وہ گناہ کیا ہے جِس کا نتیجہ موت ہے؟


سوال: وہ گناہ کیا ہے جِس کا نتیجہ موت ہے؟

جواب:
1یوحنا باب 5 آیت 16 نئے عہد نامہ میں تشریح کے لئے مشکل ترین آیات میں سے ایک ہے۔ "اگر کوئی اپنے بھائی کو ایسا گناہ کرتے دیکھے جِس کا نتیجہ موت نہ ہو تو دُعا کرے۔ خُدا اُس کے وسیلہ سے زندگی بخشے گا۔ اُن ہی کو جنہوں نے ایسا گناہ نہیں کیا جِس کا نتیجہ موت ہو۔ گناہ ایسا بھی ہے جِس کا نتیجہ موت ہے۔ اِس کی بابت دُعا کرنے کو میں نہیں کہتا"۔ تمام تفسیروں میں سے کوئی بھی تفسیر تمام سوالوں کا جواب دیتے دکھائی نہیں دیتی جن کا تعلق اِس آیت کے ساتھ ہے۔

سب سے بہتر تشریح اِس آیت کو اعمال باب 5 پہلی دس آیات میں حننیاہ اور سفیرہ کے واقع کے ساتھ موازنہ کرنے سے مل سکتی ہے (1 کرنتھیوں باب 11 آیت 30 بھی دیکھیں)۔ "گناہ جس کا نتیجہ موت ہو" خود سر ، مسلسل، اور غیر توبہ یافتہ گناہ ہے۔ خُدا نے اپنے فرزندوں کو پاکیزگی کے لئے بُلایا ہے (1پطرس پہلا باب آیت 16)، اور جب وہ گناہ کرتے ہیں تو خُدا اُن کو تنبیہ کرتا ہے۔ ہمیں نجات کھونے، یا ہمیشہ کے لئے خُدا سے جُدا ہونے کے مفہوم میں ہمارے گناہوں کی "سزا" نہیں ملتی، بلکہ ہماری تربیت کی جاتی ہے۔ "کیونکہ جِس سے خُداوند محبت رکھتا ہے اُسے تنبیہ بھی کرتا ہے اور جِس کو بیٹا بنا لیتا ہے اُس کے کوڑے بھی لگاتا ہے" (عبرانیوں باب 12 آیت 6)۔

پہلا یوحنا باب 5 آیت 16 فرماتی ہے کہ ایک ایسا نقطہ آتا ہے جب خُدا ایک ایماندار کو غیر توبہ یافتہ گناہ میں چلنے کی مزید اجازت نہیں دیتا۔ جب یہ نقطہ آتا ہے، تو خُدا گنہگار ایماندار کی زندگی لینے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اِس آیت میں "موت" جسمانی موت ہے۔ خُدا وقت پر اُن لوگوں کو جو دانستہ طور پر نافرمانی کرتے ہیں ہٹاتے ہوئے اپنی کلیسیا کو پاک کرتا ہے۔ یوحنا رسول "گناہ جس کا نتیجہ موت ہے" اور "گناہ جس کا نتیجہ موت نہیں" میں فرق بیان کرتا ہے۔ کلیسیا میں تمام گناہوں کے ساتھ ایک ہی طریقہ سے نمٹا نہیں جاتا کیونکہ تمام گناہ "گناہ جن کا نتیجہ موت ہے" کی سطح تک نہیں پہنچتے ۔

اعمال باب 5 پہلی دس آیات اور 1 کرنتھیوں باب 11 آیات 28 تا 32 میں، خُدا نے گنہگار کی جسمانی زندگی کو لیتے ہوتے کلیسیا میں دانستہ اور عمداً گناہ کی عدالت کی۔ شاید اِس کا وہی مطلب ہے جو پولُس نے 1کرنتھیوں باب 5 آیت 5میں "جسم کی ہلاکت" کے طور پر بیان کیا۔

یوحنا فرماتا ہے کہ ہمیں اُن مسیحیوں کے لئے دُعا کرنی چاہیے جو گناہ کر رہے ہیں، اور یہ کہ خُدا ہماری دُعاؤں کو سُنے گا۔ تاہم، ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب خُدا غیر توبہ یافتہ گناہ کی وجہ سے ایماندار کی زندگی کو کم کرنے کا فیصلہ کرتاہے۔ ایسے غافل اور لاپروا انسان کے لئے دُعا موثر نہیں ہو گی۔

خُدا بھلا اور راست ہے، اور وہ آخر میں ہمیں "ایک ایسی جلال والی کلیسیا بنا کر اپنے پاس حاضر کرے گا جِس کے بدن میں داغ یا جھُری یا کوئی اور ایسی چیز نہ ہو بلکہ پاک اور بے عیب ہو" (افسیوں باب 5 آیت 27)۔ اِس آخر میں مزید، خُدا پنے فرزندوں کو تادیب کرتا ہے۔ خُداوند ہمیں سخت دِلی سے محفوظ رکھے جو ہم سے گناہ کروانے کا سبب بنتی ہے " جن کا نتیجہ موت ہے"۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
وہ گناہ کیا ہے جِس کا نتیجہ موت ہے؟