بائبل کی نشانات اور معجزات والی نعمتوں کا کیا مقصد تھا؟


سوال: بائبل کی نشانات اور معجزات والی نعمتوں کا کیا مقصد تھا؟

جواب:
جب ہم نشانات اور معجزات کی بائبلی نعمتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم خاص معجزات جیسا کہ غیر زبانیں بولنے ، رویائیں دیکھنے، مُردوں کو زندہ کرنے اور نبوت کرنےکا حوالہ دے رہے ہوتے ہیں ۔آیا یہ نعمتیں تھیں یا نہیں اِس حوالے سے ایمانداروں کے درمیان کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہیں پایا جاتا کیونکہ بائبل اِن کے بارےمیں واضح طور پر بیان کرتی ہے ۔بہرحال ایمانداروں کے درمیان جس بات کے بارے میں عدم ِ اتفاق پایا جاتا ہے وہ اِن نعمتوں کا مقصد ہے اور مزید یہ کہ کیا آج بھی ہم اِن نعمتوں کا تجربہ کر سکتے ہیں یا نہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نعمتیں کسی ایماندار کی نجات کی علامت ہیں جبکہ کچھ کا کہنا ہے یہ رُوح القدس کے بپتسمہ کی علامت ہیں مزید برآں دیگر لوگ کہتے ہیں کہ ان کا مقصد انجیل کے پیغام کی تصدیق کرنا ہے۔ ہم اصل حقیقت کو کیسے جا ن سکتے ہیں ؟اِن نعمتوں کے بارے میں خدا کے مقصد کو جاننے کےلیے ہمیں مختلف صحائف کے بیانات کا گہرا مطالعہ کرنا ہوگا۔

بائبل میں نشانوں اور معجزات کی نعمت کے بارےمیں سب سے پہلا حوالہ خروج 4باب میں ملتا ہے جب موسیٰ کو اسرائیل قوم کی مصر سے عنقریب آزادی کے بارے میں اطلاع اور ہدایت دی جاتی ہے۔ موسیٰ پریشان تھا کہ لوگ اُس کا یقین نہیں کریں گے کہ اُسے خدا نے بھیجا ہےلہذا خدا نے اُسے چھڑی کے سانپ بننے اور اُس کے ہاتھ کے کوڑھ زدہ ہونے جیسے نشانات و معجزات بخشے ۔ خدا نے اُس سے کہا یہ تمہارے کےلیے نشان و معجزات ہیں "تاکہ وہ یقین کریں کہ خُداوند اُن کے باپ دادا کا خُدا ابرہام کا خُدا اِضحاق کا خُدا اور یعقوب کا خُدا تجھ کو دِکھائی دِیا" ( 5آیت)۔ خدا نے موسیٰ سے کہا کہ اگر لوگ پھر بھی یقین نہ کریں تو دریائے نیل کے پانی کو لے کر زمین پر ڈال دینا تو وہ خون بن جائے گا ( 9آیت)۔ بنی اسرائیل کےلیے اِن تمام نشانوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر کا یقین کریں۔

خدا نے خصوصی طور پر فرعون کو دکھانے کے لیے موسیٰ کو معجزاتی نشان بھی بخشے تاکہ وہ بنی اسرائیل کو جانے دے ۔ خروج 7باب 3-5آیات میں خدا نے موسیٰ کو بتایا کہ وہ مصر میں اپنے نشان و عجائب کو کثرت سے دکھائے گا تاکہ " مَیں جب مصر پر ہاتھ چلاؤں گا اور بنی اِسرائیل کو اُن میں سے نکال لاؤں گا تب مصری جانیں گے کہ مَیں خُداوند ہُوں۔" خروج 10باب 7آیت میں موسیٰ نے فرعون کو آخری آفات کے بارے میں بتایا جس میں مصر کے پہلوٹھے مارے جائیں گے جو اس بات کا اظہار تھا کہ خدا نے مصریوں اور اسرائیلیوں کے درمیان فرق کیا تھا ۔ نشانات و معجزات نے فرعون اور مصریوں کے سامنے خدا کے پیغام کی تصدیق کی تھی تاکہ وہ جان لیں کہ موسیٰ خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہے ۔

جب ایلیاہ نے کوہِ کرمل پر جھوٹے نبیوں کا مقابلہ کیا تھا تو اُس نے خدا سے دُعا کی کہ وہ معجزاتی طور پر آسمان سے آگ بھیجے تاکہ لوگ جان لیں کہ "تُو ہی خُدا ہے اور مَیں تیرا بندہ ہُوں اور مَیں نے اِن سب باتوں کو تیرے ہی حکم سے کِیا ہے۔ میری سن اَے خُداوند میری سن تاکہ یہ لوگ جان جائیں کہ اَے خُداوند تُو ہی خُدا ہے اور تُو نے پھر اُن کے دِلوں کو پھیر دِیا ہے" ( 36-37آیات)۔ وہ معجزات جو ایلیاہ اور دوسرے نبیوں نے کئے تھے وہ اس بات کی تصدیق تھے کہ اِن نبیوں کو خدا نے بھیجا تھا اور یہ بھی کہ خدا اسرائیل میں کام کر رہا تھا ۔

یوایل کو اسرائیل پر خدا کی عدالت کا پیغام دیا گیا اور اس پیغام میں رحم اور اُمید کی پیشن گوئی بھی تھی۔ جب نبوت کے مطابق عدالت نازل ہوئی اور لوگوں نے اس عدالت کے ردّعمل میں توبہ کی تو خدا نے فرمایا کہ وہ عدالت کو ختم کردے گا اوراپنی برکت کو بحال کر دے گا " تب تم جانو گے کہ مَیں اِسرائیل کے درمیان ہوں اور مَیں خُداوند تمہارا خُدا ہوں اور کوئی دُوسرا نہیں اور میرے لوگ کبھی شرمندہ نہ ہوں گے" (یوایل 2باب 27آیت)۔ اس بیان کے فوراً بعد خدا نے لوگوں پر اپنا رُوح نازل کرنے کے بارے میں فرمایا اور بتایا کہ رُوح کے نزول کی بدولت طرح وہ نبوت کریں گے ، رویائیں دیکھیں گے اور عجائبات ہوتے دیکھیں گے ۔ جب عید پنتیکست کے دن شاگردوں نے غیر زبانیں بولنا شروع کیں (اعمال 2باب 1-21آیات) تو پطرس رسول نے کہا کہ "یہ وہ بات ہے جو یُوا یل نبی کی معرفت کہی گئی ہے " ۔ اس کا کیا مقصد تھا ؟

یسوع مسیح کی خدمت بھی مختلف طرح کے نشانوں اور عجائب کی حامل تھی۔ اُس کے معجزات کا کیا مقصد تھا؟ ۔ یوحنا 10باب 37-38آیات میں یسوع نے اُن یہودیوں کو جو اُس کے بیانات کو کفر قرار دے کراُسےسنگسار کرنا چاہیے جواب دیتے ہوئے فرمایا " اگر مَیں اپنے باپ کے کام نہیں کرتا تو میرا یقین نہ کرو۔ لیکن اگر مَیں کرتا ہوں تو گو میرا یقین نہ کرو مگر اُن کاموں کا تو یقین کرو تاکہ تم جانو اور سمجھو کہ باپ مجھ میں ہے اور مَیں باپ میں۔" پرانے عہد نامے کی طرح یسوع مسیح کے معجزات کا مقصد بھی اس بات کی تصدیق تھی کہ اُس کے بھیجے ہوئے پر خدا کا ہاتھ ہے ۔

جب فریسیوں نے یسوع کو کوئی نشان ظاہر کرنے کو کہا تو یسوع نے فرمایا کہ "اِس زمانہ کے بُرے اور زِناکار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یُوناہ نبی کے نشان کے سِوا کوئی اَور نشان اُن کونہ دِیا جائے گا۔ کیونکہ جیسے یُو ناہ تین رات دِن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی اِبنِ آدم تین رات دِن زمین کے اندر رہے گا۔ نینو ہ کے لوگ عدالت کے دِن اِس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اِن کومجرم ٹھہرائیں گے کیونکہ اُنہوں نے یُو ناہ کی مُنادی پر تَوبہ کر لی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو یُو ناہ سے بھی بڑا ہے"۔ ( متی 12باب 39-41آیات)۔ یسوع پوری طرح جانتا تھا کہ کسی نشان و معجزے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ خدا کے پیغام کو تسلیم کریں اور اُس کے مطابق رد عمل دیں ۔ اسی طرح سے یوحنا 4باب 48آیت میں اُس نے بادشاہ کے ملازم سے فرمایا تھا کہ "جب تک تم نشان اور عجیب کام نہ دیکھو ہرگز اِیمان نہ لاؤ گے۔" نشان و معجزات اُن لوگوں کےلیے مدد گار تھے جنہیں ایمان لانے میں مشکل کا سامنا تھا لیکن مسیح میں نجات کا پیغام ان سب نشانات و معجزات کا مرکزی نقطہ تھا۔

نجات کے اس پیغام کو پولس رسول نے 1کرنتھیوں 1باب 21-23آیات میں بیان کیا ہے : "خُدا کو یہ پسند آیا کہ اِس منادی کی بیوقُوفی کے وسیلہ سے اِیمان لانے والوں کو نجات دے۔ چنانچہ یہودی نشان چاہتے ہیں اور یُونانی حکمت تلاش کرتے ہیں۔ مگر ہم اُس مسیح مصلوب کی منادی کرتے ہیں جو یہودیوں کے نزدِیک ٹھوکر اور غیر قوموں کے نزدِیک بیوقُوفی ہے۔" نشان ومعجزات کے خا ص مقاصد ہیں لیکن یہ سب سے بڑے مقصد یعنی انجیل کے پیغام کے وسیلہ سے رُوحوں کی نجات کا ایک ذریعہ ہیں ۔1کرنتھیوں 14باب 22آیت میں پولس رسول واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ "پس بیگانہ زُبانیں اِیمان داروں کے لئے نہیں بلکہ بے اِیمانوں کے لئے نشان ہیں۔ " خدا نے غیر ایمانداروں کو اس بات پر قائل کرنے کےلیےمعجزاتی نشانوں جیسا کہ غیر زبانیں بولنے کی نعمت کو استعمال کیا کہ مسیح کا پیغام سچا ہے لیکن جیسا کہ باقی کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ اہم بات انجیل کے پیغام کی واضح منادی کرنا تھا ۔

ایک بات جو نشان و معجزات کی نعمتوں کے بارے میں کی جانے والے گفتگو میں اکثر نظر انداز کی جاتی ہے وہ مختلف صحائف میں اِن نعمتوں کا وقت اور مقام ہے ۔ مشہور عقیدے کے برعکس بائبل کے تمام ادوار میں پائے جانے والے لوگوں نے ہر وقت معجزات کا تجربہ نہیں کیا تھا درحقیقت بائبل کے معجزات عام طور پر اُن واقعات کے ارد ِ گرد گھومتے ہیں جن میں بنی نو ع انسان کے ساتھ خدا کے عمل دخل کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ بنی اسرائیل کی مصر کی غلامی سے رہائی اور وعدے کی سرزمین میں داخل ہونا بہت سے معجزات کے ہمراہ رونما ہوا تھا لیکن اس کے فوراً ہی بعد یہ معجزات بند ہو گئے ۔ بادشاہی کے بعد کے سالوں میں جب خدا لوگوں کو جلا وطن کرنے والا تھا اُس نے کچھ نبیوں کو معجزات کرنے کی قوت بخشی تھی۔ جب یسوع ہمارے درمیان رہنے کےلیے آیا تھا تواُس نے بہت سے معجزات کئے تھے اور اپنی خدمت کی ابتداء میں رسولوں نے بھی معجزات کئے تھے مگر اِن خاص اوقات کے باہر ہمیں بائبل میں بہت کم معجزات یا نشان دکھائی دیتے ہیں ۔ بائبل کےدور میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت نے کبھی بھی اپنی آنکھوں سے نشانوں اور عجائب کو نہیں دیکھا تھا ۔ اُنہیں اُس ایمان کے ساتھ زندہ رہنا تھا جو خدا نے پہلے ہی اُن پر عیاں کر دیا تھا ۔

ابتدائی کلیسیا میں نشان و معجزات بنیادی طور پر لوگوں کے مختلف گروہوں میں خوشخبری کی پہلی پیش کش سے جڑے ہوئے تھے ۔ ہم پڑھتے ہیں کہ عید ِ پنتیکست کے دن " ہر قوم میں سے جو آسمان کے تلے ہے خُدا ترس یہودی یروشلیم " میں جمع ہوئے تھے ( اعمال 2باب 5آیت)۔ غیر زبانیں بولنا اُن یہودیوں کےلیے نشان تھا جو الگ الگ ملکوں میں پلے بڑھے تھے اور مختلف طرح کی زبانیں بولتے تھے ( 6-11آیات)۔ اُنہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ خدا کے حیرت انگیز کارناموں کے بارے میں اپنی مادری زبان میں سن رہے تھے اور پطر س رسول نے اُن کو بتایا کہ اُن کا بہترین ردّعمل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کریں( 38آیت)۔ جب خوشخبری کا پیغام پہلی بار سامری لوگوں کے درمیان پیش کیا گیا تو فلپس کے وسیلے معجزات ہوئے تھے ( اعمال 8باب 13آیات)۔

ایک بار پھر جب پطرس رسول کو ایک غیر یہودی کرنیلیس کے پاس بھیجا گیا تھا تو خدا نے اُس کی خدمت کی تصدیق کے لیے معجزہ کیا تھا "اور پطر س کے ساتھ جتنے مختون اِیمان دار آئے تھے وہ سب حیران ہُوئے کہ غیر قوموں پر بھی رُوح القُدس کی بخشش جاری ہوئی۔ کیونکہ اُنہیں طرح طرح کی زُبانیں بولتے اور خُدا کی تمجید کرتے سنا ۔ " ( اعمال 10باب 45-46آیات)۔ اور جب دوسرے رسولوں نے اس بارے میں پطرس رسول سے سوال کیا تو اُس نے اس معجزے کو خدا کی طرف سے رہنمائی کے طور پر پیش کیا اور دوسرے لوگ"خُدا کی تمجید کر کے کہنے لگے کہ پھر تو بے شک خُدا نے غیر قوموں کو بھی زِندگی کے لئے توبہ کی توفیق دی ہے"(اعمال 11باب 18آیت)۔

ہر واقعے میں نشان و معجزات کی نعمتیں خدا کے پیغام اور اُس کے بندوں کی تصدیق کے لیے تھے تاکہ لوگ اُس پیغام کو سنیں اور ایمان لائیں ۔ ایک بار جب پیغام کی تصدیق ہو جاتی تو معجزات کا سلسلہ ختم ہو جاتا تھا ۔ ان نشانات و معجزات کے خاص طور پر ہماری زندگیوں میں دہرائے جانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہمیں اس خوشخبری کے پیغام کو قبول کرنے کی ضرورت ہے ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
بائبل کی نشانات اور معجزات والی نعمتوں کا کیا مقصد تھا؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں