کیا رُوحانی نعمتوں کی پرکھ/فہرست/تجزیے کی کوئی اہمیت ہے؟


سوال: کیا رُوحانی نعمتوں کی پرکھ/فہرست/تجزیے کی کوئی اہمیت ہے؟

جواب:
خدا کی خدمت اور حمد وستایش کے مقصد کے لیے رُوح القدس کی طرف سے دی گئی رُوحانی نعمتوں کو جاننے کی خواہش کرنا خدا کے لوگوں کے لیے ایک قابلِ تعریف بات ہے ۔ اِسی اثناء میں بائبل اِس بات کی نشاندہی نہیں کرتی ہے کہ کسی شخص کی رُوحانی نعمت ( نعمتوں ) کا کسی امتحان/تجزیے کے ذریعے تعین کیا جا سکتا ہے ۔ رُوحانی نعمتوں کا تعین کرنے والے زیادہ تر طریقے بنیادی لحاظ سے ایک ہی طرح سے کام کرتے ہیں ۔ امتحان دینے والا شخص محض بیانات یا سوالات پر مبنی فہرست کا جواب دیتا ہے ۔ تمام سوالات کے جوابات کے بعد اِن جوابی انتخابات سے ایک عددی قیمت منسوب کی جاتی ہے ، اُن کا شمار کیا جاتا ہے اور یہ عددی شمار رُوحانی نعمت ( نعمتوں ) کا تعین کرتا ہے ۔ اس کے برعکس بائبل سکھاتی ہے کہ رُوح القدس اپنی مرضی سے اور اس بات کے مطابق رُوحانی نعمتیں بخشتا ہے کہ اُس نے دوسرے ایمانداروں کی خدمت کےلیے ایک ایماندار کو کس طرح سے استعمال کرنا ہے۔

رُوحانی نعمتوں کی پرکھ کی حکمت ِ عملی کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ آج کل کے مسیحیوں کے درمیان رُوحانی نعمتوں کے تمام موضوعات کے بارے میں مختلف طرح کی بہت سے آراء پائی جاتی ہیں، جیسے کہ رُوحانی نعمتیں کتنی ہیں، حقیقاً اُن کا کیا مطلب ہے ،کیا کچھ رُوحانی نعمتیں اب غیر فعال ہیں یا منسوخ ہو چکی ہیں اور کیا مسیح کی اپنی رُوحانی نعمتیں اُس کی کلیسیا کی رُوحانی نعمتوں ( افسیوں 4باب 11آیت) کی فہرست میں شامل ہیں ۔ رُوحانی نعمتوں کے تعین کے مختلف طریقہ کار میں اِن امور پر بہت کم بات کی جاتی ہے ۔ ایک غور طلب بات یہ بھی ہے کہ لوگ اکثر خود کو اُس نظر سے نہیں دیکھتے جس طرح دوسرے لوگ اُن کو دیکھتے ہیں اور یہ بات کسی شخص کی رُوحانی نعمتیں کے تعین میں غلط نتائج کے رونما ہونے کا باعث ہو سکتی ہے۔

رُوحانی نعمتوں کے تعین کےلیے اس حکمت ِ عملی کو استعمال کرنے میں تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ نعمتیں خدا کی طرف سے رُوح القدس کے وسیلہ سے ملتی ہیں اور رُوح جسے جو کچھ چاہتا ہے اُسے دیتا ہے ( 1کرنتھیوں 12باب 7-11آیات)۔ یوحنا 16باب 13آیت میں یسوع ایمانداروں سے وعدہ کرتا ہے کہ رُوح القدس اُنہیں"تمام سچّائی کی راہ دِکھائے گا "۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اصل میں یہ رُوح القدس ہے جو اس با ت کا تعین کرتا ہے کہ کس شخص کو کون سی نعمت ملتی ہے کیونکہ وہ ہم سےبھی بڑھکر اِس بات کو جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے کہ ہماری نعمتیں کیا ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ جب ہمارے اندر یہ جاننے کا تجسس پایا جاتا ہے کہ ہمارے پاس کونسی نعمتیں ہیں تو اُس تجسس کے پیچھے اصل محرک یہ ہوتا ہے کہ ہمیں خود بھی اور دوسروں کو بھی ہماری اہمیت کا پتا چلے۔ اِس کے برعکس رُوح القدس چاہتا ہے کہ ہم اپنے بہترین رُوحانی مفاد کے لیے اپنی رُوحانی نعمتوں کو جانیں تاکہ ہم مسیح کے بدن یعنی کلیسیا کے اندر اِس طور پر خدمت سرانجام دے سکیں جس سے ہمارے آسمانی باپ کے نام کو عزت اور جلال ملے ۔

اگر ہم حقیقی طور پر دُعا ، رفاقت ، خدا کے کلام کے مطالعہ اور اُس کے خادمین کی تعلیم کے وسیلہ سے خدا کی رہنمائی کی تلاش کر رہے ہیں تو ہماری نعمتیں پوری طرح عیاں ہو ں گی ۔ خدا ہمارے دل کی خواہشات کو پورا کرتا ہے ( 37باب 4آیت)۔ اس کا لازماً یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا ہمیں وہ سب کچھ دیتا ہے جس کی ہم خواہش کرتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیں اپنی مرضی کی حامل خواہشات دے سکتا ہے اور دے گا۔ وہ ہمارے دلوں میں تعلیم دینے ، خیرات کرنے ، دُعاکرنے ، خدمت کرنے اور اس طرح کی دیگر خواہشات پیدا کر سکتا ہے ۔ جب ہم ان خواہشات پر عمل پیرا ہوں گے اور جب ہم اپنی نعمتوں کے استعمال میں سچے دل سے اُس کے جلال کےلیے پُر عزم ہوں گے تو اِس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے یعنی مسیح کا بدن ترقی کرے گا اور خدا کا نام عزت و جلال پائے گا ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
کیا رُوحانی نعمتوں کی پرکھ/فہرست/تجزیے کی کوئی اہمیت ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں