settings icon
share icon
سوال

خواتین کے مقابلے میں مردوں کے لیے جنسی آزمائش زیادہ بڑا مسئلہ کیوں ہے ؟

جواب


اگرچہ عورتیں بھی کسی طرح سے جنسی تحریص/آزمائش سے محفوظ نہیں ہیں مگر مرد عام طور پر جنسی تحریص/آزمائش کے حوالے سے زیادہ بڑے پیمانے پر کشمکش کا شکار ہوتے ہیں۔ عورتوں کی نسبت مرد کہیں زیادہ بدکاری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ شادی سے پہلے کے تعلقات کے دوران مردعورتوں کے مقابلے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کی ممکنہ طور پر کہیں زیادہ کوشش کرتے ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟ جنسی تحریص/آزمائش عورتوں کی نسبت مردوں کے لیے بڑا مسئلہ کیوں ہے؟ بائبل اس "کیوں" کا جواب دینے کی کوشش نہیں کرتی ہے۔ اِس کے بجائے بائبل یہ واضح کرتی ہے کہ جنسی بے راہروی ہمیشہ سے ایک گناہ ہے (اعمال 15باب 20 آیت ؛ 1 کرنتھیوں 5باب 1آیت ؛ 6باب 13، 18آیات ؛ 10باب 8آیت ؛ 2 کرنتھیوں 12باب 21آیت ؛ گلتیوں 5باب 19آیت ؛ افسیوں 5باب 3آیت ؛ کلسیوں 3باب 5آیت ؛ 1 تھسلنیکیوں 4باب 3آیت ؛ یہوداہ 7آیت )۔ )۔ یہ حقیقت کہ جنسی تحریص/آزمائش پر قابو پانا مردوں کے لیے اکثر زیادہ مشکل ہوتا ہے , یقیناً کوئی عذر نہیں ہے۔ "مزاحمت کرنا بہت مشکل ہے" یہ بھی کوئی وضاحت نہیں ہے جسے خدا اِس معاملے میں کسی مرد یا عورت سے قبول کرے گا۔ ایک بار پھر، جنسی بے راہروی ہمیشہ سے ایک گناہ ہے ۔ لہٰذا جنسی تحریص/آزمائش پر قابو رکھا جانا چاہیے (1کرنتھیوں 6باب18آیت) چاہے تحریص/ آزمائش شدید ہو یا معمولی اور چاہے آزمایا جانے والا شخص مرد ہو یا عورت۔

چونکہ بائبل اس بات کا خاص طور پر جواب نہیں دیتی ہے کہ جنسی تحریص/آزمائش عورتوں کے مقابلے میں مردوں کے لیے بڑی جدوجہد کیوں ہے، لہذاہم گہری سمجھ کے لیے علم ِ حیاتیات /علم ِ افعال الاعضا پر غور کر سکتے ہیں۔ علم ِ افعال الاعضا کے مطابق مردوں میں جنسی خواہش عام طور پر عورتوں کی نسبت زیادہ شدید ہوتی ہے۔ فطری طور پر مرد جنسیت کے بارے میں اکثر زیادہ بارسوچتے اور عورتوں کے مقابلے میں جنسی ملاپ کی زیادہ کثرت سے خواہش رکھتے ہیں۔ خصوصاً جب جنسی ملاپ میں کچھ دیر ہوتی ہے تو مرد کا جسم اُس احساس کی زیادہ خواہش کرتا ہے جو جنسی ملاپ فراہم کرتا ہے۔پھر یہ بات اس حقیقت سے ملی ہوئی ہے کہ عورتوں کی نسبت مردوں کے جذبات محض کسی کو دیکھنے سے کہیں زیادہ آسانی سے بھڑک جاتے ہیں (اور اِس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مرد فحش نگاری کا زیادہ رجحان کیوں رکھتے ہیں)۔ کسی مرد کی جنسی خواہش کو بھڑکانے کے لیے کبھی کبھار توکسی پُرکشش خاتون کی ایک جھلک ہی کافی ہوتی ہے۔ اگر جنسی خیال کو(خدا کی مدد سے) فوری طور پر ترک نہیں کیا جاتا تو یہ جنسی تحریص/آزمائش کا ایک بہتا دریا بن سکتا ہے جس کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

ایک بار پھر کہا جاتا ہے کہ مردانہ جنسی خواہش ایک حقیقت ہے مگرعذر نہیں۔ اگر کوئی آدمی جنسی تحریص/آزمائش کے سامنے مغلوب ہو جاتا ہے تو وہ اپنے آ پ کے سوا کسی اور کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتا۔ 1 کرنتھیوں 10باب 13آیت بیان کرتی ہے کہ "تُم کِسی اَیسی آزمایش میں نہیں پڑے جو اِنسان کی برداشت سے باہر ہو اور خُدا سچّا ہے۔ وہ تم کو تمہاری طاقت سے زِیادہ آزمایش میں نہ پڑنے دے گا بلکہ آزمایش کے ساتھ نکلنے کی راہ بھی پیدا کر دے گا تاکہ تم برداشت کر سکو ۔" اگر ہم خدا کی طرف سے فراہم کردہ"فرار کے عمل " سے فائدہ نہیں اٹھاتے ہیں تو ہمارے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ جنسی تحریص/آزمائش طاقتور ہو سکتی ہے اور جنسی گناہ سب سے زیادہ تباہ کن ہے (1 کرنتھیوں 6باب 18آیت)۔ مگر خدا کی مدد سے جنسی تحریص کو شکست دی جا سکتی ہے۔ یہی مردوں اور عورتوں کے لیے یکساں طور پر درست ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خواتین کے مقابلے میں مردوں کے لیے جنسی آزمائش زیادہ بڑا مسئلہ کیوں ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries