settings icon
share icon
سوال

رُوحانی طور پر مُردہ ہونے سے کیا مُراد ہے ؟

جواب


رُوحانی طور پر مُردہ ہونے سے مُراد خدا سے جُدا ہونا ہے۔ جب آدم نے پیدائش3باب6آیت میں گناہ کیا تو اس نے پوری انسانیت کے لئے موت کاسامان کیا۔ آدم اور حوّا کو خدا کی طرف سےیہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ نیک و بد کی پہچان کے درخت کا پھل نہ کھائیں۔ اور یہ حکم اِس انتباہ کے ساتھ آیا کہ اگر آدم اور حوّا نے نافرمان کی تو اُس کا نتیجہ اُن کی موت کی صورت میں نکلے گا۔ "اور خُداوند خُدا نے آدم کو حکم دِیا اور کہا کہ تُو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے ۔ لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تُو نے اُس میں سے کھایا "تُو مرا۔"جیسے محاورے کا لفظی ترجمہ کچھ ایسے کیا جا سکتا ہے کہ "تُو مرتے مرتے مر جائے گا۔"اِس سے ہمیں موت کی ایک مسلسل حالت کی طرف اشارہ ملتا ہے جو رُوحانی موت کے ساتھ شروع ہوئی اور جسم کی بتدریج تنزلی کے طور پر زندگی بھر جاری رہتی ہے اور اِس کا نتیجہ پھر جسمانی موت کی صورت میں نکلتا ہے۔ فوری رُوحانی موت کے نتیجے میں آدم اور خدا کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔ اور آدم کی طرف سے خُدا کے سامنے سے چھپنے کا عمل (پیدایش 3باب8آیت) اِس علیحدگی کو ظاہر کرتا ہے، اور اُس کی طرف سے اپنے گناہ کا الزام عورت پر لگانے سے بھی اِسی علیحدگی کی طرف اشارہ ملتا ہے (پیدایش 3باب12 آیت)۔

بدقسمتی سے یہ رُوحانی اور پھر بالآخر جسمانی موت صرف آدم اور حوّا تک محدود نہیں رہی تھی۔ نسل انسانی کے نمائندے کی حیثیت سے آدم نے پوری انسانیت کو اپنے گناہ کی لپیٹ میں لے لیا۔ پولس رومیوں میں یہ بات واضح کرتے ہوئےرومیوں 5باب12آیت میں ہمیں بتاتا ہے آدم کے وسیلے سے گناہ دُنیا میں داخل ہوا، گناہ کے وسیلے موت آئی اور موت پھر سب انسانوں میں پھیل گئی۔ مزید برآں رومیوں 6باب23آیت بیان کرتی ہے کہ "گناہ کی مزدوری موت ہے۔" اور گناہگار کے لیے مرنا ضروری ہے کیونکہ گناہ اُس کو خُدا سے جُدا کر دیتا ہے۔ زندگی کے سرچشمے اور خالق سے کسی بھی طرح کی علیحدگی فطری طور پر ہمارے لئے موت ہے۔

لیکن یہ صرف موروثی گناہ ہی نہیں ہے جو رُوحانی موت کا سبب بنتا ہے؛ ہماری اپنی گناہ آلودگی بھی اِس کے اندر خاص کردار ادا کرتی ہے۔ افسیوں 2باب میں سکھایا گیا ہے کہ نجات سے پہلے ہم اپنے "قصوروں اور گناہوں کے سبب سے مُردہ تھے(1آیت)۔یہ آیت ضرور رُوحانی موت کی بات کر رہی ہے کیونکہ نجات سے پہلے ہم جسمانی طور پرتو "زندہ" ہی تھے۔ جس وقت ہم رُوحانی طور پر "مردہ" حالت میں تھے، تو ایسے میں خُدا نے مسیح کے وسیلہ سے ہمیں نجات بخشی (5آیت؛ رومیوں 5باب8آیت بھی دیکھئے) کلیسیوں 2باب13آیت اِس سچائی کو ایک بار پھر دہراتی ہے:" اور اُس نے تمہیں بھی جو اپنے قصوروں اور جسم کی نامختونی کے سبب سے مردہ تھے اُس کے ساتھ زِندہ کیا اور ہمارے سب قصور معاف کئے۔"

چونکہ ہم گناہ کی بدولت مر چکے ہیں اِس لیے ہم خدا یا اُس کے کلام پر بھروسہ کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہیں۔ یسوع بار بار دعویٰ کرتا ہے کہ ہم اس کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتے (یوحنا 15باب5آیت)جب تک خُدا ہمیں نہ کھینچے یا بلائے ہم اُس کے پاس نہیں آ سکتے (یوحنا 6بب44آیت) پولس رومیوں 8باب میں سکھاتا ہے کہ ہماری جسمانی نیت خُدا کی دشمنی ہے کیونکہ یہ نہ تو خُدا کی شریعت کے تابع ہو سکتی ہے اور نہ ہی ہم جسمانی طور پر خُدا کو خوش کر سکتے ہیں (7-8آیات)۔ اپنی گناہ میں گری ہوئی نفسانی حالت میں ہم خُدا کے رُوح کی باتوں کو نہ تو قبول کر سکتے ہیں اور نہ ہی سمجھ سکتے ہیں(1 کرنتھیوں 2باب14آیت)۔

خدا کا وہ عمل جس کے ذریعے وہ ہمیں رُوحانی موت سے زندہ کرتا ہے اسے نئے سرے سے پیدا کرنا کہا جاتا ہے۔نئے سرے سے پیدا کرنے کے کام کی تکمیل یسوع مسیح کی موت اور جی اُٹھنے کے وسیلے سے صرف رُوح القدس کے ذریعے سے ہی ممکن ہے۔ جب ہم نئی پیدایش کا تجربہ کرتے ہیں تو اُس وقت ہم مسیح کے ساتھ دوبارہ زندہ کئے جاتے (افسیوں 2باب5آیت) اوررُوح القدس کے وسیلے سے نئے بنائے جاتے ہیں ۔ ایسی نئی پیدایش دوسری پیدایش کے مترادف ہے جس کے بارے میں یسوع نے نیکدیمس کو سکھایا تھا (یوحنا 3باب3، 7آیات)۔ جب خُدا ہمیں رُوح کے وسیلے سے زندہ کرتا ہے تو پھر ہم حقیقی معنوں میں کبھی نہیں مریں گے – اب ہمارے پاس ہمیشہ کی زندگی ہے۔ یسوع نے اکثر اِس بات کو بیان کیا ہے کہ اُس پر ایمان لانا ہمیشہ کی زندگی پانے کے مترادف ہے (یوحنا 3باب16، 36آیات؛ 17باب 3آیت)۔

گناہ موت کی طرف لے کر جاتا ہے۔ اِس موت سے بچنے کا واحد طریقہ رُوح القدس کی تحریک سے یسوع مسیح پر ایمان لانا ہے۔ یسوع مسیح پر ایمان لانا رُوحانی زندگی کی طرف لے کر جاتا ہے اور یہی رُوحانی زندگی پھر بالآخر ہمیشہ کی زندگی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

رُوحانی طور پر مُردہ ہونے سے کیا مُراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries