settings icon
share icon
سوال

ازدواجی مسائل کے بارے میں بائبل میں کونسے حل موجود ہیں؟

جواب


شادی ایک انتہائی قریبی رشتہ ہے جس کا تجربہ دو انسان خُد اکے ساتھ تعلق کے بعد دوسرے نمبر پر کر سکتے ہیں۔ شادی زیادہ تر لوگوں میں اُن کی بہترین اور بد ترین خصوصیات سامنے لاتی ہے، کیونکہ دو بالکل الگ الگ انسان "ایک جسم " کے طور پر زندگی گزارنے کی جدوجہد کرتے ہیں (متی 16باب6 آیت؛ مرقس 10باب8 آیت)۔ شادی کے زیادہ تر مسائل کی جڑ خود غرضی ہے۔ جب شادی شُدہ جوڑے میں سے کوئی ایک یا دونوں شریکِ حیات اِس طرح سےجینے کا انتخاب کرتے ہیں کہ جیسے اُس کی ضروریات سب باتوں سے زیادہ توجہ طلب ہیں تو اُس کا نتیجہ تنازعے کی صورت میں نکلتا ہے۔

بائبل مُقدس کے اندر ایسی مخصوص آیات موجود ہیں جو میاں اور بیوی دونوں کے طرزِ عمل اور دونوں کے رویوں کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ اِن میں سے چند ایک 1 پطرس 3باب1-8 آیات، کلسیوں 3باب18-19 آیات، اور ططس 2باب3-5 آیات ہیں۔ اگرچہ فلپیوں 2باب3-13 آیات براہِ راست شادی کے معاملے پر بات نہیں کر رہیں، بہرحال یہ آیات ہمیں اُس رویے کو اپنانے کو کہتی ہیں جس کا مظاہرہ مسیح یسوع نے اُس وقت کیا جب اُس نے خُدا کے بیٹے کی حیثیت سے اپنے سارے حقوق ، اختیارات اور مراعات کو بالائے طاق رکھا اور ایک عاجز خادم کی حیثیت اختیار کر کے اِس زمین پر آ گیا۔ 3-4 آیات کے اندر کہا گیا ہے کہ "تفرقے اور بے جا فخر کے باعث کچھ نہ کرو بلکہ فروتنی سے ایک دُوسرے کو اپنے سے بہتر سمجھے۔ہر ایک اپنے ہی اَحوال پر نہیں بلکہ ہر ایک دُوسروں کے اَحوال پر بھی نظر رکھّے۔ " جب اِس نصیحت کا اطلاق شادی پر ہوتا ہے تو قریباً ہر ایک رکاوٹ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

یقینی طور پر کسی پاسبان یا شادی کے حوالے سے صلاح کاری کرنے والوں سے مشورہ لینا بائبل کی تعلیمات کے عین مطابق ہوگا (امثال 19 باب 20 آیت)۔ شادی کے اندر کردارادا کرنے کے حوالے سے غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ، کسی دوسرے کے نقطہ نظر سے دیکھنے کے لیے اور خُدا اور انسان کے بنائے ہوئے معیاروں میں فرق کرنے کے لیے مشورت یا صلاح کاری حاصل کرنا بہترین طریقہ ہے۔

افسیوں 5باب21-33 آیات شوہروں اور بیویوں کے لیے مخصوص ہدایات دیتی ہیں۔ ایک شوہر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی سے اُسی طرح محبت کرے "جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے مُحبّت کر کے اپنے آپ کو اُس کے واسطے مَوت کے حوالہ کر دِیا۔ " اِس طرح کی قربانی دینے والی محبت ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جس میں بیوی اپنے شوہر کی قیادت کے سامنے زیادہ آسانی کے ساتھ تابع ہو سکتی ہے۔ جب ایک شوہر اپنی بیوی سے محبت کا مظاہرہ کرنے کے لیے پُر عزم ہو، اور ایک بیوی اپنے شوہر کو قیادت کرنے کی اجازت دینے کے لیے پُر عزم ہو تو اُس صورت میں شادی لازمی طور پر کامیاب ہوگی۔

شادی کے لیے مخصوص ہدایات سے عین پہلے کی آیات پر پوری توجہ دینا بھی دانشمندی ہے۔ افسیوں 5باب18-21 آیات کا کہنا ہے کہ "اور شراب میں متوالے نہ بنو کیونکہ اِس سے بدچلنی واقع ہوتی ہے بلکہ رُوح سے معمور ہوتے جاؤ۔اور آپس میں مزامیر اور گیت اور رُوحانی غزلیں گایا کرو اور دِل سے خُداوند کے لئے گاتے بجاتے رہا کرو۔اور سب باتوں میں ہمارے خُداوند یِسُو ع مسیح کے نام سے ہمیشہ خُدا باپ کا شکر کرتے رہو۔ " شادی کی ہدایات سے پہلے دئیے جانے والے سبھی احکام پر غور کریں۔ سبھی مسیحیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ:

• شراب میں متوالے نہ بنیں،

• رُوح القدس سے معمور ہوں،

• ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں،

• مزامیر اور گیت اور رُوحانی غزلیں گایا کریں،

• مسلسل طور پر پرستش کا رویہ اپنائیں،

• رُوحانی طور پر شکرگزاری کے رویے کے ساتھ زندگی گزاریں،

• فضل بھرے انداز میں ایک دوسرے کے تابع رہیں۔

جب ہم شادی کے بارے میں پہلے پیش کی گئی آیات کو نظر انداز کرتے ہیں تو ہم شادی کے بارے میں اہم سچائی کو، اہم ہدایات کو چھوڑ جاتے ہیں۔ جب شادی شُدہ جوڑے میں سے ہر ایک شریکِ حیات اِن سچائیوں کا اطلاق اپنی ذاتی زندگی پر کرتا ہے، خُدا کے ساتھ اپنے تعلق کو بنیادی توجہ کا مرکز بنانے کی کوشش کرتا ہے تو شادی کے مسائل اُس کے سامنے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ جب دو مسیحی خُدا کے دِل کے مطابق جینے کے خواہاں ہوتے ہیں اور ہر ایک حال میں اُس کی مرضی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ ملکر کام نہ کر سکیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ازدواجی مسائل کے بارے میں بائبل میں کونسے حل موجود ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries