settings icon
share icon
سوال

کیا خدا ہم سب سے توقع رکھتا ہے کہ ہم سب بچّے پیدا کریں؟

جواب


اصل معاملہ یہ نہیں ہے کہ آیا خُدا ہم سے بچّے پیدا کرنے کی "توقع" رکھتا ہے یا نہیں کیونکہ وہ خودمختار اور علیم کُل ہے اور جانتا ہے کہ کس کے بچّے ہوں گے اور کس کے نہیں۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا مسیحیوں کے لیے بچّے پیدا کرنا ضروری ہے یا نہیں اور کیا بچّوں کے بغیر ہم مسیح میں ایک مکمل اورفرمانبردار زندگی گزار سکتے ہیں۔

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ بچّے خدا کی طرف سے ایک نعمت ہیں۔ 127زبور 3-5آیات بیان کرتی ہیں "دیکھو! اَولاد خُداوند کی طرف سے مِیراث ہے اور پیٹ کا پھل اُسی کی طرف سے اَجر ہے۔ جوانی کے فرزند اَیسے ہیں جیسے زبردست کے ہاتھ میں تِیر۔ خوش نصیب ہے وہ آدمی جس کا ترکش اُن سے بھرا ہے۔ جب وہ اپنے دُشمنوں سے پھاٹک پر باتیں کریں گے تو شرمِندہ نہ ہوں گے"۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جن لوگوں کی اولاد نہیں وہ بابرکت نہیں یا یہ کہ محض اولاد ہی خدا کی نعمت ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ بچّوں کو مصیبت یا زحمت کی بجائے ایک نعمت کے طور پر دیکھا جائے۔

جب خُدا نے آدم اور حوّا کو تخلیق کیاتو "خُدا نے اُن کو برکت دی اور کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمُور و محکُوم کرو "(پیدایش 1باب 28آیت)۔ طوفان کے بعد خُدا نے نوح سے فرمایا کہ "باروَر ہو اور بڑھو اور زمین کو معمُور کرو"(پیدایش 9باب 1آیت)۔ افزایش نسل انسانیت کے لیے خُدا کے حکم کا حصہ ہے اور وہ یقیناً بیشتر لوگوں سے بچّے پیدا کرنے کی "توقع" رکھتا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ابرہام کے ساتھ خدا کے عہد کا ایک حصہ ابرہام کی طرف سے بچّے پیدا کرنا بھی تھا۔ اُس نے ابرہام سے فرمایا کہ " اور مَیں تجھے ایک بڑی قَوم بناؤں گا اور برکت دُوں گا اور تیرا نام سرفراز کرُوں گا۔ سو تُو باعثِ برکت ہو! جو تجھے مُبارک کہیں اُن کو مَیں برکت دُوں گا اور جو تجھ پر لعنت کرے اُس پر مَیں لعنت کرُوں گا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائیں گے" (پیدایش 12باب 2-3آیات)۔ اس وعدے کی تکمیل بالآخر ، نجات دہندہ یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہوئی جو مکمل خدا اور مکمل انسان ہے - اور جو ابرہام کی نسل سے پیدا ہوا تھا۔

پرانے عہد نامے میں، بچّوں کو خدا کی طرف سے برکت کےایک ظاہر ی نشان کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ باوجود اس کے کہ اُس وقت کے زیادہ تر لوگوں نے اس بارے میں الگ الگ طرح سے محسوس کیا تھا لیکن بانجھ پن خدا کی ناراضگی کی ایک قابل اعتماد علامت نہیں تھی۔ بائبل میں القانہ اور حنہ (سموئیل نبی کے والدین)، ابرہام اور سارہ (اضحاق کے والدین) اور زکریاہ اور الیشبع (یوحنا بپتسمہ دینے والے کے والدین) جیسے بہت سے جوڑے خدا پرست مرد و خواتین تھے اور وہ برسوں سے بانجھ تھے ۔

نئے عہد نامے میں بچّوں کو بے شک اب بھی ایک نعمت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ خُداوند یسوع نے بچّوں کو قبول کیا اور اپنے شاگردوں کو سکھایا کہ بچّے خدا کی بادشاہی کی بہت سی اقدار کی مثال پیش کرتے ہیں۔ پولس رسول نے والدین اور بچّوں کو باہمی میل ملاپ سے رہنے کے بارے میں ہدایات کیں (افسیوں 6باب 1-4آیات )۔ کلیسیا میں نگہبان کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ اگر وہ شادی شدہ ہے اور اُس کے بچّوں ہیں تو اُس سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھر کا بخوبی بندوبست کرتا ہو؛ اگر وہ اپنے خاندان کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا تو وہ ممکنہ طور پر کلیسیا کی دیکھ بھال کرنے کے قابل بھی نہیں ہے (1تیمتھیس 3باب 4-5آیات)۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خاندان خدا کے نزدیک بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن نیا عہد نامہ جسمانی برکات کی بجائے رُوحانی طور پر پھلنے اور بڑھنے پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ خُداوند یسوع پر ایمان لانے والے لوگ خدا کے فرزند بن جاتے ہیں (یوحنا 1باب 12آیت)۔ بنیادی طور پر یہ اس کا خاندان ہے جسے ہم بڑھانا اور پھیلانا چاہتے ہیں۔ہمیں فقط بچّے پیدا نہیں کرنے بلکہ شاگردبھی بنانے ہیں (متی 28باب 19آیت)۔

اس بات کے قطع ِ نظر کوئی بچّہ کسی کی زندگی کا کیسے حصہ بنتا ہے بچّے خدا کی طرف سے ایک نعمت ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ۔ لیکن اگرچہ خُدا نے اولاد کو اپنی طرف سے ایک نعمت قرار دیا ہے اور افزایش نسل انسانیت کے لیے خدا کے حکم کا ایک بڑا حصہ ہے، بائبل میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ ہر شادی شدہ جوڑے کے لیے بچّے پیدا کرنا یا اِس چیز کی خواہش کرنا ضروری ہے ۔ ایک بار پھر زندگی کے کسی بھی حصے میں بانجھ پن خدا کی ناراضگی کی علامت نہیں ہے۔ بے اولاد جوڑے خُدا کی بادشاہی میں اُن جوڑوں سےکم قیمتی یا کم اہم نہیں ہیں جن کی اولاد ہے ۔ درحقیقت، کوئی شخص یہ دلیل دے سکتا ہے کہ بے اولاد جوڑے اُن جوڑوں کی نسبت جن کے بچّے ہیں اپنی توانائی اور توجہ کا زیادہ حصہ بادشاہی کے کاموں میں صرف کرنے کے قابل ہوتے ہیں ، بالکل اُن لوگوں کی طرح جو غیر شادی شدہ ہیں (دیکھیں 1 کرنتھیوں 7باب 32آیت )۔ خدا کا ہر بچّہ چاہے وہ شادی شدہ، غیر شادی شدہ، بچّوں کے ساتھ، یا بچّوں کے بغیر ہے خُدا کے خاندان کا ایک اہم رکن اور مسیح کے بدن کا ایک لازمی عضو ہے۔ ہر فرد اور ہر جوڑے کے لیے خدا کی مرضی خاص طور پر الگ الگ ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے خدا کی مرضی میں بچّوں کا ہونا شامل ہے چاہے وہ قدرتی طور پر پیدا کرتے یا گود لیتے ہیں ۔ دیگر لوگوں کے لیے اُس کی مرضی میں بچّے کا ہونا شامل نہیں ہے۔

ایسے لوگ جو بچّے چاہتے ہیں لیکن کسی وجہ سے پیدا کرنے سے قاصر ہیں اُن کے لیے دُعا میں خدا کے حضور اس خواہش کا اقرار کرنا بہتر ہوگا۔ وہ اس درد بھر ےسفر میں سے گزرنے میں آپ کی مدد کر سکتاہے اور اس عرصے میں اُس کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے میں بھی آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ جو لوگ اولاد کی خواہش نہیں رکھتے اُن کے لیے بھی بہتر ہے کہ وہ دُعا میں خدا کے حضور اِس خواہش کا اقرار کریں۔ بعض اوقات ہمارے اندر اس خواہش کا فقدان خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ مگر دیگر اوقات میں یہ ماضی کے درد، خوف یا خود غرضی کے باعث ہوتا ہے۔ جب ہم ایمانداری سے اپنے دلوں کو خُدا کے حضور کھولتے ہیں تو وہ کسی بھی گڑبڑ کو واضح کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے ، وہ ہمیں شفا بخشتا اور اپنے مرضی کے مطابق ہمیں خواہشات عطا کرتاہے۔

ہماری زندگیوں میں یہ بڑا آسان ہے کہ ہماری خواہشات بُت کا درجہ اختیار کر جائیں ۔یہاں تک کہ اچھی خواہشات بھی جب ہماری زندگیوں میں خدا کی جگہ لے لیتی ہیں وہ بُت بن جاتی ہیں۔ ہمارے حالاتِ زندگی یا مقام سے قطعِ نظر ہم سب کے لیے اپنے دِلوں کی جانچ کرنا، دعا میں خُدا کے ساتھ ایماندار ہونا، اُس کے کلام میں حکمت کی تلاش کرنا ، اور اپنی زندگیاں اُس کے لیے وقف کرنا بہتر ہے۔ بالآخر، یہ خُدا ہی ہے جو ہمارے دلوں کو اطمینان بخشتا ہےاور ہماری زندگیاں صرف اُس کے جلال کے لیے بسر کی جانی چاہییں (رومیوں 12باب 1-2آیات؛ 37زبور)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا خدا ہم سب سے توقع رکھتا ہے کہ ہم سب بچّے پیدا کریں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries