settings icon
share icon
سوال

گناہ آلود فطرت کیا ہے ؟

جواب


گناہ آلود فطرت انسانی ذات کا وہ پہلو ہے جو اُسے خدا کے خلاف باغی بناتا ہے۔ جب ہم گناہ آلودفطرت کی بات کرتے ہیں تو ہم اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ گناہ کی طرف ہمارا رجحان فطری ہے؛ خدا کی مرضی یا اپنی مرضی کومنتخب کرنے کے اختیار کے پیشِ نظر ہم فطری طور پر اپنی مرضی کے کام کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

گناہ آلود فطرت کے ثبوت بکثرت موجود ہیں ۔ کسی کو بھی بچّے کو جھوٹ بولنا یا خود غرض ہونا نہیں سکھانا پڑتا؛ جبکہ دوسری جانب ہمیں بچّوں کو سچ بولنا سکھانے اور دوسروں کو اوّلیت دینے کے لیے بہت کوشش کرنی پڑتی ہیں۔ گناہ آلود رویہ قدرتی طور پر رونماہوتا ہے۔ خبریں بنی نوع انسان کے بُرے اعمال کی المناک مثالوں سے بھری پڑی ہیں۔ جہاں لوگ ہیں وہاں پریشانی ہے۔ چارلس سپرجن نے کہا ہے کہ "جیسے نمک بحر اوقیانوس کے ہر قطرے کونمکین ذائقہ دیتا ہے اسی طرح گناہ ہماری فطرت کے ہر ذرے کو متاثر کرتا ہے۔ یہ اتنی بُری طرح سے ، اتنی کثرت سے موجود ہے کہ اگر آپ اِس کا سراغ نہیں لگا پاتے تو آپ دھوکا کھائے ہوئے ہیں۔"

بائبل مصیبت کا سبب بیان کرتی ہے۔بنی نو ع انسان نہ صرف نظریاتی یا عملی طور پر بلکہ فطرتی طور پر گناہ گار ہے ۔ گناہ ہمارے وجود کے ہرریشے کا حصہ ہے۔ بائبل رومیوں 8باب 3آیت میں "گناہ آلودہ جسم" کی بات کرتی ہے۔ یہ ہماری دنیاوی فطرت ہے جو کلسیوں 3باب 5آیت میں درج گناہوں کو جنم دیتی ہے۔ اور رومیوں 6باب 6آیت "گناہ کےبدن " کا ذکر کرتی ہے۔ اس زمین پر ہم جس بدن اور خون کے ساتھ وجود رکھتے ہیں وہ ہماری گنہگاراور بدعنوان فطرت سے تشکیل پاتا ہے۔

گناہ آلود فطرت بنی نوع انسان میں عالمگیر طور پر ہے۔ ہم سب میں گناہ آلود فطرت ہےاور یہ ہماری ذات کے ہر حصے کو متاثر کرتی ہے۔ یہ مکمل بگاڑ کا عقیدہ ہے اور یہ بائبل کے مطابق ہے۔ ہم سب بھٹک چکے ہیں (یسعیاہ 53باب 6آیت)۔ پولس رسول تسلیم کرتا ہے کہ" مَیں جسمانی اور گُناہ کے ہاتھ بِکا ہُوا ہُوں" (رومیوں 7باب 14آیت )۔ پولس رسول کہتا ہے کہ مَیں " جسم سے گُناہ کی شرِیعت کا محکوم ہُوں"( رومیوں 7باب 25آیت)۔ سلیمان نبی اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ " کیونکہ زمین پر کوئی اَیسا راست باز اِنسان نہیں کہ نیکی ہی کرے اور خطا نہ کرے"(واعظ 7باب 20 آیت)۔ یوحنا رسول ممکنہ طور پر اِسے اور زیادہ دو ٹوک الفاظ میں پیش کرتا: " اگر ہم کہیں کہ ہم بے گُناہ ہیں تو اپنے آپ کو فریب دیتے ہیں اور ہم میں سچّائی نہیں "( 1یوحنا 1باب 8آیت)۔

یہاں تک کہ بچّے بھی گناہ آلود فطرت کے حامل ہیں ۔ داؤد نبی اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ وہ گناہ کے اثر کے ساتھ ہی پیدا ہوا ہے : "دیکھ! مَیں نے بدی میں صُورت پکڑی اور مَیں گُناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا"(51زبور 5آیت )۔ ایک اور جگہ داؤد نبی بیان کرتا ہے" شرِیر پیدایش ہی سے کج رَوی اِختیار کرتے ہیں۔ وہ پیدا ہوتے ہی جھوٹ بول کر گمراہ ہو جاتے ہیں"(58زبور 3آیت )۔

یہ گناہ آلود فطرت کہاں سے آئی؟ کلامِ مقدس بیان کرتا ہے کہ خدا نے انسانوں کو کامل اور گناہ آلود فطرت کے بغیر پیدا کیا تھا : "خُدا نے اِنسان کو اپنی صورت پر پیدا کِیا۔ خُدا کی صورت پر اُس کو پیدا کِیا۔ نر و ناری اُن کو پیدا کِیا"(پیدایش 1باب 27آیت)۔ تاہم پیدایش 3باب آدم اور حوّا کی نافرمانی کو بیان کرتا ہے۔ اِس واحد عمل سے گناہ اُن کی فطرت میں داخل ہو گیا۔ وہ فوراً ہی شرمندگی اور نااہلی کے احساس سے دو چار ہو گئے اور خدا کی حضوری سے چھپتے پھرے (پیدایش 3باب 8آیت )۔ جب اُن کی اولاد ہوئی تو آدم کی شبیہ اور مشابہت اُن کی اولاد میں منتقل ہو گی (پیدایش 5باب 3آیت )۔ گناہ آلود فطرت نے خود کو اُن کی نسل کی ابتدامیں ہی ظا ہر کر دیا: آدم اور حوّا کے ہاں پیدا ہونے والا پہلا بچّہ قائن، پہلا قاتل بن گیا (پیدایش 4باب 8آیت )۔

گناہ آلود فطرت نسل در نسل پوری انسانیت میں منتقل ہوتی گئی :" پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گُناہ دُنیا میں آیا اور گُناہ کے سبب سے مَوت آئی اور یُوں مَوت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِس لئے کہ سب نے گُناہ کِیا" ( رومیوں 5باب 12آیت)۔ یہ آیت اس تکلیف دہ سچائی کو بھی پیش کرتی ہے کہ گناہ آلود فطرت ناگزیر طور پر موت کی طرف لے جاتی ہے (رومیوں 6باب 23آیت اور افسیوں 2باب 1آیت کو بھی دیکھیں)۔

گناہ آلود فطرت کے دیگر نتائج خُدا کے ساتھ دشمنی اور اُس کی سچائی سے ناواقفیت ہیں۔ پولس رسول کہتا ہے"اِس لئے کہ جسمانی نِیّت خُدا کی دُشمنی ہے کیونکہ نہ تو خُدا کی شرِیعت کے تابع ہے نہ ہو سکتی ہے۔ اور جو جسمانی ہیں وہ خُدا کو خُوش نہیں کر سکتے"(رومیوں 8باب 7-8آیات )۔ نیز"نفسانی آدمی خُدا کے رُوح کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اُس کے نزدِیک بیوُقُوفی کی باتیں ہیں اور نہ وہ اُنہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ رُوحانی طَور پر پرکھی جاتی ہیں" (1کرنتھیوں 2باب 14آیت)۔

دنیا کی تاریخ میں صرف ایک ہی شخص :یسوع مسیح ہے جس کی فطرت میں گناہ شامل نہیں تھا ۔ اُس کی کنواری سے پیدایش نے آدم کی طرف سے آنے والی گناہ کی لعنت سے بالا ہونے کے باعث اُسے ہماری دنیا میں داخل ہونے کے قابل بنایا۔ اس کے بعد خُداوند یسوع نے مکمل کاملیت کی حالت میں گناہ سے مبّرا زندگی بسر کی ۔ وہ "قدوس اور راستباز" تھا (اعمال 3باب 14آیت ) "جو گناہ سے واقف نہ تھا"(2کرنتھیوں 5باب 21آیت)۔ اس حقیقت نےخُداوند یسوع کے لیے ہمارے کامل عوضی یعنی "ایک بے عیب اور بے داغ برّے"(1پطرس 1باب 19آیت)کے طور پر صلیب پر قربان ہونا ممکن بنایا ۔ جان کیلون اس تناظر میں کہتا ہے : "یقیناًمسیح آدم کے برباد کرنے کی نسبت بچانے کے لیے کہیں زیادہ طاقتور ہے ۔"

یہ مسیح کے وسیلہ سے ہی ممکن ہے کہ ہم نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں۔" جو جسم سے پَیدا ہُوا ہے جسم ہے اور جو رُوح سے پَیدا ہُوا ہے رُوح ہے" (یوحنا 3باب 6آیت)۔ جب ہم آدم سے پیدا ہوتے ہیں ہم اُس کی گناہ آلود فطرت کے وارث ہوتے ہیں؛ لیکن جب ہم مسیح میں نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں تو ہم ایک نئی فطرت کے وارث بنتے ہیں :"اِس لئے اگر کوئی مسیح میں ہے تو وہ نیا مخلوق ہے۔ پُرانی چیزیں جاتی رہیں۔ دیکھو وہ نئی ہو گئیں " (2کرنتھیوں 5باب 17آیت)۔

جب ہم مسیح کو قبول کر لیتے ہیں تو ہم اپنی گناہ آلود فطرت کو کھو نہیں دیتے ۔ بائبل فرماتی ہے کہ گناہ ہم میں باقی رہتا ہے اور جب تک ہم اس دنیا میں ہیں اس پرانی فطرت کے ساتھ جدوجہد جاری رہے گی۔ پولس رسول نے رومیوں 7باب 15-25آیات میں اپنی شخصی جدوجہد پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن اس لڑائی میں ہمارے پاس مدد- الٰہی مددہے ۔ خُدا کا رُوح ہر ایماندار کی زندگی میں قیام کرتا اور وہ طاقت فراہم کرتا ہے جس کی ہمیں اپنے اندر گناہ آلود فطرت کی کشمکش پر قابو پانے کے لیے ضرورت ہے۔" جو کوئی خُدا سے پَیدا ہُوا ہے وہ گُناہ نہیں کرتا کیونکہ اُس کا تُخم اُس میں بنا رہتا ہے بلکہ وہ گُناہ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ خُدا سے پیدا ہُوا ہے "(1یوحنا 3باب 9آیت )۔ ہمارے لیے خُدا کا حتمی منصوبہ وہ مکمل تقدیس ہے جس کی حالت میں ہم مسیح کو دیکھیں گے (1تھسلنیکیوں 3باب 13آیت؛ 1-یوحنا 3باب 2آیت)۔

صلیب پر اپنے کئے ہوئے مکمل کام کے وسیلہ سےخُداوند یسوع نے گناہ کے خلاف خُدا کے غضب کو مطمئن کیا اور ایمانداروں کو اُن کی گناہ آلود فطرت پر فتح فراہم کی ہے :"وہ آپ ہمارے گُناہوں کو اپنے بدن پر لئے ہُوئے صلیب پر چڑھ گیا تاکہ ہم گُناہوں کے اِعتبار سے مَر کر راست بازی کے اِعتبار سے جئیں "(1پطرس 2باب 24آیت)۔ اپنے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے یسوع گناہ کے جسم میں قید ہر انسان کو زندگی کی پیشکش کرتا ہے۔ جو لوگ نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں اُن کے پاس اب یہ حکم ہے:"تُم بھی اپنے آپ کو گُناہ کے اِعتبار سے مُردہ مگر خُدا کے اِعتبار سے مسیح یسُوع میں زِندہ سمجھو" ( رومیوں 6باب 11آیت )۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

گناہ آلود فطرت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries