settings icon
share icon
سوال

بائبل رُوح کے سونے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


"رُوح کا سونا" ایک عقیدہ ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اُسکی رُوح جسم کی قیامت اور آخری عدالت کے وقت تک "سوئی" رہتی ہے۔ "رُوح کے سونے" کا نظریہ بائبل کے مطابق نہیں ہے۔ جب بائبل موت کےتعلق سے کسی شخص کے "سونے" کی بات کرتی ہے (لوقا 8باب 52آیت؛ 1کرنتھیوں15 باب 6 آیت)، تو اِس کا مطلب لغوی معنوں میں نیند نہیں ہے۔ ایسے میں سونا موت کو بیان کرنے کا ایک طریقہ ہے کیونکہ مُردہ جسم کو دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے جیسے وہ سو رہا ہو۔ جس لمحے ہم مرتے ہیں، ہم خُدا کی عدالت کا سامنا کرتے ہیں (عبرانیوں9 باب 27 آیت)۔ ایمانداروں کے لئے، جسم سے غیر حاضر ہونا خُداوند کے پاس حاضر ہونا ہے (2کرنتھیوں5 باب 6-8 آیات؛ فلپیوں1باب23 آیت)۔ غیر ایماندار کے لئے، موت کا مطلب جہنم میں ہمیشہ کی سزا ہے (لوقا16 باب 22-23آیات)۔

حتمی قیامت تک اگرچہ عارضی فردوس (لوقا 23باب 43 آیت؛ 2کرنتھیوں 12باب 4 آیت) اور عارضی جہنم/عالم ارواح ہے (مکاشفہ 1 باب18 آیت؛20 باب 13-14آیات)۔ جیسا کہ لوقا16 باب 19-31 آیات میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے،لوگ نہ ہی فردوس میں اور نہ ہی عالم ارواح میں سو رہے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مرنے والے شخص کا جسم سو رہا ہوتا ہے مگر اُس کی رُوح فردوس یا عالم ارواح میں ہوتی ہے۔ قیامت کے وقت اِس جسم کو "جگایا" جائے گا، اور ہمیشہ قائم رہنے والے بدن میں تبدیل کر دیا جائے گا ، چاہے وہ شخص فردوس میں ہو یا جہنم میں ہو ، وہ اِس جسم کو ہمیشہ پہنے رہے گا۔ جو لوگ فردوس میں جا رہے ہیں، اُن کو نئے آسمان اور نئی زمین پر بھیج دیا جائے گا (مکاشفہ 21باب 1آیت)۔ اور جو لوگ عالمِ ارواح میں جا رہے ہیں، اُن کو آگ کی جھیل میں ڈال دیا جائے گا (مکاشفہ20 باب 11-15 آیات)۔ تمام لوگوں کے لئے یہی حتمی اور ابدی منزلیں ہیں، جس کی بنیاد مکمل طور پر نجات کے لئے یسوع مسیح کو قبول کرنے یا رَد کرنے پر ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل رُوح کے سونے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries