ایک مسیحی شادی شدہ جوڑے کو جنس میں کیا کرنا / نہیں کرنا ہے؟



سوال: ایک مسیحی شادی شدہ جوڑے کو جنس میں کیا کرنا / نہیں کرنا ہے؟

جواب:
کلام پاک کہتا ہے کہ بیاہ کرنا سب میں عزت کی بات سمجھی جائے اور بستر بے داغ رہے۔ کیونکہ خدا حرامکاروں اور زانیوں کی عدالت کریگا ( عبرانیوں 13:4)۔ کلام پاک کبھی یہ نہیں کہتا کہ ایک شوہر اور بیوی کو جنس میں ہوتے ہوئے کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا چاہئے مگر شوہروں اور بیویوں کو تعلیم دیتا ہے " تم ایک دوسرے سے جدا نہ رہو مگر تھوڑی مدت تک آپس کی رضامندی سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " (1کرنتھیوں 7:50)۔ یہ آیت شاید شادی میں جنسی رشتہ کے لئے اصول قائم کرتا ہے۔ جو کچھ کیا گیا وہ آپس کی رضامندی سے منظور کیا جانا چاہئے۔ کسی ایک کو بھی کچھ کرنے کے لئے حوصلہ افزائی یا دباؤ نہیں ڈالنی چاہئے یا بیوی کو جس کی وجہ سے غیر سہولیت محسوس ہو ایسا کام نہ کریں۔ اگر ایک شوہر اور بیوی دونوں رضامند ہیں کہ وہ کچھ اور کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں (مثال بطور زبانی جنس، فرق فرق حالت یا انداز، جنسی کھلونے کا استعمال وغیرہ ) اور پھر کلام پاک کوئی سبب پیش نہیں کرتا کہ وہ جوڑے میں سے ایک جنس میں شامل کیوں نہیں ہوسکتا۔

کچھ باتیں ہیں حالانکہ یہ ایک شادی کے جوڑے کے لئے کبھی بھی اجازت کے لائق نہیں ہیں۔ "مبادلہ کو عمل میں لانا" یا " مستزاد کرنا" وغیرہ۔ یہ سنگیں زناکاری ہے (گلتیوں 5:19؛ کلسیوں 3:5؛ 1تھسلنیکیوں 4:3)۔ زناکاری گناہ ہے یہاں تک کہ وہ آپکے شریک حیات کے اشارہ پر یا منظوری سے ہی کیوں نہ انجام دیا جائے یا اس میں اگر آپ کا شریک حیات خود بھی شامل کیوں نہ ہو تب بھی یہ گناہ ہے۔ یہ ساری چیزیں فحش نگاری میں شامل کئے جاتے ہیں۔ فحش نگاری میں جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش یہ سب دنیا کی طرف سے ہے ( 1 یوحنا 2:16)۔ اس لئے ان ساری چیزوں سے خدا بھی ملامت کرتا ہے۔ ایک شوہر اور ایک بیوی کو کبھی بھی اپنی جنسی رفاقت مین فحش نگاری کو شامل نہیں کرنی چاہئے۔ ورنہ ان دوباتوں کو کلام پاک خاص طور سے ایک شوہر اور بیوی کو کرنے کے لئے منع نہیں کرتا کہ وہ اس کو آپس میں تب کریں جب تک انکی آپسی منظوری بنی ہوی ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



ایک مسیحی شادی شدہ جوڑے کو جنس میں کیا کرنا / نہیں کرنا ہے؟