settings icon
share icon
سوال

ایک مسیحی کو نظریہ اشتراکیت/سوشل ازم کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے ؟

جواب


نظریہ اشتراکیت /سوشل از م ایک معاشرتی نظام ہے جس میں جائیداد ، قدرتی وسائل اور پیداوار کے ذرائع عام لوگوں یا نجی اداروں کے بجائے ریاست کی ملکیت یا ریاست کے اختیار میں ہوتے ہیں ۔ نظریہ اشتراکیت کا ایک بنیادی تصور یہ ہے کہ مجموعی حیثیت سے معاشرے کو تیار کردہ تمام چیزوں میں شامل ہوناچاہیے کیو نکہ ہر شخص ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون میں رہتا ہے ۔قدیم زمانوں سے ہی نظریہ اشتراکیت کی مختلف اقسام کو پیش کیا جاتا رہا ہے جس میں مسیحی اشتراکیت یا مسیحی سوشل ازم بھی شامل ہے۔

کارل مارکس نظریہ اشتراکیت کے حق میں بات کرنے والا سب سے نمایاں فلسفی تھا جس نے سکھایا تھا کہ تمام انسانی تاریخ کے پیچھے کام کرنے والامتحرک عنصر معاشیات ہے ۔ مارکس 1815 میں ایک جرمن یہودی والدین کے ہاں پیدا ہوا تھا جس نے 23 سال کی عمر میں اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی ۔ پھر اس بات کو ثابت کرنے کے لیے اُس نے ایک مشن کا آغاز کیا کہ انسان کی شناخت اُس کے پیشے سے جُڑی ہوئی ہے اور یہ بھی کہ معاشی نظام کسی بھی انسان پر مکمل بالا دستی رکھتے ہیں ۔ یہ دلیل دیتے ہوئے کہ انسان محنت مشقت کے وسیلہ سے زندہ رہتا ہے مارکس مانتا تھا کہ انسانی برادریاں مختلف طرح کی محنت مشقت کے نتیجےمیں پیدا ہوتی ہیں ۔

مارکس نے صنعتی انقلاب کو ایسی تبدیلی کے طور پر دیکھا تھا جو انسانوں کے بنیادی طرز زندگی کو یکسر بدلنے والی تھی کیونکہ مارکس کے خیال کے مطابق وہ لوگ جو آزادانہ طور پر اپنے لیے کام کرتے تھے اب معاشیات نے اُنہیں اسکی بجائے فیکٹریوں میں کام کرنے پر مجبور کیا ۔ مارکس نے محسوس کیا کہ اس عمل سے اُن کی عظمت اور پہچان چھن گئی ہے اور اب وہ ایک طاقتور مشقت کروانے والے مالک کے ماتحت کام کرنے والے غلام بن کر رہ گئے ہیں ۔ اس نقطہ ِ نظر نے سرمایہ دارانہ نظام کے علم ِ معاشیات کو مارکس کے اشتراکی نظام کا فطری دشمن بنا دیا تھا ۔

نظریہ اشتراکیت نجی جائیداد کے تصور کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ کارل مارکس کا گمان تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام نجی جائیداد پر زور دیتا ہے اوراِ س وجہ سے حقِ ملکیت کو صرف چند مراعات یافتہ لوگوں کے لیے مخصوص رکھتا ہے ۔ مارکس کے ذہن میں دو الگ الگ "برادریوں " کا تصور گھوم رہا تھا یعنی: کاروباری مالکان یا متوسط طبقے کے لوگ؛ اور مزدور طبقہ یا کا م کرنے والے عام لوگ ۔ مارکس کے مطابق متوسط طبقے کے لوگ مزدور طبقے کے لوگوں کا بہت زیادہ استعمال اور استحصال کرتے ہیں جس سے ایک طبقے کا فائدہ جبکہ دوسرے کا نقصان ہوتا ہے ۔ مزید برآں مارکس کا ماننا تھا کہ کارکنوں کے وقار اور حقوق کے ضیاع کے مقابلے میں اپنے مفادات کو یقینی بنانے کےلیے کاروباری مالکان قانون سازوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں ۔ آخر ی بات، مارکس محسوس کرتا تھا کہ مذہب" عوام الناس کا نشہ " ہے جسے اُمیر طبقہ مزدور طبقے سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کےلیے استعمال کرتا ہے ؛ مزدور طبقے سے وعدہ کیا جا تا ہے کہ اگر وہ اُس جگہ جہاں خدا نے اُنہیں ( متوسط طبقہ کے ماتحت ) مقرر کیا ہے مستقل مزاجی سے محنت کرتے ہیں تو ایک دن اُن کو اس بات کا اجر فردوس میں ملے گا ۔

مارکس کے تصور کردہ نظریہ اشتراکیت میں لوگ اجتماعی طور پر ہر چیز کے مالک ہیں اور تمام لوگ انسانیت کی عام بھلائی کےلیے کام کرتے ہیں ۔ مارکس کا مقصد معاشی پیداوار کے تمام ذرائع کو ریاستی تحویل میں دینے کے وسیلہ سے نجی جائیداد کی ملکیت کو ختم کرنا تھا ۔مارکس نے محسوس کرتا تھا کہ جب ایک بار نجی ملکیت کا تصور ختم ہو جائے گی تو ایک عام شخص کا وقار بلند ہو گا اور سرمایہ دارانہ نظام نے مالکان اور مزدور طبقےکے درمیان جو نام نہاد دیوار کھڑی کی ہے وہ بھی گر جائے گی ۔ ہر شخص دوسرے شخص کی قدر کرے گا اور سب مشترکہ مقصد کےلیے مل کر کام کریں گے ۔ کیونکہ لوگ نسبتاً کم خود غرض ہو جائیں گے لہذا اب حکومت کی مزید ضرورت بھی نہیں رہے گی ۔

مارکس کے تصورات میں کم از کم چار غلطیاں پائی جاتی ہیں جو نظریہ اشتراکیت کی چند خامیوں کو واضح کرتی ہیں ۔ پہلی بات ، مارکس کا یہ دعویٰ کہ کسی ایک شخص کا فائدہ یقیناً کسی دوسرے شخص کے نقصان کا نتیجہ ہے اور یہ ایک افسانوی تصور ہے ؛ سرمایہ دارانہ نظام کی تشکیل سازی تمام لوگوں کو جدت اور مسابقت کے ذریعے سے اپنے معیار ِ زندگی کو بہتر بنانے کے بہت سے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہ متعدد گروہوں کےلیے بالکل ایک قابل ِ عمل بات ہے کہ وہ اُن صارفین کی مارکیٹ میں مسابقت اور اچھی کارکردگی دکھائیں جو اُن کی اشیا ء اور خدمات حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔

دوسری بات ، مارکس اپنے اشتراکیت کے نظریے میں غلطی پر تھا کہ کسی تیار کردہ چیز کی قیمت اس پر لگنے والی محنت کی مقدار کے مطاب ہوتی ہے ۔ کسی چیز یا خدمت کے معیار کا تعین محض اس محنت کی مقد ار سے نہیں کیا جا سکتا ہے جو کوئی مزدور کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک ماہر بڑھی کسی فرنیچر کو ایک کم مہارت کے حامل گاریگر کے مقابلے میں زیادہ تیزی اورخوبصورتی سے بنا سکتا ہے اور اسی وجہ سے سرمایہ داری جیسے معاشی نظام میں اس کے کام کی کہیں زیادہ (اور اس لحاظ سے صحیح ) قدر ہوگی۔

تیسری بات ، مارکس کا نظریہ اشتراکیت ایک ایسی حکومت کا تقاضا کرتا ہے جو بدعنوانی سے پاک ہو اور اپنے عہدے داروں میں نظریہ حکمرانی کے امکان کی تردید کرتی ہو ۔ اگر تاریخ نے کسی بات کو ثابت کیا ہے تو وہ یہ ہے کہ طاقت گناہ آلودہ بنی نوع انسان کو بد عنوان بناتی ہے اور مطلق طاقت اُسے قطعی طور پر بد عنوان بناتی ہے ۔ لوگ فطری طور پر کم خو د غرض نہیں ہوتے ۔ کوئی قوم یا حکومت خدا کے تصور کو ختم کر سکتی ہے مگر اُس حکومت میں کوئی نہ کوئی ذات خدا کی جگہ لے لے گی ۔ اکثر وہ ذات کوئی شخص یا گروہ ہوتا ہے جو آبادی پر حکمرانی کرنا شروع کر دیتا ہے اور اپنے مراعات یافتہ مقام کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نظریہ اشتراکیت دنیا کی تاریخ میں اکثر آمریت کا باعث بنا ہے ۔

چوتھی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ نظریہ اشتراکیت ایسی تعلیم دینے میں غلطی پر ہے کہ کسی شخص کی شناخت اس کے اُس کام کی پابند ہے جو وہ کرتا ہے ۔ اگرچہ لادین معاشرہ بلاشبہ اس نظریے کو فروغ دیتا ہے مگر بائبل بیان کرتی ہے کہ سب لوگ مساوی مقام کے حامل ہے کیونکہ سب انسان ابدی خدا کی شبیہ پر تخلیق کیے گئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ انسان کی حقیقی قدر و قیمت کا انحصار اِس بات پر ہے کہ ہم خدا کی تخلیق ہیں ۔

کیا مارکس ایسا کہنے میں صحیح تھا کہ انسانی تاریخ کو چلانے والا عمل انگیز جزو معاشیات ہے؟ نہیں ، بلکہ انسانی تاریخ کو چلانے والی ذات اس کائنات کا خالق ہے جو ہر قوم کے عروج و زوال سمیت ہر چیز پر اختیار رکھتا ہے ۔ اس بات کا تعین کرنے والا بھی خدا ہی ہے کہ کس قوم پر کون حکمرانی کرتا ہے : " حق تعالیٰ آدمیوں کی مملکت میں حکمرانی کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اُسے دیتا ہے بلکہ آدمیوں میں سے ادنیٰ آدمی کو اُس پر قائم کرتا ہے"(دانی ایل 4باب 17آیت)۔ مزید برآں یہ حکومت نہیں بلکہ خدا ہی ہے جو کسی شخص کو کام کرنے کی مہارت اور اس سے حاصل ہونے والی دولت عطا کرتا ہے : "لو! مَیں نے دیکھا کہ یہ خُوب ہے بلکہ خُوش نُما ہے کہ آدمی کھائے اور پئے اور اپنی ساری محنت سے جو وہ دُنیا میں کرتا ہے اپنی تمام عمر جو خُدا نے اُسے بخشی ہے راحت اُٹھائے کیونکہ اُس کا بخرہ یہی ہے۔ نیز ہر ایک آدمی جسے خُدا نے مال و اسباب بخشا اور اُسے توفیق دی کہ اُس میں سے کھائے اور اپنا بخرہ لے اور اپنی محنت سے شادمان رہے۔ یہ تو خُدا کی بخشش ہے" (واعظ 5باب 18-19آیات)۔

کچھ حلقوں میں اس کی مقبولیت کے باوجود نظریہ اشتراکیت معاشرے کےلیے ایک بائبلی نمونہ نہیں ہے ۔ بائبل نظریہ اشتراکیت کی مخالفت میں نجی ملکیت کے تصور کو فر وغ دیتی اور ا س کے احترام کے حوالے سے احکامات جاری کرتی ہیں : " تُو چوری نہ کرنا" اس طرح کے احکامات نجی ملکیت کے وجود کے بغیر بے معنی ہیں ۔ نظریہ اشتراکیت کے ناکام تجربات کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ بائبل کام کرنے کو عزت دیتی اور یہ سکھاتی ہے کہ لوگ اپنی کفالت کےلیے خود ذمہ دار ہیں : " جسے محنت کرنا منظور نہ ہو وہ کھانے بھی نہ پائے " ( 2تھسلنیکیوں 3باب 10آیت)۔ دولت کی تقسیم نو ِ جو نظریہ اشتراکیت کی بنیاد ہے احتساب اور محنت سے متعلق بائبلی اخلاقیات کو ختم کرتی ہے ۔متی 25باب 14-30آیات میں درج یسوع کی تمثیل واضح طور پر سکھاتی ہے ہم اپنے ( نجی ) وسائل سے خدا کی خدمت کرنے کے ذمہ دار ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ایک مسیحی کو نظریہ اشتراکیت/سوشل ازم کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے ؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries