settings icon
share icon
سوال

کیا رُوح میں ذبح /سلین ہونا بائبل کے مطابق درست ہے؟

جواب


عام طور پر "رُوح میں ذبح " ہونے"سلین اِن سپرٹ" کے واقعات اُس وقت رونما ہوتے ہیں جب کوئی خادم کسی دوسرے شخص پر اپنا ہاتھ رکھتا ہے اور جس پر ہاتھ رکھا جاتا ہے وہ زمین پر گر جاتا ہے۔ پس اُس شخص کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ رُوح القدس اُس پر غالب آگیا ہے۔ جو لوگ دوسروں کو رُوح میں ذبح یعنی سلین کرتے ہیں وہ اپنے اِس عمل کو درست قرار دینے کے لیے بائبل کے ایسے حوالہ جات کا استعمال کرتے ہیں جن میں لوگوں کے "مردہ سا ہونے"(مکاشفہ 1باب 18 آیت)اور "منہ کے بل گرنے" (حزقی ایل 1باب28 آیت؛ دانی ایل 8باب 17- 18 آیات؛ 10 باب 7- 9 آیت) کا ذکر ملتا ہے۔ بہر حال بائبل میں منہ کے بل گرنے کا جو ذکر ہوا ہے اُس میں اور "رُوح میں ذبح " ہونے کے عمل میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔

‌أ. بائبل میں جہاں کہیں بھی کسی کے منہ کے بل گرنے کا ذکر کیا گیا ہے وہ کسی شخص کے کوئی خاص رویا دیکھنے یا اُس کے آس پاس کسی غیر معمولی واقعے کے رونما ہونے کی صورت میں اُس شخص کی طرف سے رَدِ عمل کے طور ہوا کرتا تھا جیسے کہ مسیح کی صورت کے تبدیل ہونے کا واقعہ (متی 17باب 6 آیت)۔ اِس کے برعکس رُوح میں ذبح یا سلین ہونے کے عمل کے دوران گرنے والا شخص در اصل دوسرے شخص کے چھونے یا پھر اُس کے بازو کی کسی خاص حرکت کے رَدِ عمل میں گرتا ہے۔

‌ب. بائبل میں لوگوں کے منہ کے بل گرنے کے واقعات بہت کم ہیں اور کبھی کبھار رونما ہوئے ہیں۔ وہ چند ایک لوگوں کی زندگیوں میں مسلسل نہیں بلکہ ایک یا پھر دو بار ہوئے ہیں۔ رُوح میں ذبح/سلین ہونے کے عمل میں تو یہ چیز بار بار ہوتی ہےاورایسا ایک ہی وقت میں بہت سارے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

‌ج. بائبل میں بیان کردہ واقعات کے اندر لوگ کسی چیز کے خوف یا کسی خاص شخص کو دیکھنے پر اُس کے رُعب کی وجہ سے منہ کے بل گرتے تھے۔ رُوح میں ذبح ہونے کا عمل جعلسازی پر مبنی ہے، لوگ اکثر کسی خادم کے ہاتھ لہرانے، چھونے (بعض دفعہ پیچھے کی طرف دھکیلے جانے) کے نتیجے میں پیچھے کو گرتے ہیں۔

ہم یہاں پر یہ تو نہیں کہہ رہے کہ کسی کے چھونے یا دھکیلنے کے جواب میں رونما ہونے والے "رُوح میں ذبح/سلین" ہونے کے سبھی واقعات جعلی ہیں۔ بہت سارے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کوئی ایسی قوت یا طاقت ضرور موجود تھی جس نے اُنہیں پیچھے کی طرف دھکیلا۔ تاہم یہ عمل یا یہ تصور بالکل بائبل کی بنیاد پر نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی قوت یا طاقت کا اِس سب میں عمل دخل ہو۔ لیکن اگر ایسا ہو بھی تو یہ کام یقینی طور پر نہ تو خُدا کی طرف سے ہے اور نہ ہی رُوح القدس کے کسی کام کا نتیجہ ہے کیونکہ یہ غیر بائبلی ہے۔

یہ بدقسمتی کا مقام ہے کہ لوگ رُوح کے اُس حقیقی اور عملی پھل کی بجائے جو رُوح القدس ہمیں اپنی زندگیوں کے وسیلے مسیح کے نام کو جلال دینے کے لیے دیتا ہے (گلتیوں 5باب 22-23 آیات) چھوڑ کر ایسی عجیب جعلسازی کے کاموں کو دیکھتے ہیں جو کسی طرح کا کوئی رُوحانی پھل پیدا نہیں کرتی۔ ایسی جعلسازیاں کسی طور پر اِس بات کا ثبوت نہیں ہوتیں کہ اِن سے جڑا ہوا شخص رُوح سے بھرا ہوا ہے، اِس کے برعکس رُوح سے بھرے ہونے کا ثبوت ایسی زندگی سے ملتا ہے جو خُدا کے کلام سےاِس قدر لبریز ہوتی ہے کہ اُس کے اندر سے خُدا کی حمدو ستایش، شکرگزاری اور فرمانبرداری بہہ رہی ہوتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا رُوح میں ذبح /سلین ہونا بائبل کے مطابق درست ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries