کیا خدا کی نظر میں تمام گناہ مساوی ہیں؟



سوال: کیا خدا کی نظر میں تمام گناہ مساوی ہیں؟

جواب:
متی28- 5:21 میں یسوع نے پہاڑی وعظ میں کہا کہ بری خواہش سے کسی عورت پر نگاہ کرنا اپنے دل میں اس کے ساتھ زنا کرنے کے برابر ہے اور دل میں کسی کے لئے کسی طرح کی نفرت یا عداوت رکھنا قتل کرنے کے برابر ہے۔ کسی طرح اس کے معنی یہ نہیں کہ یہ گناہ مساوی ہیں۔ یسوع فریسیوں کو یہ جتانے کی کوشش کررہا تھا کہ گناہ تب بھی گناہ ہے یہاں تک کہ جب آپ عملی طور پر اسے انجام دینے سے پہلے اس بارے میں سوچتے ہیں۔ یسوع کے زمانے میں مزہبی رہنما اپنے لوگوں کو تعلیم دیتے تھے کہ جو آپ چاہتے ہیں اس کی بابت سوچتے ہیں تو یہ اس حد تک ٹھیک ہے جب تک کہ ان خواہشوں پر عمل نہیں کرتے۔ مگر یسوع نے انہیں یہ احساس دلانے پر مجبور کیا کہ خدا ہر ایک شخص کے اعمال کے ساتھ ساتھ اس کے خیالات کا بھی انصاف کرتا ہے جو اس کے دل ودماغ میں ابھرتھے ہیں۔ یسوع نے منادی کی کہ ہمارے اعمال ہمارے دل میں سوچے جانے والی باتوں کا نتیجہ ہوتا ہے (متی 12:34)۔

سو حالانکہ یسوع نے کہا کہ شہوت پرستی اور زناکاری دونوں گناہ ہیں اس کے معنی یہ نہیں کہ یہ دونوں مساوی ہیں۔ ایک شخص کو ظاہرا طور قتل کرنا اس سے زیادہ بدتر ہے کہ اس شخص سے نفرت یا عداوت کرے۔ کیونکہ یہ دونوں خدا کی نظر میں گناہیں۔ گناہ کی حیثیتیں پائی جاتی ہیں۔ کچھ گناہ دیگر گناہوں سے بدتر ہوتی ہیں۔ مگر اسی وقت ابدی انجام اور نجات دونوں کے لحاظ سے تمام گناہ ایک جیسے ہیں۔ مساوی ہیں۔ ہر ایک گناہ ابدی ہلاکت (سزا) کی طرف لے جائيگا (رومیوں 6:23)۔ تمام گناہ چاہے وہ کتنا ہی "چھوٹا" کیوں نہ ہو وہ لامحدود اور ابدی خدا کے خلاف ہے اس لئے کہ وہ ایک لامحدود اور ابدی خمیازہ کے لایق ہے۔ اس کے علاوہ کوئي ایسا بڑا گناہ نہیں جسے خدا معاف نہ کرسکے۔ یسوع گناہوں کا خمیازہ دینے کے لئے مرا (1 یوحنا 2:2)۔ یسوع ہمارے تمام گناہوں کے لئے مرا (2کرنتھیوں 5:21)۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تمام گناہ خدا کی نظر میں مساوی ہیں؟ ہاں اور نہیں۔ برے برتاؤ یا بدسلوکی میں؟ نہیں۔خمیازہ میں؟ ہاں۔قابل معافی میں؟ ہاں۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا خدا کی نظر میں تمام گناہ مساوی ہیں؟