settings icon
share icon
سوال

اگر یسوع نے ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کر دی تھی تو پھر ہمیں کیوں اپنے گناہوں کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں؟

جواب


بائبل خوشخبری سُناتی ہے کہ یسوع نے ہمارے گناہ کی قیمت ادا کردی ہے (افسیوں 1باب 7آیت)مگر اس کے باوجود ہم کئی طرح سے اپنے گناہوں کے نتائج بھگتتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک منشیات فروش سزا کے دوران جیل میں خُداوند یسوع کو اپنا شخصی نجات دہندہ قبول کر لیتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اُسے اگلے ہی دن جیل سے رہا کر دیا جائے گا –اُسے مسیح کو قبول کرنے کے باوجود اپنے ماضی کے گناہ کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا ۔ نئی پیدایش کا حامل ایماندار جو زناکاری میں مبتلا رہا ہو اپنے گناہ کا اقرار کرنے اور اسے ترک کرنے کے بعد بھی اپنے خاندان کا ، کاروبار کا یا دیگر چیزوں کا نقصان اُٹھا سکتا ہے کیونکہ اُس کے گناہ کے نتائج قائم رہتے ہیں ۔ مسیح کے پاس آنا گناہ کے عارضی اثرات کو ختم نہیں کرتا بلکہ ہماری نجات اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ ہم گناہ کے ابدی نتائج کا سامنا نہیں کریں گے ۔

گناہ کا نتیجہ موت ہے ( رومیوں 6باب 23آیت)۔ گنہگار ہونے کے ناطے ہم خدا اور اُس کی پاکیزگی سے ہمیشہ کے لیے دورہو جانےکے مستحق ہیں ۔مسیح نے صلیب پر اپنے خون کے ساتھ ہمارے گناہ کی قیمت ادا کی ہے ۔ وہ جو گناہ سے واقف نہ تھا ہماری خاطر گناہ بنا ( 2کرنتھیوں 5باب 21آیت)۔مسیح پر ایمان لانے والے اُس کے کامل کفارے کی بنیاد پر اب خدا کی سزا (غضب) کے زیرِ اثر نہیں ہیں ( رومیوں 8باب 1آیت)۔

اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ جب کوئی مسیحی ایماندار گناہ کے نتائج کا تجربہ کرتا ہے تو اِ س کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اُس پر سزا کا حکم ہے ( رومیوں 8باب 1آیت)،کہ وہ خدا کے غضب کے ماتحت ہے ( 1تھسلنیکیوں 5باب 9آیت) یااُسے اُس کے گناہ کا بدلہ دیا جا رہا ہے ( 2تھسلنیکیوں 1باب 8آیت)۔ کیونکہ ایمانداروں پر خدا کا فضل ہے (رومیوں 6باب 15آیت)۔ خدا کے غضب کو یسوع نے اپنے اُوپر لے لیا تھا ( یسعیاہ 53باب 10آیت)۔ گناہ کے وہ نتائج جن کا آج بھی ایمانداروں کو سامنا کرنا پڑتا ہے اُن کی درجہ بندی اِن مندرجہ ذیل زُمروں میں کی جا سکتی ہے :

عالمگیر نتائج : آدم کی اولاد ہونے کے باعث گناہ کے کچھ نتائج کا زمین پر موجود ہر انسان کو ہمیشہ سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ہم اپنے باغات میں جھاڑیاں اور اونٹ کٹارے اُگتے دیکھتے ہیں ، ہم سب کو قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ہم سب بیمار ہوتے اور بڑھاپےکا تجربہ کرتے ہیں اور ہم سب بالآخر جسمانی موت کا سامنا کرتے ہیں (رومیوں 5باب 12آیت)۔ ایک گناہ آلودہ دنیا میں رہنے والے گنہگاروں کی حیثیت سے حقیقی گناہ کے اِن نتائج سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔

قدرتی نتائج: ہم سبب اور اثر( علت ومعلول) کی دنیا میں رہتے ہیں جہاں جو بوئیں اُسی کو کاٹنے کا قانون پوری طرح نافذ ہے ۔ اس بات سے قطع نظر کہ گنہگارنجات یافتہ ہے یا نہیں گناہ کے کچھ نتائج پیدایشی اور عملی لحاظ سے یقینی ہیں ۔ بائبل خبردار کرتی ہے کہ حرامکاری ایک ایسا گناہ ہے جس کا کرنے والا اپنے بدن کا بھی گنہگار ہوتا ہے (1کرنتھیوں 6باب 18آیت)۔ "کیا ممکن ہے کہ آدمی اپنے سینہ میں آگ رکھّے اور اُس کے کپڑے نہ جلیں؟" (امثال 6باب 27آیت)۔ اگر آپ کسی چیز کی چوری کرتے ہیں تو آپ کو پکڑے جانے اور اس چوری کے گناہ کے بعد رونما ہونے والے قدرتی نتائج کا سامنا کرنے کی توقع رکھنی چاہیے ۔ اگر آپ پکڑنے جانے پر گرفتار ی کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں تو آپ مزیدمشکل نتائج کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ آپ جو بوتے ہیں آپ کو وہی کاٹنا پڑے گا ۔

اصلاحی نتائج: زیادہ امکان یہی ہے کہ خدا ہمیں گناہ کی نفرت انگیز نوعیت کے بارے میں سکھانے اور اپنے فضل پر انحصار کرنے کی یاد دلانے کےلیے گناہ کے کچھ نتائج کو ہماری زندگی میں برقرار رہنے دیتا ہے ۔ گناہ خدا کے نزدیک ایسا سنگین مسئلہ ہے کہ اُس نے گناہ سے انسانی نجات کی خاطر مر نے کےلیے اپنے بیٹے کو دنیا میں بھیجا ہے ۔ ہم گناہ کو معمولی سمجھنے کی جرات نہیں کر سکتے ۔ گناہ کے نتائج کی صورت میں ہم اپنے آپ کو عاجز کرتے اور خدا کی بادشاہی اور راستبازی کی تلاش کرتے ہیں ( متی 6باب 33آیت)۔ جب اُن کے گناہ کے باعث حننیاہ اور سفیرہ کو تادیب کی گئی تو یہ کلیسیا کےلیے سبق آموز تھا : "اور ساری کلیسیا بلکہ اِن باتوں کے سب سُننے والوں پر بڑا خوف چھا گیا" ( اعمال 5باب 11آیت)۔ 1کرنتھیوں 5باب 5آیت اور 1تیمتھیس 1باب 20آیت کو بھی دیکھیں ۔

تادیبی نتائج: گناہ کے کچھ نتائج خدا کے ہمارے ساتھ ایسے سلوک کا نتیجہ ہیں جس طرح ایک باپ کو اپنے بچّوں سے پیش آنا چاہیے۔ گنا ہ کےلیے سزا اور گناہ کے نتیجہ میں تنبیہ میں فرق ہے ۔ خدا کے فرزند ہونے کے ناطے ہماری تنبیہ کا مقصد ہمیں درست راہ پر واپس لانے میں رہنمائی کرنا ہے ۔ "اَے میرے بیٹے! خُداوند کی تنبیہ کو ناچیز نہ جان اور جب وہ تجھے ملامت کرے تو بے دِل نہ ہو۔ کیونکہ جس سے خُداوند مُحبّت رکھتا ہے اُسے تنبیہ بھی کرتا ہے اور جس کو بیٹا بنا لیتا ہے اُس کے کوڑے بھی لگاتا ہے" ( عبرانیوں 12باب 5-6آیات ؛ امثال 3باب 11-12آیات)۔ غور کریں کہ خدا کے کتنے بچّے تنبیہ کا تجربہ کرتے ہیں : "ہر ایک "۔ ہم سب درست راستے سے کبھی کبھار ہٹ جاتے ہیں ۔ ہمیں گناہ کے تادیبی نتائج میں سے گزارنے کا خدا کا مقصد کامل اور اُس کی فطرت کے عین مطابق ہے :"(خدا ایسا ) ہمارے فائدہ کے لئے کرتا ہے تاکہ ہم بھی اُس کی پاکیزگی میں شامل ہو جائیں" (عبرانیوں 12باب 10آیت)۔

کرنتھس کی کلیسیا اُن مسیحیوں کی ایک مثال پیش کرتی ہے جنہیں اپنے گناہ : یعنی خداوند کی میز میں نا مناسب طور پر شامل ہونے کے نتیجے میں خدا کی ناراضگی کے باعث تادیبی نتائج کا سامنا تھا :"اِسی سبب سے تم میں بہتیرے کمزور اور بیمار ہیں اور بہت سے سو بھی گئے " ( 1کرنتھیوں 11باب 30 آیت)۔ ایسا ہی تادیبی عمل ہم 2سموئیل 12باب میں دیکھتے ہیں ۔ داؤد کے اپنے گناہ کا ااعتراف کرنے اور معافی پانے کے بعد بھی خدا نے داؤد اور اُس کے گھرانے پر خاص نتائج واقع ہونے کی اجازت دی تھی ( 11-14آیات)۔

ہم سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کےلیے خدا ہمیں گناہ کے کچھ عارضی نتائج میں سے گزرنے دیتا ہے ۔ اگر خدا اپنے اصل راہ سے بھٹک جانے والے بچّوں کی کبھی تنبیہ نہ کرتا تو اُس نے اچھا باپ نہیں ہونا تھا۔ اگر ہماری کبھی تنبیہ نہ کی جاتی یا ہم اپنے غلط کاموں کے نتائج نہ بھگتتے تو ہم نے صحیح اور غلط کے فرق کو کبھی نہیں سیکھنا تھا ۔ درحقیقت ہم اپنی کامیابیوں کی نسبت اپنی غلطیوں سے زیادہ تیزی سے سیکھنے کا رجحان رکھتے ہیں ۔

خداوند کی بھلائی کےلیے اُس کا شکر ہو۔ وہ ہمیں ( ہماری اپنی بہتری کےلیے ) گناہ کے عارضی نتائج میں سے گزرنے تو دیتا ہے لیکن اُس نے ہمیں گناہ کے دائمی نتائج سے بچایا ہے ۔ کیونکہ یسوع نے ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کر دی ہے لہذا ہم دوسری موت جو کہ آگ کی جھیل ہے ( مکاشفہ 20باب 14آیت) کا کبھی سامنا نہیں کریں گے ۔ مسیح پر ایمان رکھنے والوں سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ ایک دن گناہ کی لعنت اورتمام نتائج کو مکمل طو ر پر ختم کر دیا جائے گا کیونکہ وہ "میرے تمام کوہِ مُقدّس پر نہ ضرر پُہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے " ( یسعیاہ 11باب 9آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اگر یسوع نے ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کر دی تھی تو پھر ہمیں کیوں اپنے گناہوں کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries