settings icon
share icon
سوال

شکینہ جلال کیا ہے ؟

جواب


لفظ شکینہ(الہی موجود گی کا قابل ِ دید ظہور) بائبل میں درج نظر نہیں آتا مگر یہ تصور واضح طور پر موجود ہے۔یہودی ربیوں نے اِس تصور کو ایجاد کیا جس کا ذکر بائبل کے اندر درج نہیں ہے، اُنہوں نے اِس کے لیے ایک ایسا عبرانی لفظ استعمال کیا جس کے لفظی معنی ہیں "اُس نے قیام کرنے کے لیےخود ظاہر کیا " اور یہ اصطلاح اِس زمین پر خُداوند خُدا کی موجودگی یا قیام کے الٰہی دورے کی نشاندہی کرتی ہے ۔ شکینہ جلال سب سے پہلے اُس وقت ظاہر ہوا تھا جب بنی اسرائیل خروج کے وقت مصر سے نکل کرسکات سے روانہ ہوئے تھے ۔ وہاں خداوند دن میں بادل کے ستون میں اور رات کو آگ کے ستون میں ظاہر ہوتا: "اُنہوں نے سکّات سے کُوچ کر کے بیابان کے کنارے ایتا م میں ڈیرا کِیا۔اور خُداوند اُن کو دِن کو راستہ دِکھانے کے لئے بادل کے سُتُون میں اور رات کو روشنی دینے کے لئے آگ کے سُتُون میں ہو کر اُن کے آگے آگے چلا کرتا تھا تاکہ وہ دِن اور رات دونوں میں چل سکیں۔وہ بادل کا سُتُون دِن کو اور آگ کا سُتُون رات کو اُن لوگوں کے آگے سے ہٹتا نہ تھا" (خروج 13 باب 20-22آیات)۔

خروج 33باب میں خُدانے موسیٰ سے بادل کے ستون میں سے ہم کلام ہوتے ہوئے اُسے یقین دلایا کہ اُس کی موجودگی بنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ رہے گی (9 آیت)۔ 11 آیت بیان کرتی ہے کہ خُدا موسیٰ سے بادل میں سے "روبرو" بات کرتا تھا لیکن جب موسیٰ نے خُدا کے جلال کو دیکھنے کے لیے کہاتو خُدا نے اُس سے کہا" تُو میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتا کیونکہ انسان مجھے دیکھ کر زندہ نہیں رہے گا"(20آیت )۔ لہٰذا، خدا کے جلال کا یہ دیدنی مظہر بظاہر کسی حد تک ہلکا تھا۔ جب موسیٰ نے خدا کے جلال کو دیکھنے کے لئے کہا تو خدا نے موسیٰ کو ایک چٹان کے شگاف میں چھپا دیا اور اُسے اُس وقت تک اپنے ہاتھ سے ڈھانکے رکھا جب تک وہ وہاں سے گزر نہ گیا ۔ پھر جب اس نے اپنا ہاتھ ہٹاتا تو موسیٰ نے اُسے صرف پشت سے دیکھا ۔ اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کا جلال اتنا زبردست اور طاقتور ہے کہ انسان ا ُسے پورے طور پر دیکھ نہیں سکتا۔

خدا کی موجودگی کا دیدنی ظہور نہ صرف بنی اسرائیل نے بلکہ مصریوں نے بھی دیکھا تھا: "رات کے پچھلے پہر خُداوند نے آگ اور بادل کے سُتُون میں سے مصر یوں کے لشکر پر نظر کی اور اُن کے لشکر کو گھبرا دِیا۔اور اُس نے اُن کے رتھوں کے پہیّوں کو نِکال ڈالا ۔ سو اُن کا چلانا مُشکل ہو گیا ۔ تب مِصر ی کہنے لگے آؤ ہم اِسرائیلیوں کے سامنے سے بھاگیں کیونکہ خُداوند اُن کی طرف سے مِصر یوں کے ساتھ جنگ کرتا ہے۔ "(خروج 14باب 24-25 آیات)۔ خُدا کے شکینہ جلال کی موجودگی اُس کے دشمنوں کو یہ باور کرانے کے لیے کافی تھی کہ وہ ایسی ہستی نہیں ہے جس کے خلاف مزاحمت کی جا سکے ۔

نئے عہد نامے میں یسوع مسیح خُدا کے جلال کا مسکن ہے۔ کلسیوں 2باب 9آیت ہمیں بتاتی ہے کہ "اُلُوہِیّت کی ساری معمُوری اُسی میں مُجسّم ہو کر سکونت کرتی ہے۔ " اور اسی لیے خداوند یسوع نے فلپس سے فرمایا کہ " جس نے مُجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا " (یوحنا 14باب 9آیت )۔ مسیح یسوع یعنی تثلیث کے دوسرے اقنوم میں ہم خود خُدا کا دیدنی مظہر دیکھتے ہیں۔ اگرچہ اُس کاجلال بھی مخفی تھا اِس کے باوجود یسوع زمین پر خدا کی موجودگی ہے۔ جس طرح یروشلیم میں ہیکل کی تعمیر سے پہلے الٰہی موجودگی خیمہ اجتما ع کہلانے والے نسبتاً ایک سادہ خیمے میں سکونت پذیر تھی اُسی طرح الٰہی موجودگی نسبتاًایک عام آدمی یسوع میں تھی ۔ "نہ اُس کی کوئی شکل و صُورت ہے نہ خُوب صورتی اور جب ہم اُس پر نِگاہ کریں تو کچھ حسن و جمال نہیں کہ ہم اُس کے مُشتاق ہوں"(یسعیاہ53باب 2آیت )۔ لیکن جب ہم آسمان پر جائیں گے تو ہم بیٹے اور باپ دونوں کو اُن کے پورے جلال میں دیکھیں گے اور شکینہ جلال مزید پرد ے میں نہیں رہے گا (1 یوحنا 3باب 2آیت )۔



English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

شکینہ جلال کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries