کیا کلام پاک غلامی کی تلافی کرتا ہے؟



سوال: کیا کلام پاک غلامی کی تلافی کرتا ہے؟

جواب:
لوگوں کو غلامی کی بابت دیکھنے کی ایک خصلت سی بنی ہوئي ہے کہ وہ ہمیشہ پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ پرانی بات ہے۔ پہلے ایسا ہوتا تھا۔ مگر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں 27 کڑوڑ سے بھی زیادہ لوگ دنیا میں ایسے ہیں جو غلامی کے بندھن میں ہیں: ان میں سب سے زیادہ وہ مزدور ہیں جنہیں مجبور ہوکر کسی کی بندش میں رہکر مزدوری کرنی پڑتی ہے وہ لوگ جو کسی کے ماتحت میں رہکر جنسی پیشہ کو انجام دیتے ہیں، ورثہ میں منتقل ہونے کے قابل جائيداد مطلب یہ کہ جن لوگوں کے جائیداد کی ورا‎ثت چھوٹ گئی ہے اس کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے مقررہ عرصہ تک غلامی کرنی پڑیگی۔ اس طرح کی کئی ایک غلامی ہے۔ اس طرح جو گناہ سے چھٹکارا پائے ہوئے ہیں وہ مسیح کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ وہ آج دنیا میں سب سے زیادہ شیطان کی غلامی سے آزاد کئے ہوئے کشتی باز (چیمپین) کہلاتے ہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کلام پاک غلامی کے خلاف زیادہ چرچا کیوں نہیں کرتا؟ کیوں کلام پاک دراصل انسانی غلامی کو عمل پیرا ہونے کے لئے منظوری دیتا ہے؟

کلام پاک مخصوص طور سے غلامی کی ملامت نہیں کرتا بلکہ یہ ہدایت دیتا ہے کہ غلاموں کے ساتھ کس طرح برتاؤکیا جانا چاہئے ۔استثنا15- 15:12؛ افسیوں 6:9؛ کلسیوں 4:1)، مگر ان سب کو لیکر قانون کی حمایت سے محرومی نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ ان آیتوں کو اس بطور دیکھتے ہیں کہ یہ باتیں غلامی کی تمام وضع کو نظر اندازہکرتا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ بائیبل کے زمانہ کی غلامی موجودہ زمانہ کی غلامی سے نہایت ہی فرق تھی جو پچھلے کچھ صدیوں میں دنیا کے کئي ایک حصوں میں عمل میں لایا گیا ہے۔ کلام پاک میں غلامی کسی نسل یا خاندان کی بنیاد پر خارج کرتے ہوئے نہیں تھا، لوگ اپنی قومیت کے سبب سے غلام نہیں بنائے جاتے تھے نہ ہی انکی کھال کے رنگ کے سبب سے غلام بنائے جاتے تھے۔ بلکہ بائيبل کے زمانہ میں زیادہ تر غلامی پیسوں کی بنیاد پر ہوتی تھی یا پھر پوری قوم کی قوم غلامی میں جاتی تھی جو گناہ کے سبب سے خدا کے قول کے سبب سے ہوتی تھی۔ جہاں تک پیسوں کی بنیاد پر غلام بنائے جانے کا سوال ہے یہ معاشرہ کی معیار کا معاملہ تھا۔ لوگ خود کو غلام بطور بیچ دیتے تھے جب وہ اپنا قرضہ نہیں چکا پاتے تھے یا اپنے خاندان کی ضرورتیں پوری نہیں کرپاتے تھے۔ نئےعہدنامے کے زمانہ میں کبھی کبھی وکیل، ڈاکٹر یہاں تک کہ سیاست کے لوگ بھی کسی نہ کسی کے غلام ہؤا کرتے تھے۔ کچھ لوگ اصل میں غلام ہونے کا چناؤ اس لئے کرتے تھے تاکہ ان کی ضرورتیں انکے مالکوں کے ذریعہ پورے کئے جاسکیں۔

مگر گزرے کچھ صدیوں کی غلامی اکثر کھال کے رنگ سے خارج کرتے ہوئے ہوتی تھی ۔ممالک متحدہ میں کئی ایک کالے رنگ کے لوگ اپنی قومیت کے سبب سے غلام بطور گنے جاتے تھے، بہت سے غلاموں کے مالک یہ اعتقاد کرتے تھے کہ سچ مچ میں کالے لوگ ہی مفروضہ طور سے انسان بطور ہیں،۔ کلام پاک نسل کی بنا پر غلامی کو ملامت کرتا ہے۔ اس کی بنا پر وہ تعلیم دیتا ہے کہ تمام لوگ خدا کے بنائے گئے ہیں اور اس کی صورت پر بنائےگئے ہیں (پیدایش 1:27)۔ اور پرانا عہدنامہ پیسوں کی بنا پر پائے جانے والی غلامی کی اجازت نہیں دیتا۔ بالکہ اہم معاملہ یہ ہے کہ جس غلامی کو کلام پاک نے اجازت دی وہ کسی طرح کی خاندانی یا نسل کی غلامی کے مشابہ تھا جو صدیوں سے ہماری دنیا میں وبا کی طرح پھیلا ہؤا ہے۔

اس کے علاوہ نیا اور پرانا دونوں عہدنامے "آدمیوں کے چرانے" کے عمل کی ملامت کرتا ہے جو 19 ویں صدی میں افریقہ میں واقع ہؤا۔ افریقہ کے غریب طبقوں کے علاقوں میں جاکر غلام بنانے والے شکاریوں نے انہیں گھیر کر پکڑ لیا اور انہوں نے انکو غلاموں کے سوداگروں کے ہاتھ بیچ دیا۔ اور انہیں نئی دنیا میں کھیتی کرنے اور پیڑ لگانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ یہ جو آدمیوں کو چرانے والا معاملہ ہے یہ عمل خدا کی نظر میں نفرت بھی انگیز ہے۔ دراصل موسیٰ کی توریت میں اس طرح لکھا ہے کہ "جوکوئی کسی آدمی یا عورت کو چرائے، خواہ وہ اسے بیچ ڈالے وہ قطعی طور سے مار ڈالا جائے (خروج 22:16)۔ اس طرح سے نئے عہدنامے میں غلاموں کے سوداگروں کی فہرست بے دینوں اور گنہ گاروں میں شامل کیا گیا ہے۔ ایسے ہی وہ لوگ جو اپنے مانباپ کو قتل کرتے اور خونیوں اور حرامکاروں اور لونڈے بازوں اور بردہ فروشوں اور جھوٹوں اور جھوٹی قسم کھانے والوں اور انکے علاوہ صحیح تعلیم کے برخلاف کام کرنے والے ہیں (1تموتھیس10- 1:8)۔

دوسرا جو فیصلہ کن اشارہ ہے وہ کلام پاک کا مقصد ہے جو نجات کے رارستے کی طرف اشارہ کرتا ہے نہ کہ معاشرہ میں تحریک لے آتا ہے۔ اکثر جو کلام پاک کی پہنچ ہے وہ اندر سے باہر کی طرف ہے۔ اگر ایک شخص نجات حاصل کرنے کے ذریعہ محبت، رحم اور خدا کے فضل کا تجربہ کرتا ہے تو خدا اس کے روح کو تحریک دیگا جس سے اس کے دل ودماغ کے خیالات اور عمل میں تبدیلی واقع ہوگی۔ ایک شخص جس نے خدا کی نجات کے انعام اور گناہ کی غلامی سے آزاد کئے جانے کا تجربہ حاصل کیا ہو اور جب خدا اس کے روح کو تحریک دیتا ہے وہ پہچان جائيگا کہ ایک دوسرے شخص کو غلام بنانا صحیح نہیں ہے، مناسب نہیں ہے۔ یہ غلط ہے۔ پولس کو جب اس بات کا احساس ہؤا تو اس نے اپنے غلام (انیسمس) کو آزاد کرکے، "اس کو خداوند مسیح میں ایک بھائی بطور قبول کرکے" ایک سچے مسیحی ہونے کا نمونہ پیش کیا (فیلمون 1:16)۔ ایک شخص جس نے سچ مچ میں خدا کے فضل کا تجربہ کیا ہؤا ہے وہ دیگر لوگوں پر بھی رحم وفضل کا سلوک کریگا۔ یہ غلامی کو ختم کرنے کے لئے کلام پک کی صلاح ہوگی۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا کلام پاک غلامی کی تلافی کرتا ہے؟