجہ بَدرجہ بدلتے جاتے ہیں "( 2کرنتھیوں 3باب 18آیت)۔

خُدا ہم سے اِس لیے تابع ہونے کا مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ ایک مطلق العنان حکمران ہےبلکہ اس لیے کہ وہ ایک محبت کرنے والا باپ ہے جو یہ جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔ وہ نعمتیں اور اطمینان جو ہم عاجزی کے ساتھ اس کے تابع ہونے اور خود کو ہر روز اُس کے سپرد کرنے سے حاصل کرتے ہیں اُس فضل کا انعام ہیں جس کا اس دنیا کی کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی ۔v English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہمیں خُدا کے تابع کیسے ہونا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries