نجات بخش حقیقی ایمان کی چند اہم علامات کونسی ہیں؟


سوال: نجات بخش حقیقی ایمان کی چند اہم علامات کونسی ہیں؟

جواب:
یہ مسیحی زندگی میں پائے جانے والے سب سے اہم ترین سوالات میں سے ایک سوال ہے ۔ بہت سے ایماندار وں کو اپنی نجات پر شک ہوتا ہے کیونکہ اُنہیں اپنی زندگی میں حقیقی ایمان کی علامات نظر نہیں آتیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں مسیح کی پیروی کرنے کے اپنے فیصلے پر کبھی شک نہیں کرنا چاہیے مگر بائبل خود کو جانچنے کے لیے ہماری حوصلہ افزائی کرتی ہے تاکہ ہم جانیں کہ کیا ہم حقیقی " ایمان پر " ہیں یا نہیں ( 2 کرنتھیوں 13باب 5آیت)۔ خدا کا شکر ہو کہ اُس نے ہمیں کافی ایسی ہدایات دی ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے ہم یہ جان سکتے اور پُر یقین ہو سکتے ہیں کہ ہم ابدی زندگی رکھتے ہیں یا نہیں ۔ یوحنا کا پہلا خط دراصل اسی مقصد کے لئے لکھا گیا تھاجیسا کہ 1یوحنا 5باب 13آیت بیان کرتی ہے " مَیں نے تم کو جو خُدا کے بیٹے کے نام پر اِیمان لائے ہو یہ باتیں اِس لئے لکھیں کہ تمہیں معلوم ہو کہ ہمیشہ کی زِندگی رکھتے ہو ۔"

یوحنا کے پہلے خط میں ایسی آزمایشوں کا ایک سلسلہ پایا جاتا ہے جنہیں ہم اپنے آپ کو اور اپنے ایمان کو جانچنے کےلیے استعمال کر سکتے ہیں ۔ جب ہم اِن آزمایشوں پر غور کرتے ہیں تو یاد رکھیں کہ کوئی بھی شخص ایک ہی بار میں ان آزمایشوں پر مکمل طور پر پورا نہیں اُترے گا مگر اِن آزمایشوں کو اُس وقت ہمارے مستقل رجحان کو عیاں کرتے ہوئے ہماری ذات کی تصویر کشی کرنی چاہیے جب ہم فضل میں ترقی کر رہے ہوتے ہیں۔

1. کیا آپ مسیح اوراُس کے نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ رفاقت سے لطف اندوز ہوتے ہیں ؟ (1یوحنا 1باب 3آیت)۔

2. آپ کے حوالے سے لوگ کیا کہتے ہیں، کیا آپ نور میں چلتے ہیں یا پھر تاریکی میں ؟( 1-یوحنا 1باب 6-7آیات)۔

3. کیا آپ اپنے گناہوں کو مانتے اور اُن کا اقرار کرتے ہیں ؟( 1یوحنا 1باب 8آیت)۔

4. کیا آپ خدا کے کلام پر عمل کرتے ہیں؟ ( 1یوحنا 2باب 3-5آیات)۔

5. کیا آپ کی زندگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آپ دنیا کی بجائے خدا سے محبت رکھتے ہیں ؟( 1یوحنا 2باب 15آیت)۔

6. کیا آپ کی زندگی" راستبازی کے کام " کی تصویر کشی کرتی ہے ؟ ( 1یوحنا 2باب 29آیت)۔

7. کیا آپ گناہ سے پاک زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں؟ ( 1یوحنا 3باب 3آیت)۔

8. کیا آپ کو اپنی زندگی میں گناہ کا عمل دخل کم ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے؟ (1یوحنا 3باب 5-6آیات)۔}نوٹ:یہ دو باتوں کے بارے میں حوالہ ہے پہلا، گناہ آپ کی زندگی میں اب مستقل طور پر جاری نہیں ہے ، دوسرا کہ گناہ آپ کی زندگی سے مکمل طور پر ختم نہیں ہو۔{

9. کیا آپ دوسرے ایمانداروں کے ساتھ محبت بھرے سلوک کا مظاہر ہ کرتے ہیں ؟( 1یوحنا 3باب 14آیت)۔

10. کیا آپ " عمل کرنے والے " ہیں یا پھر محض " باتیں کرنےوالے " ہیں ؟( 1یوحنا 3باب 18-19آیات)۔

11. کیا آپ اپنے دل کی پاکیزگی کو قائم رکھتے ہیں ؟ ( 1یوحنا 3باب 21آیت)۔

12. کیا آپ کو مسیحی چال چلن میں کامیابی کا تجربہ ہو رہا ہے ؟ ( 1یوحنا 5باب 4آیت)۔

اگر آپ سچے دل سے اِن سوالات ( یا ان میں سے اکثرسوالات ) کا جواب "ہاں" کیساتھ دینے کے قابل ہیں اور باقی سوالات پر پر کام کر رہے ہیں تو آپ کی زندگی حقیقی نجات کا پھل پیدا کر رہی ہے ۔ یسوع نے فرمایا ہے کہ ہم اپنے کاموں کے وسیلہ سے جانے جاتے ہیں کہ ہم اُسے کے شاگرد ہیں (متی 7باب 20آیت)۔ بے پھل شاخیں( یعنی وہ دعویدار ایماندار جو رُوح کے پھل ( گلتیوں 5باب 22-23آیات) کا مظاہرہ نہیں کرتے) کاٹی اور آگ میں پھینکی جاتی ہیں ( یوحنا 15باب 6آیت)۔ حقیقی ایماندار وہ ہے جو نہ صرف خدا پر ایمان رکھتا ہے ( شیاطین بھی ایسے کرتے ہیں-یعقوب 2باب 19آیت) بلکہ مسیح کے احکامات کی پیروی کرتا اور گناہ کا اعتراف کرتا ہے ۔ یاد رکھیں کہ ہم نے اپنے اعمال کی بجائے ایمان کے وسیلہ سے نجات پائی ہے ( افسیوں 2باب 8-9آیات) مگر ہمارے اعمال کو ہماری نجات کی سچائی کو ظاہر کرنا چاہیے ( یعقوب 2باب 17-18آیات)۔ حقیقی نجات بخش ایمان ہمیشہ نیک اعمال پیداکرتا ہے ؛ایسا ایمان جو مستقل طور پر اعمال کے بغیر ہے بالکل ایمان نہیں اور نہ کسی کو نجات دے سکتا ۔

اِن تصدیقی نکات کے علاوہ ہمیں خدا کے وعدوں اور اُس جنگ کی حقیقت کو بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے جس میں ہم ملوث ہیں ۔ شیطان بھی یسوع مسیح کی طرح حقیقی ہے اور وہ ہماری جانوں کا بڑا دشمن ہے ۔ جب ہم مسیح کی طرف رجوع کریں گے تو شیطان ہمیں گمراہ کرنے اور شکست دینے کےلیے ہر موقع تلاش کرے گا ۔ وہ ہمیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرے گا کہ ہم پوری طرح ناکام اورنااہل ہیں یا خدا ہم سے دستبردار ہو گیا ہے۔ جب ہم مسیح میں ہیں تو ہمیں اس بات کی یقین دہانی ہے کہ ہم اُس کی حفاظت میں ہیں ۔ یسو ع نے خود یوحنا 17باب 11 آیت میں ہمارے لیے دُعا کی ہے کہ باپ " مَیں آگے کو دُنیا میں نہ ہوں گا مگر یہ دُنیا میں ہیں اور مَیں تیرے پاس آتا ہوں ۔ اَے قُدوس باپ! اپنے اُس نام کے وسیلہ سے جو تُو نے مجھے بخشا ہے اُن کی حفاظت کر تاکہ وہ ہماری طرح ایک ہوں۔"اور پھر 15آیت میں دُعا کرتا ہے کہ"اُس شرِیر سے اُن کی حِفاظت کر۔"

یوحنا 10باب 27-29آیات میں یسوع نے فرمایا ہے " میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں اور مَیں اُنہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔ اور مَیں اُنہیں ہمیشہ کی زِندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔ میرا باپ جس نے مجھے وہ دی ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی اُنہیں باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا"۔ اگر آپ یسوع کی آواز کو سنتے اور اُس کی پیروی کرتے ہیں تو آپ بھی اُس کی بھیڑوں میں سے ایک بھیڑ ہیں اور وہ آپ کو کبھی نہ چھوڑے گا ۔ یہاں ابدیت کی دُوہری ضمانت دیتے ہوئے یسوع ہمارے سامنے مسیحی ایمانداروں کے تحفظ کی ایک حیرت انگیز لفظی تصویر پیش کرتا ہے جن کو وہ اپنے محبت بھرے ہاتھوں میں محفوظ طریقے سے تھامے ہوئے ہے اور پھر یسوع کے ہاتھوں کو خود قادرِ مطلق با پ کے ہاتھوں نے لپیٹ رکھا ہے ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
نجات بخش حقیقی ایمان کی چند اہم علامات کونسی ہیں؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں