settings icon
share icon
سوال

کیا ہمیں ا ُس روحانی جنگ سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے جو ہمارے ارد گرد جاری ہے ؟

جواب


یہ بات نہایت ضروری ہے کہ ہر مسیحی یہ سمجھے کہ وہ رُوحانی جنگ کی حالت میں ہے۔ اس لڑائی سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہمارے لیے اپنے ارد گرد جاری رُوحانی جنگ کے بارے میں آگاہ ہونا بہت اہم ہے۔ نہ صرف آگاہی بلکہ مستعدی ، تیاری، ہمت اور صحیح ہتھیار رُوحانی جنگ میں شامل ہونے کے ناگزیر عناصر ہیں۔

2 کرنتھیوں 10باب 3-5آیات میں پولس رسول کے الفاظ کچھ یوں ہیں کہ " کیونکہ ہم اگرچہ جسم میں زِندگی گُذارتے ہیں مگرجسم کے طَور پر لڑتے نہیں۔ اِس لئے کہ ہماری لڑائی کے ہتھیار جسمانی نہیں بلکہ خُدا کے نزدِیک قلعوں کو ڈھا دینے کے قابل ہیں۔ چُنانچہ ہم تصورات اور ہر ایک اُونچی چیز کو جو خُدا کی پہچان کے برخِلاف سر اُٹھائے ہُوئے ہے ڈھا دیتے ہیں اور ہر ایک خیال کو قید کر کے مسیح کا فرمانبردار بنا دیتے ہیں ۔" یہ واضح ہے کہ بطور مسیحی"ہماری لڑائی " رُوحانی ہے۔ ہم ظاہری جنگ یا انسانی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ رُوحانی سطح پر ہے - اِس میں شامل دشمن، اُس کے اختیارات ، اُس کے قلعے اور اُس کے ہتھیار سب رُوحانی ہیں۔ اگر ہم انسانی ہتھیاروں کے وسیلہ سے رُوحانی لڑائی لڑنے کی کوشش کریں گے تو ہم ناکام ہو جائیں گے اور دشمن فتح یاب ہو گا۔

اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ پولس رسول یہاں بد اَر واح سے لڑنے کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہے۔ جب خُداوند یسوع اور رسولوں نے بدروحوں کو نکالا تو یہ بنیادی طور پر اُن کی طرف سے دکھائے گئے دیگر نشانات اور عجائب سمیت اُن باتوں کی تصدیق کے لیے تھے جن کی اُنہوں نے تعلیم دی تھی۔ خُدا کے لیے اِس وقت یہ ضروری تھا کہ وہ رسولوں کو ایک زبردست "ثبوت" دے کہ وہ واقعی خُدا کی طرف سےہیں اور اُس کے ترجمان ہیں ۔ کلامِ مقدس کی حقانیت رسولوں کے اختیار پرمنحصر ہے لہذا خدا نے رسولوں کو اپنی تعلیمات کی توثیق کرنے کا اختیار بخشا تھا ۔ سب سے اہم نکتہ یہ ظاہر کرنا تھا کہ حتمی اختیار - اور ہمارا حتمی رُوحانی ہتھیار - کلام ِ مقدس ہے۔ ہر مسیحی جس قسم کی رُوحانی لڑائی لڑ رہا ہے وہ بنیادی طور پر عقل اور دل کی لڑائی ہے۔

رُوحانی لڑائی ہر مسیحی کے لیے بالکل شخصی ہے۔ شیطان ایک "گرجنے والے شیر ببر" کی مانند ہے جو پھاڑ کھانے کے لیے ڈھونڈتا پھرتا ہے اور ہمیں اس کے خلاف چوکنا رہنا چاہیے (1 پطرس 5باب 8آیت )۔ ہماری جانوں کے دشمن کے پاس جلتے ہوئے تیر ہیں جنہیں ایمان کی اُس ڈھال کے وسیلہ سے بجھایا جا سکتا ہے جسے خُدا کے مکمل ہتھیار وں سے لیس ایماندار نے تھام رکھا ہے (دیکھیں افسیوں 6باب 10-17آیات)۔ خُداوندیسوع نے ہمیں کہا ہے کہ "جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو"(مرقس 14باب 38آیات)۔

2 کرنتھیوں 10باب 4-5آیات کے مطابق اس دنیا میں " خیالات اور ہر اونچی چیز " سے بنے رُوحانی قلعے ہیں ۔ یونانی زبان میں لفظ خیالات logismos ( لو جسموس ) ہے۔ اس سے مراد " تصورات ، نظریات ، استدلال، فلسفے" ہیں ۔ دنیا کے لوگ خود کو خدا کی سچائی سے بچانے کے لیے ان لوجسموس کو تعمیر کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ قلعے اکثر قید خانے اور بالآخر مقبرے بن جاتے ہیں۔ بحیثیت مسیحی ہمیں ان قلعوں کو ڈھانے اور وہاں پھنسے لوگوں کو بچانے کے لیے بُلایا گیا ہے۔ یہ ایک خطرناک اور مشکل کام ہےلیکن ہمارے پاس الٰہی اسلحہ خانہ ہے جو ہمیشہ ہماری دسترس میں ہے۔ بدقسمتی سے دشمن کی بہترین چالوں میں سے ایک ہمیں الٰہی ہتھیاروں کی بجائے انسانی ہتھیاروں سے لڑنے کی ترغیب دینا ہے ۔

دنیاوی فلسفوں کے خلاف لڑتے ہوئے انسانی سمجھ اور ہتھیاروں کا کوئی فائدہ نہیں ۔ مارکیٹنگ تکنیک، جوابی فلسفے، انسانی حکمت کی لبھانے والی باتیں (1کرنتھیوں 2باب 4آیت)، عقلیت پسندی، تنظیم، مہارت، تفریح، صوفیانہ باتیں، بہتر روشنی، بہتر موسیقی - یہ سب انسانی ہتھیار ہیں۔ ان چیزوں میں سے کوئی بھی چیز رُوحانی جنگ نہیں جیت سکے گی ۔ وہ واحد چیز جو موثر ہے – وہ واحد حملہ کرنے والی چیز جو ہمارے پاس ہے - رُوح کی تلوار یعنی خدا کا کلام ہے (افسیوں 6باب 17آیت )۔ بطور سپاہی یہ تلوار ہمیں اِس رُوحانی جنگ میں مختلف طرح کی آزادی بخشتی ہے۔ ہمیں یہ جانتے ہوئے خوف سے آزادی حاصل ہے کہ خُدا ہمارے لیے لڑ رہا ہے (یشوع 1باب 7-9آیات ) اور یہ کہ وہ ہمیں کبھی نہ چھوڑے گا۔ ہمیں یہ جانتے ہوئے شرمند گی سے آزادی حاصل ہوتی ہے کہ ہم اُن لوگوں کی جانوں کے ذمہ دار نہیں ہیں جنہوں نے خدا کے پیغام کو مستر د کر دیا ہے جبکہ ہم نے اُن کے سامنے اِس کی منادی ہے (مرقس 6باب 11آیت )۔ ہمیں یہ جانتے ہوئے مایوسی سے آزادی حاصل ہوتی ہے کہ اگر ہمیں اذیت دی جاتی اور ہم سے نفرت رکھی جاتی ہے تو اس سے پہلے مسیح کو بھی ستایا گیا اور اُس سے نفرت رکھی گئی (یوحنا 15باب 18آیت ) اور یہ کہ ہمارے لڑائی کے زخموں کی فردوس میں بہتر طور پر اور پیار سے خبر گیری کی جائے گی ( متی 5باب 10آیت)۔

یہ تمام آزادیاں خُدا کے قوی ہتھیار یعنی اُس کے کلام کو استعمال کرنے سے حاصل ہوتی ہیں ۔ اگر ہم شریر کی آزمایشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انسانی ہتھیاروں کا استعمال کریں گے تو ہمیں ناکامی اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے برعکس خدا کی فتوحات امید سے بھری ہوئی ہیں۔ " آؤ ہم سچّے دِل اور پُورے اِیمان کے ساتھ اور دِل کے اِلزام کو دُور کرنے کے لئے دِلوں پر چھینٹے لے کر اور بدن کو صاف پانی سے دُھلوا کر خُدا کے پاس چلیں۔ اور اپنی اُمّید کے اِقرار کو مضبوطی سے تھامے رہیں کیونکہ جس نے وعدہ کِیا ہے وہ سچّا ہے"(عبرانیوں 10باب 22-23آیات)۔ وہ لوگ جو رسولوں کی طرف سے دئیے گئے انجیل کے سچے اور مکمل پیغام کو سنتے اور قبول کرتے ہیں اُنکے دل " پانی سے غُسل دے کر اور صاف کر کے مُقدّس بنائے" گئے ہیں ۔ یہ پانی کیا ہے؟ یہ خدا کا کلام ہے جو لڑائی کے دوران ہمیں تقویت بخشتا ہے (افسیوں 5باب 26آیت ؛ یوحنا 7باب 38آیت) ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا ہمیں ا ُس روحانی جنگ سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے جو ہمارے ارد گرد جاری ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries