کیا بچوں کو اُنکے والدین کے گناہوں کی سزا ملتی ہے؟



سوال: کیا بچوں کو اُنکے والدین کے گناہوں کی سزا ملتی ہے؟

جواب:
بچوں کو اُن گناہوں کی سزا نہیں ملتی جو اُنکے والدین نے کئے ہوتے ہیں،اور نہ ہی والدین کو بچوں کے گناہوں کی سزا دی جاتی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے ہی گناہوں کا ذمہ دار ہے۔ حزقی ایل باب 18 آیت 20 بیان کرتی ہے، "جو جان گناہ کرتی ہے وہی مرے گی۔ بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ نہ اُٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کے گناہ کا بوجھ"۔ یہ آیت واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ ایک شخص کے گناہوں کی سزا اُسی شخص کو سہنی پڑتی ہے۔

ایسی آیت موجود ہے جو بعض لوگوں کوگناہ کے لئے پُشتوں کے مابین سزا ، یا لعنت ملنے کے نظریہ پر ایمان رکھنے کے لئے رہمنائی کرتی ہیں، لیکن یہ تشریح غلط ہے۔ یہ آیت خروج باب 20 آیت 5 ہے،جو کہ بُت پرستی کے حوالے سے بات کرتی ہے،"تُواُن (بُتوں) کے آگے سِجدہ نہ کرنا اور نہ اُن کی عبادت کرنا کیونکہ میں خُداوند تیرا خُدا غیور خُدا ہوں اور جو مُجھ سے عداوت رکھتے ہیں اُن کی اولاد کو تِیسری اور چوتھی پُشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں"۔ یہ آیت سزا کے بارے میں بات نہیں کر رہی، بلکہ گناہ کے نتائج کی بات کر رہی ہے۔ یہ آیت کہہ رہی ہے کہ کسی شخص کے گناہ کے نتائج بعد کی نسلیں محسوس کرتی ہیں۔ خُدا اسرائیلیوں کو بتا رہا تھا کہ اُن کے بچے اپنے اباؤ اجداد کے گناہوں کی تاثیر کو اُن کی نافرمانی اور خُدا سے نفرت کے قدرتی نتائج کے طور پر محسوس کریں گے۔ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والے بچے بھی قائم کردہ نافرمانی میں پڑتے ہوئے ایسی بُت پرستی کریں گے۔ ایک نافرمان نسل کا انجام بدی کو اتنا گہرا نصب کرنا ہے کہ اِسے اُکھاڑنے کے لئے کئی نسلیں ختم ہو جاتی ہیں۔ خُدا ہمارے والدین کے گناہوں کو ہمارے ذمہ نہیں لگاتا، بلکہ ہم بعض اوقات اپنے والدین کے گناہوں کے نتائج کے طور پر متاثر ہوتے ہیں، جیسا کہ خروج باب 20 آیت 5 تشریح کرتی ہے۔

لہذہ، اگر کوئی شخص بینک پر نقب لگاتا ہے، کیا خُدا اُس شخص کے بیٹے کو سزا دے گا، یہاں تک کہ بیٹے کا ڈاکہ زنی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے؟ بالکل نہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ باپ جس نے بینک میں ڈاکہ ڈالا ہے اپنے جُرم کے فطرتی نتائج کے ذریعے اپنے بیٹے کے لئے زندگی گزارنا مشکل بنا دے۔ اِس کے علاوہ، اگر وہ شخص اپنے بیٹے کو بینک میں ڈاکہ ڈالنے کی تراکیب میں تربیت دے رہا ہے، تو پھر ممکن ہے کہ بیٹا بے ایمانی کے اُسی راستے پر چلے۔ اِس صورت میں، گناہ بیٹے کی طرف سے کاپی کیا جاتا ہے اور گناہ کے لئے سزا لازم ہے۔

جیسا کہ حزقی ایل باب 18 آیت 20 واضح کرتی ہے، ہم میں سے ہر ایک اپنے گناہ کے لئے ذمہ دار ہے، اور ہمیں اُن کے لئے سزا برداشت کرنا ہو گی۔ ہم اپنے جُرم کو دوسروں کے ساتھ بانٹ نہیں سکتے، اور نہ کسی اور کو ہماری تقصیروں کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ تاہم، اِس اصول کی ایک استثنا ہے، اور اِس کا اطلاق تمام انسانوں پر ہوتا ہے۔ ایک شخص نے دوسروں کے گناہوں کو برداشت کیا اور اُن کے گناہوں کی قیمت ادا کی تاکہ گنہگار خُدا کی نظر میں مکمل طور پر راستباز اور پاک بن سکیں۔ یہ شخص یسوع مسیح ہے، جو دُنیا میں ہمارے گناہوں کے لئے اپنی کاملیت کو بدلنے آیا۔ "جو گناہ سے واقف نہ تھا اُسی کو اُس نے ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا تاکہ ہم اُس میں ہو کر خُدا کی راستبازی ہو جائیں" (2 کرنتھیوں باب 5 آیت 21)۔ یسوع مسیح کو ہمارے لئے سزا دی گئی تھی۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا بچوں کو اُنکے والدین کے گناہوں کی سزا ملتی ہے؟