settings icon
share icon
سوال

دانی ایل کی پیشین گوئی میں درج ستر(70) ہفتے کیا ہیں ؟

جواب


"ستر ہفتوں" کی پیشین گوئی مسیحا کے بارے میں پرانے عہد نامے کی سب سے اہم اور تفصیلی پیشین گوئیوں میں سے ایک ہے۔ یہ دانی ایل 9باب میں پائی جاتی ہے۔ باب کا آغاز دانی ایل کے اسرائیل کے لیے دعا کرنے، خُدا کے خلاف قوم کے گناہوں کا اعتراف کرنے اور خُدا سے رحم کی التجا کرنے کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب دانی ایل دُعا کرتا ہے توجبرائیل فرشتہ اُس پر ظاہر ہوتا اور اُس پر اسرائیل کے مستقبل کی رویا عیاں کرتا ہے ۔

70 ہفتوں کی تقسیم

24 آیت میں جبرائیل کہتا ہے کہ "تیرے لوگوں اور تیرے مُقدّس شہر کے لئے ستّر ہفتے مُقرّر کئے گئے ۔" تقریباً تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ ستر "ہفتوں "کو سالوں پر مشتمل ستر "ہفتے" (ہر ہفتے میں سات سال ) یعنی 490 سال کے عرصہ کے طور پر سمجھا جانا چاہیے ۔ یہ آیات ایک طرح کی "گھڑی" فراہم کرتی ہیں جو اس بات کا اندازہ لگانے میں مدد کرتی ہے کہ مسیحا کب آئے گا اور اُس کے ظہور کے وقت کون کون سے واقعا ت رونما ہوں گے۔

پیشین گوئی 490 سالوں کو تین چھوٹی اکائیوں: پہلی 49 سال، دوسری 434 سال اور تیسری 7 سال میں تقسیم کرتی ہے ۔ 7 سال کے آخری "ہفتہ" کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 25 آیت فرماتی ہے کہ "یروشلیم کی بحالی اور تعمیر کا حکم صادِر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے" ۔ سات سات سالوں پر مشتمل "سات ہفتے " 49 سال ہیں اور باسٹھ "ہفتے " مزید 434 سال ہیں:

49 سال + 434 سال = 483 سال

70 ہفتوں کا مقصد

یہ پیشین گوئی ایک بیان پر مشتمل ہے جس کا تعلق اِن واقعات کوسر انجام دینے میں خدا کے چھ پہلوؤں کے حامل مقصد کیساتھ ہے ۔ 24 آیت فرماتی ہے کہ یہ چھ مقاصد کچھ یوں ہیں :1) "خطاکاری اور " 2) "گناہ کا خاتمہ ہو جائے " 3) "بدکرداری کا کفارہ دیا جائے " 4) "ابدی راستبازی قائم ہو " 5) "رویا و نبوت پر مہر ہو " اور 6) " پاکترین مقام ممسوح کیا جائے " ۔

غور کریں کہ یہ نتائج گناہ کے مکمل خاتمے اور راستبازی کے قائم کئے جانے سے تعلق رکھتے ہیں۔70 ہفتوں کی پیشین گوئی اُن باتوں کا خلاصہ پیش کرتی ہے جو یسوع کی طرف سے اُسکی ہزار سالہ بادشاہی کو قائم کرنے سے پہلے رونما ہونگے۔نتائج کی اس فہرست میں سے تیسرانتیجہ خاص غور طلب ہے کہ

" بدکرداری کا کفارہ دیا جائے "۔ اپنی صلیبی موت کے وسیلہ سے یسوع نے گناہ کے کفارے کی تکمیل کی ہے (رومیوں 3باب 25آیت؛ عبرانیوں 2 باب 17آیت)۔ 70 ہفتوں کی تکمیل

جبرائیل نے کہا کہ پیشین گوئی کی گھڑی اس وقت شروع ہوگی جب یروشلیم کی تعمیر نو کا حکم جاری کیا جائے گا۔ اس فرمان کی تاریخ سے مسیح کے زمانے تک 483 سال ہوں گے۔ ہمیں تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ " یروشلیم کی بحالی اور تعمیر " کا حکم فارس بادشاہ ارتخششتا نے 444قبل از مسیح میں دیا تھا (دیکھیں نحمیاہ 2باب 1-8آیات)۔

49 سالوں کی پہلی اکائی (سات "ہفتے ") اس وقت کا احاطہ کرتی ہے جو یروشلیم کی تعمیرِ نو میں لگا تھاجب " پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مصیبت کے ایّام میں" (دانی ایل 9باب 25آیت)۔ یہ تعمیر ِنو نحمیاہ کی کتاب میں قلمبند ہے۔

قدیم یہودیوں کے استعمال کردہ 360 دن پر مشتمل سال کوشمسی سالوں میں تبدیل کریں تو ہمارے شمسی کیلنڈر کے مطابق 483 سال 476 سال بنتے ہیں۔ قبل از مسیح سے بعد از مسیح میں منتقل ہونے کے لیے 444 بعد از مسیح سے آئندہ 476سال ہمیں 33 بعد از مسیح میں لے آتے ہیں جو کہ یروشلیم میں یسوع کے شاہانہ داخلے سے مطابقت رکھے گا (متی 21باب 1-9آیات)۔ دانی ایل 9باب کی پیشین گوئی واضح کرتی ہے کہ 483 سال پورے ہونے کے بعد" ممسُوح قتل کِیا جائے گا " (26آیت)۔ یہ پیشین گوئی اُس وقت پورا ہوئی جب یسوع کو مصلوب کیا گیا۔

دانی ایل 9باب 26آیت ایک پیشین گوئی کے ساتھ جاری رہتی ہے کہ ممسُوح کے قتل کئے جانے کے بعد" ایک بادشاہ آئے گا جس کے لوگ شہر اور مَقدِس کو مسمار کریں گے ۔ یہ پیشین گوئی 70 بعد از مسیح میں یروشلیم کی تباہی کے ساتھ پوری ہوئی ۔ جو " بادشاہ آئے گا " وہ مخالف مسیح کی طرف اشارہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اُس بادشاہ کا کسی طرح روم سے تعلق ہوگاکیونکہ یہ رومی لوگ ہی تھے جنہوں نے یروشلیم کو تباہ کیا تھا۔

70 ہفتوں کا آخری ہفتہ

70 "ہفتوں میں سے 69ہفتوں کی تاریخ تکمیل پا چکی ہے ۔ اس طرح ابھی ایک اور "ہفتے " کا پورا ہونا باقی ہے۔ زیادہ تر عالمین کا خیال ہے کہ اب ہم انہتر ویں ہفتے اور ستر ویں ہفتے کے درمیانی بڑے وقفے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ پیشین گوئی کی گھڑی کو روک دیا گیا ہے جیسا کہ اسے پہلے بھی روک دیا گیا تھا ۔ دانی ایل کی پیشین گوئی کا آخری "ہفتہ " وہ عرصہ ہے جسے ہم عام طور پر بڑی مصیبت کا دور کہتے ہیں۔

دانی ایل کی پیشین گوئی مخالف ِ مسیح جو"بادشاہ آئے گا" کے کچھ افعال کو عیاں کرتی ہے۔27 آیت کہتی ہےکہ " وہ ایک ہفتہ کے لئے بہتوں سے عہد قائِم کرے گا"۔ تاہم " نصف ہفتہ " میں ہیکل میں " اُجاڑنے والی مکروہات رکھّی جائیں گی ۔ یسوع نے متی 24باب 15آیت میں اِس واقعہ کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ مخالفِ مسیح کے اسرائیل کے ساتھ عہد کو توڑنے کے بعد"بڑی مصیبت" کے دور کا آغاز ہو گا (متی 24باب 21آیت)۔

دانی ایل یہ بھی پیشین گوئی کرتا ہے کہ مخالفِ مسیح عدالت کا سامنا کرے گا۔ وہ صرف اُس وقت تک حکمرانی کرے گا جب تک کہ " وہ بلا جو مقرر کی گئی ہے اُس اُجاڑنے والے پر واقع (نہ ) ہو گی " (دانی 9باب 27آیت)۔ خدا برائی کو صرف اتنی ہی اجازت دےگا اور مخالف ِ مسیح اُس عدالت کا سامنا کرے گا جو پہلے ہی سے طے ہو چکی ہے ۔

نتیجہ

70 ہفتوں کی پیشین گوئی پیچیدہ اور حیرت انگیز طور پر تفصیلی ہے اور اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ بلاشبہ اس کی مختلف تشریحات پائی جاتی ہیں لیکن یہاں ہم نے جو تشریح پیش کی ہے وہ نظریہ ادواریت اورنظریہ پری ملینیل ازم پر مشتمل ہے۔ ایک بات یقینی ہےکہ وقت کے لحاظ سے خدا کی اپنی ترتیب ہے اور وہ چیزوں کو اپنے خاص اوقات کار کے مطابق رکھتا ہے۔ وہ "ابتدا ہی سے انجام کی خبر " رکھتا ہے (یسعیاہ 46باب 10آیات) ، اور ہمیں اپنے خداوند کی فاتحانہ واپسی کے ہمیشہ منتظر رہنا چاہیے (مکاشفہ 22باب 7آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

دانی ایل کی پیشین گوئی میں درج ستر(70) ہفتے کیا ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries