تمباکو نوشی کے لئے مسیحی نظریہ کیا ہے؟



سوال: تمباکو نوشی کے لئے مسیحی نظریہ کیا ہے؟

جواب:
بائيبل کبھی بھی براہ راست تمباکو نوشی کا ذکر نہیں کرتی۔ کچھ اصول ہیں، کسی طرح یقینی طور سے وہ تمباکو نوشی کو ظاہر کرتی ہیں۔ سب سے پہلے کلام پاک ہمیں حکم دیتا ہے ہم اپنے جسم کو کسی چیز کے "ماہر" نہ ہونے دیں۔ " سب چیزیں میرے لئے روا تو ہیں مگر چیزیں مفید نہیں۔ سب چیزیں میرے لئے روا تو ہیں لیکن میں کسی چیز کا پابند نہیں ہوگا" (1 کرنتھیوں 6:12)۔ بغیر روک ٹوک کے تمباکو نوشی پکے طور سے لت پڑنے والی بری عادت ہے۔بعد میں اسی عبارت میں ہم سے کہا گیا ہے کہ "کیا تم نہیں جانتےکہ تمہارا بدن روح القدس کا مقدس ہے جو تم میں بسا ہؤا ہے اور تم کو خدا کی طرف سے ملا ہے اور تم اپنے نہیں۔ کیونکہ قیمت سے خریدے گئے ہو۔ پس اپنے بدن سے خدا کا جلال ظاہر کرو"۔ ( 1کرنتھیوں 20- 6:19)۔ تمباکونوشی سے یہ ثابت جو‎چکا ہے کہ یہ پھیپھڑے اور دل کو نقصان پہنچاتا ہے۔

کیا یہ قیاس کا جاسکتا ہے کہ تمباکو نوشی "فائدہ مند" ہے (1 کرنتھیوں 6:12؟ کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمباکونوشی سچ مچ آپ کے جسم کے ساتھ خدا کی عزت افزائی ہوتی ہے ( 1کرنتھیوں 6:20)؟ کیا ایک شخصی ایمانداری سے "خدا کے جلال کے لئے" تمباکو نوشی کرسکتا ہے (1 کرنتھیوں 10:31)؟ ہم یقین کرسکتے ہیں کہ ان تینوں سوالوں کا جواب اس بات کی چرچا کريگا کہ "نہیں"۔ تنیجہ بطور ہم یہ اعتقاد کرتے ہیں کہ تمباکو نوشی ایک گناہ ہے اس لئے مسیح کے ایمانداروں میں یہ عادت نہیں ڈالی جانی چاہئے۔

کچھ لوگ اس نظریہ کے خلاف اس سچائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بحث کرتے ہیں کہ بہت سے لوگ غیر صحتمند کھانوں کو کھاتے یا مشروبات کا استعمال کرتے ہیں جو کہ صرف ایک لت بطور ہوسکتا ہے یا صرف جسم کے لئے برا۔ مثال کے طور بہت سے لوگ کافی کی لت سے مجبور ہیں اور صبح کے وقت کافی کی پہلی پیالی کے بغیر اپنا کام شروع نہیں کرسکتے۔ جبکہ یہ سچ ہے تو تمباکونوشی کس طرح صحیح ہے؟کیا ہماری جدوجہد یہ ہوگی کہ مسیحی لوگ اپنے پیٹوپن کو روکے اور زیادہ غیرصحتمند خوراک کا استعمال نہ کرے۔ جی ہاں۔ مسیحی لوگ اکثر ایک گناہ کی ملامت کرتے ہوئے ریاکار ہوجاتے ہیں اور دوسروں کی ملامت کرنے لگتے ہیں۔ مگر دو بارہ سے یہ کہنا ہے کہ تمباکو نوشی خدا کے نام کی عزت افزائی نہیں ہوتی۔

تمباکو نوشی کے اس نظریہ کے خلاف ایک اور بحث یہ ہے کہ بہت سے خدا پرست لوگ تمباکو نوش فرماتے تھے اور آج بھی تمباکو نوش فرماتے ہیں۔ جیسے کہ ایک مشہور برطانوی پرچارک سی-ایچ اسپرجن سگارنوش فرماتے تھے۔ پھر سے ہم یہ اعتقاد نہیں کرتے کہ اس بحث میں کوئی دم ہے۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ تمباکو نوشی کے لئے اسپرجن غلط تھے۔ ورنہ کیا وہ ایک خدا پرست اور زبردست خدا کے کلام کے استاد نہیں تھے؟ بالکل سے وہ ضرور کلام کے خادم تھے! ان سب کے عوض میں کیا انکے اعمال اور انکی بری عادت خدا کو عزت دیتے تھے؟ نہیں؟

یہ بیان کرتے ہوئے کہ تمباکونوشی ایک گناہ ہے ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ تمام تمباکونوشی فرمانے والے غیرایماندار یا بچے ہوئے نہیں ہیں۔ کئ ایک تمباکو نوش فرمانے والے مسیح یسوع کے سچے ایماندار ہیں۔ تمباکونوشی کسی کو بچائے جانے سے یا مسیح پر ایمان لانے سے نہیں روکتا۔ نہ ہی یہ ایک شخص کے لئے اپنی نجات کو کھونے کا سبب بنتا ہے۔ کسی اور گناہ کے مقابلہ میں تمباکونوشی کا گناہ بھی کم معافی کے قابل نہیں ہے۔ چاہے ایک شخص کے لئے مسیحی بن جانا یا ایک مسیحی کا چاہے وہ مرد ہو یا عورت اپنے گناہ کو قبولنا ضروری ہے (1 یوحنا 1:9)۔ اسی وقت ، ہم یقینی طور سے اعتقاد کرتے ہیں کہ تمباکو نوشی ایک گناہ ہے جس کو خدا کی مدد سے چھوڑ دینا، یا اس پر قابو پانا بہت ضروری ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



تمباکو نوشی کے لئے مسیحی نظریہ کیا ہے؟