settings icon
share icon
سوال

کیا بائبل غلامی سے چشم پوشی کرتی ہے؟

جواب


غلامی کو ایک ایسے عمل کے طور پر دیکھنے کا رحجان ہے جو صرف ماضی میں ہی پایا جاتا تھا ۔ لیکن اندازہ لگایا جاتا ہے کہ آج بھی دنیا میں قریباً 27 ملین لوگ ایسے ہیں جو جبری مشقت ،جنسی لحاظ سےخریدے اور فروخت کئے جانے اور نسل در نسل غلام بنے رہنے کی غلامی میں ہیں ۔ یسوع مسیح کے پیروکار وں کو جنہیں گناہ کی غلامی سے آزاد کیا گیا ہے آج کل دنیا میں پائی جانے والے انسانی غلامی کا خاتمہ کرنے والے اہم فاتحین ہونا چاہیے ۔ بہرحال سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بائبل براہ راست طور پر غلامی کے خلاف بات کیوں نہیں کرتی ؟ اور بائبل اصل میں انسانی غلامی کے عمل کی حمایت کرتی کیوں معلوم ہوتی ہے ؟

بائبل خصوصی طور پر غلامی کے عمل کی مذمت نہیں کرتی ۔ ہاں البتہ بائبل یہ نصیحت کرتی ہے کہ غلاموں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جانا چاہیے ( استثنا 15باب 12- 15آیات؛ افسیوں 6باب 9آیت ؛ کلسیوں 4باب 1آیت) لیکن یہ غلامی کو مکمل طور نا جائز قرار نہیں دیتی ۔ اور کچھ لوگ اِس حقیقت کو اس انداز سے دیکھتے ہیں کہ بائبل تمام قسم کی غلامی کو نظر انداز کرتی ہے ۔ بہت سے لوگ جس بات کو سمجھنے میں نا کام ہو جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ بائبل کے زمانہ میں پائی جانی والی غلامی گذشتہ چند صدیوں میں دُنیا کے مختلف حصوں میں پائی جانی والی غلامی سے سراسر مختلف تھی۔ بائبل میں غلامی خاص طور پر نسلی بنیاد پر نہیں تھی ۔ لوگوں کو اُن کی قوم یا اُن کی جلد کی رنگت کی وجہ سے غلام نہیں بنایا جاتا تھا۔ بائبل کے زمانہ میں غلامی زیادہ تر معاشی وجوہات پر مبنی ہوتی تھی ؛ یہ معاشرتی رتبے کا معاملہ تھا ۔ جب لوگ اپنے قرضے ادا نہ کر پاتے یا اپنے گھرانوں کی ضروریات کو پورا نہ کر پاتے تو وہ غلاموں کی حیثیت سے خود کو بیچ دیتےتھے۔ نئے عہد نامہ کے زمانہ میں بھی بعض اوقات ڈاکٹر، وکیل اور حتیٰ کہ سیاستدان بھی دوسرے لوگوں کے غلام تھے ۔ اصل میں کچھ لوگوں نے اِس لیے بھی غلام بننے کا فیصلہ کیا تا کہ اُن کی تمام ضروریات اُن کے مالکوں کی طرف سے پوری ہوں ۔

گذشتہ چند صدیوں سے غلامی صرف اور صرف جلد کی رنگت کی بنیاد پر موجود رہی ہے ۔ امریکہ میں بہت سے سیاہ فام لوگوں کو اُن کی نسل/ قومیت کی وجہ سے غلام سمجھا جاتا تھا؛ بہت سے مالکان سیا ہ فام لوگوں کو واقعی کمتر انسان خیال کرتے تھے۔ بائبل نسلی بنیادوں پر غلامی کے عمل کی سخت مذمت کرتی ہے کیونکہ بائبل سکھاتی ہے کہ تمام انسان خدا کی طرف سے اُس کی شبیہ پر تخلیق کیے گئے ہیں ( پیدایش 1باب 27آیت)۔ اِسی کے سا تھ ، پرانےعہد نامے نے معاشی بنیاد پر غلامی کے عمل کی اجازت دی تھی اور اس کےلیے اُصول بھی مقرر کیے تھے ۔ اہم معاملہ یہ ہے کہ بائبل نےجس غلامی کی اجازت دی تھی وہ کسی بھی لحاظ سے اُس نسل پرستی پر مبنی غلامی جیسی نہیں تھی جس نے گذشتہ چند صدیوں کے دوران ہماری دنیا کو تکلیف میں مبتلا کر رکھا تھا ۔

اس کے علاوہ نیا اور پرانا دو نوں عہد نامے " انسانوں کی خرید و فروخت " کےایسے عمل کی سخت مذمت کرتے ہیں جو 19 صد ی میں افریقہ میں ہوتا تھا ۔بہت سے لوگ افریقیوں کو غلاموں کی تجارت کرنے والوں کے ہاتھ بیچنے کے چکر میں رہتے ، یہ لوگ غلاموں کو دوسرے ممالک میں کھیتوں اور فارمز میں کام کروا نے کے لیے لے جاتے ۔ خدا کے نزدیک انسانوں کی خرید و فروخت کا عمل سخت نا پسندیدہ ہے ۔ موسیٰ کی شریعت میں ایسے جرم کی سزا صرف موت تھی " اور جو کوئی کسی آدمی کو چُرائے خواہ وہ اُسے بیچ ڈالے خواہ وہ اُس کے ہاں ملے وہ قطعی مار ڈالا جائے " ( خروج 21باب 16آیت)۔ اِسی طرح سے نئے عہد نامے میں غلام کا لین دین کرنے والوں کا شمار اُن لوگوں میں کیا گیا ہے جو" بے دین اور گنہگار ہیں" اور ایسے لوگ ماں باپ کےنافرمانوں، قاتلوں ، خونیوں ، حرام کاروں ، سرکشوں ، جھوٹوں اور جھوٹی قسم کھانے والوں کے زمرے میں آتے ہیں (1تیمتھیس 8- 10آیات)۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ بائبل کا مقصدمحض معاشرے کی اصلاح کرنے کی بجائے نجات کے راہ کی نشاندہی کرنا ہے ۔ اگر کوئی شخص نجات حاصل کرنے کے ذریعے خدا کے پیاراور رحم وفضل کا تجربہ کرتا ہے تو خدا اُس کے سوچنے اور عمل کرنے کے انداز کو بدلتے ہوئے اُس کی رُوح کی اصلاح بھی کرے گا۔ وہ شخص جس نے گناہ سے نجات اور آزادی کے خدا کے تحفے کو حاصل کر لیا ہے وہ اِس بات کو محسوس کرے گا کہ دوسرے انسان کو غلام بنانا غلط ہے ۔ پولس کی مانند وہ بھی دیکھے گا کہ ایک غلام " خداوند میں عزیز" بن سکتا ہے ( فلیمون 1باب 16آیت)۔ وہ شخص جو حقیقی طور پر خدا کے فضل کا تجربہ کر چکا ہے وہ بدلے میں دوسرے لوگوں پر بھی مہربان ہو گا۔ غلامی کو ختم کرنے کےلیے یہ بائبل کا نسخہ ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا بائبل غلامی سے چشم پوشی کرتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries