settings icon
share icon
سوال

کسی شخص کے لیے ٹھوکر کا باعث بننے کا کیا مطلب ہے ؟

جواب


دوسرے لوگوں کے ساتھ برتاؤ کو منظم کرنے والے قوانین کے ایک تسلسل میں ہم پاتے ہیں کہ " تُو بہرے کو نہ کوسنا اور نہ اندھے کے آگے ٹھوکر کھلانے کی چیز کو دھرنا بلکہ اپنے خُدا سے ڈرنا۔ مَیں خُداوند ہُوں" (احبار 19باب 14آیت )۔ کسی اندھے شخص کے سامنے پتھر یا اینٹ رکھنا سراسر ظلم ہے مگر نیا عہد نامہ اس عملی کہاوت کو لے کر رُوحانی استعارےمیں بدل دیتا ہے۔

جب پطرس نے مصلوبیت کی مخالفت کرتے ہوئےخُداوند یسوع کو یروشلیم جانے سے روکنے کی کوشش تو اُس وقت خُداوند یسوع نے اُس سے کہا"اَے شَیطان میرے سامنے سے دُور ہو۔ تُو میرے لئے ٹھوکر کا باعث ہے کیونکہ تُو خُدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمیوں کی باتوں کا خیال رکھتا ہے" (متی 16باب 23آیت)۔ شیطان کے زیر اثر پطر س نے یسوع کو اُس کام سے ہٹانے کی کوشش کی جس کی تکمیل کے لیے وہ دنیا میں آیا تھا۔ اُس نے صلیب کے راستے پر یسوع کو "ڈانواں ڈول " کرنے کی کوشش کی ۔ پولس اِس خیال کو دہراتا ہے کہ " مگر ہم اُس مسیحِ مصلُوب کی مُنادی کرتے ہیں جو یہُودیوں کے نزدِیک ٹھوکر اور غَیر قَوموں کے نزدِیک بیوُقُوفی ہے "( 1کرنتھیوں 1باب 23آیت)۔ یہ خیال کہ موعودہ مسیحا کو مصلوب کیا جائے گا یہودیوں کے لیے ٹھوکر کا باعث تھا - جس نے اس بارے میں اُن کے نظریات کو ہلاکر رکھ دیا تھا کہ مسیحا کیسا ہو گا۔

لیکن بیشتر وقت "ٹھوکر کھلانے کی چیز " کسی ایسے عمل یا کسی شخص کی طرف اشارہ کرتی ہے جو کسی دوسرے انسان کو خدا کے ساتھ تعلق سے باز رکھتا ہے۔ متی 18باب 5-7آیات میں یسوع فرماتا ہے کہ " اور جو کوئی اَیسے بچّے کو میرے نام پر قبُول کرتا ہے وہ مجھےقبول کرتا ہے۔ لیکن جو کوئی اِن چھوٹوں میں سے جو مجھ پر اِیمان لائے ہیں کسی کو ٹھوکر کِھلاتا ہے اُس کے لئے یہ بہتر ہے کہ بڑی چکّی کا پاٹ اُس کے گلے میں لٹکایا جائے اور وہ گہرے سمُندر میں ڈبو دِیا جائے۔ ٹھوکروں کے سبب سے دُنیا پر افسوس ہے کیونکہ ٹھوکروں کا ہونا ضرُور ہے لیکن اُس آدمی پر افسوس ہے جس کے باعث سے ٹھوکر لگے"۔ آسمانی بادشاہی کے پیشِ نظر جس طرح اپنا ہاتھ کاٹ لینا گناہ کرنے سے بہتر ہوگا (متی 18باب 8آیت ) اُس طرح ڈوب مرنا کس بچّے کو گناہ کی طرف لے جانے سے بہتر ہوگا۔ اسی طرح رومیوں 14باب 13آیت میں پولس واضح کرتا ہے کہ خدا ہی عدالت کرنے والا ہے ؛ ہمیں دوسروں کی عدالت نہیں کرنی ہے بلکہ ہمیں اس بارے میں فکر مند ہونا ہے کہ ہم دوسروں کے لیے اُن گناہوں کی طرف رغبت کا باعث نہ ہوں جن کے بارے میں ہم خود فکر مند ہیں۔

جب راستہ کچھ غیر واضح ہو تو ٹھوکریں بھی لگتی ہیں۔ بالغ مسیحی زندگی کچھ ایسی آزادیوں کی اجازت دیتی ہے جو ایک فرمانبردار اور باضابطہ ایمان کے خلاف معلوم ہوتی ہیں۔ کرنتھس کی کلیسیا کے ایماندار بتوں کی قربانی کا گوشت کھانے کے بارے میں فکر مند تھے ۔ جدید مسائل میں اعتدال سے مے نوشی کرنا یا ناچناایسے ہی مسائل میں شامل ہیں۔ " لیکن ہوشیار رہو! اَیسا نہ ہو کہ تمہاری یہ آزادی کمزوروں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہو جائے " (1کرنتھیوں 8باب 9 آیت)۔ ہماری آزادی کسی دوسرے ایماندار کے خدا کے ساتھ چلنے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ اگر خدا ہمیں کسی ایسی چیز کی اجازت دیتا ہے جودوسر وں کو گناہ کی طرف لے جانے کا باعث ہے تو ہمیں اس سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔ مسیحی ہونے کے ناطے ہمیں بڑی آزادی بخشی گئی ہے لیکن سب سے بڑی آزادی یہ ہے کہ ہم اپنی بھلائی سے زیادہ دوسروں کی بھلائی کی فکر کریں۔

ٹھوکر کا باعث بننے سے بچنے کا مطلب کسی اور شخص کو گناہ کی طرف لے جانے کا باعث نہ بننا ہے ۔ بہرحال ہم اس عمل کی تکمیل کیسے کرتے ہیں اس کا انحصار ہمارے حالات اور ہمارے اردگرد کے لوگوں کے دلوں پر ہے۔ ہمیں خُدا کی محبت اور دستگیری میں اب اور ابدیت تک جو تحفظ حاصل ہے وہ ہمیں اُن لوگوں کے لیے فکرمندی کا اظہار کرنے کی اجازت دیتا ہے جو ایمان کے حوالے سے کمزور ہیں - جنہیں یہ سمجھنے کے لیے مخصوص حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے کہ خُدا کون ہے۔ بعض حالات میں اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے کہ خدا فضل کا خدا ہے ہمی خُدا کی طرف سے عطا کردہ آزادیوں میں زندگی گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ دوسری جانب اس سے مراد کمزور ایمانداروں کی تعمیر کے لیے خود کی تادیب کرنا اور انہیں ایسی آزادی کی طرف نہ دھکیلنا ہے جس کے لیے وہ تیار نہیں ہیں۔ لیکن اس کا ہمیشہ سے یہی مطلب ہے کہ کسی دوسرے کی اس طور سے عمل کرنے کی جانب رہنمائی نہ کرنا ہے جس کی بائبل خصوصاً گناہ کے طور پر شناخت کرتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کسی شخص کے لیے ٹھوکر کا باعث بننے کا کیا مطلب ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries